دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 8 | فتاوی رضویہ جلد ۸

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۸

(٥) اس فتوے میں جو کچھ لکھا حرف بحرف صحیح ہے سوائے اس لفظ کے کہ “ افضل ترك است “ اس کی جگہ یوں چاہئے  التزامش نہ شاید گا ہے ترك ہم کنند تا عوام گمان وجوب وامتنان ؟ (اس کا الترام نہیں کرنا چاہئے کبھی اسے ترك کردیں تاکہ عوام کو وجوب یا سنت ہونے کا وہم نہ ہو ، ت) فقد صرح العلماء الکرام ان الترك احیانا یزیل الایھام ( علماء کرام نے تصریح کی ہے کہ بعض اوقات ترك کردینا عوام کے وہم کو زائل کردیتا ہے ۔ ت) واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی  اعلم

مسئلہ١٣٧٧ :     از ضلع ڈھاکہ ڈاکخانہ نہروی مدرسہ حافظ پور مخلص الرحمان

بخدمت شریف جناب مولانہ مولوی احمد رضا خاں صاحب دام ظلہ ، السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ ، ، عرض یہ ہے کہ ہمارے ملك بنگالہ میں ایسی بستیاں ہوا کرتی ہیں کہ ہر ایك میں متعدد  پارہ یعنی حصے ہوتے ہیں اور ہر ایك پارہ جُدا جُدا نام سے موسوم ہے ، ایك پارہ سے دوسرے پارہ علیحدہ اور اس قدر فاصلہ سے بسا ہے کہ گویا قریہ صغیرہ مستقلہ کے درمیان مواضع منفصلہ میں مزارع اور میدان اور کہیں کہیں  بانس اور دیگر ادنٰی  جنگل ہوا کرتے ہیں موسم برسات میں ایك پارہ سے دوسرے پارہ میں جانے کے لئے کشتی کی ضرورت کم ہوتی ہے مگر جوتی پہن کر نہیں جاسکتے کہیں کہیں درمیانی فاصلہ میں زانوں تك پانی ہوتا ہے اور اکثر جگہ میں اس سے کچھ کم ایك پارہ سے دوسرے پارہ میں جانے کےلئے سوائے کھیتوں کی حدبندی اور چھوٹے چھوٹے راستوں کے اور کوئی بڑا راستہ نہیں ہے یعنی دو آدمی محاذی ہو کر ایسے راستہ سے چلنا دشوار ہے ہاں کہیں کہیں مواشی کے چلنے کے لئے “ گوپاٹ “ یعنی کچھ زمین افتادہ مثل بڑے راستے کے فراخ چھوٹی ہوئی ہے وہ بھی مثل سڑك کے اونچے نہیں ، ہر ایك پارہ کے ابنیہ بھی متصل نہیں بالکل غیر منظم حالت پر ہیں ، ان پاروں کاایك بڑا نام ہواکرتا ہے جس سے وہ خط وکتابت وتمسك وقبالہ وگورنمنٹی کاغذات میں مشہور ہوتا ہے اکثر ان گاؤں میں ڈاکخانہ ہے نہ تھانہ وسکك واسواق ، روزانہ بالکل نہیں ہاں ہفتہ میں دو ایك مرتبہ بعض گاؤں کے کنارے میں بازار (ہاٹ) لگتا ہے جس میں لوگ اشیائے خوردنی بیچتے اور خریدتے ہیں مگر بازار کے معین وقت کے سوا وہاں شاذو نادر ہی کچھ ملتا ہے مگر ایسے دکان دو ایك سے زیادہ نہیں ہوتا ، ایسے گاؤں کے پاروں میں نماز جمعہ کے لئے مسجدیں بنی ہیں ان مسجدوں میں جو نہایت بڑی ہوتی ہے اس میں بمشکل چالیس آدمی سما سکتے ہیں ، ہر ایك گاؤں یعنی( مجموعہ چندپاروں میں ) دو ڈھائی ہزار لوگ ہند ومسلمان بستے ہیں اس تعداد میں بالغ نابالغ مردو زن سب شامل ہیں ، الحاصل سوائے کثرت مردم کے شہر محکمے کی دوسری کوئی علامت ان پاروں میں نہیں ہے ، نماز پنجگانہ کی جماعت نہیں ہوتی ، اتفاقیہ دو چار آدمی کہیں جمع ہوتے ہیں تو جماعت پڑھتے ہیں ورنہ کچھ جماعت راتبہ نہیں اب سوال یہ ہے کہ ایسے گاؤں میں نماز جمعہ پڑھنی مطابق مذہب حنفی کے درست ہے یانہیں ، بر تقدیر ثانی پڑھنے والے گنہگار ہوں گے یا نہیں ، ایسے گاؤں کو جو متعدد پار ہائے منفصلہ سے بنا ہے اور جس میں دو ڈھائی ہزار لوگ بستے ہیں قریہ کبیرہ کہہ سکتے ہیں یانہیں ؟ بینوا توجروا عند اﷲ اجرا حسنا۔ زیادہ والسلام

الجواب :

صورت مذکور میں وہ چھوٹے پارے اور ان کا مجموعہ سب گاؤں ہیں اور ان میں جمعہ ناجائز ہے اور پڑھنا گناہ ۔ درمختار میں ہے :

صلٰوۃ العید فی القری تکرہ تحریما ای لانہ اشتغال بمالا یصح[1] ۔

دیہاتوں میں نماز عید مکروہ تحریمی ہے کیونکہ یہ ایسے کام میں مشغول ہونا ہے جودرست ہی نہیں ۔ (ت)

اور اگراس کے سبب ظہر ترك کریں گے تو تارك فرض ہوں گے اور ظہر احتیاطًا تنہا پڑھی تو تارك واجب ہوں گے بہر حال متعدد گناہ ان پر لازم ہیں باینہمہ جہاں لوگ پڑھتے ہوں انھیں نہ روکا جائے کما افادہ فی الدرالمختار فی الصلٰوۃ عند الشروق [2](جیسا کہ در مختار میں طلوع آفتاب کے وقت نماز ، کے بارے میں بیان کیا ہے ۔ ت) اور خود ہر گز نہ پڑھیں ، نہ نئی جگہ قائم کریں گناہ سے بچنا لازم ہے اور پاروں کے مجموعے کو اگر چہ مجموعی طور پر قریہ کبیرہ کہہ سکیں مگر قریہ کبیرہ بمعنی بلدہ صغیرہ ہر گز نہیں جس میں جمعہ جائز ہوسکے واﷲ تعالٰی  اعلم

مسئلہ ١٣٧٨ تا١٣٨١ : از قصبہ جہاں آماد خاص ضلع پیلی بھیت مرسلہ عاشق حسین بخشی قصبۂ مذکور مورخہ ٧ذی الحجۃ الحرام١٣٣٨ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع مسائل ذیل میں :

(١) جمعہ کے خطبوں میں عربی عبارت پڑھ کر بعد کو ترجمہ اردو زبان میں محض بہ نیت آگاہی قوم امام جمعہ پڑھے تو کیا نقص یا فضل ہے؟

(٢) خطبہ دراز  یاقراءت طویل کا پڑھنا کوئی فضل رکھتا ہے یا نقصان؟

(٣) قبل اور بعد جمعہ سنتوں میں سنت رسول اﷲ کہنا کوئی نقصان ہے؟

(٤) مکرر الوداع شریف کوئی عمل شرعی میں نقص رکھتا ہے اوریہ عمل درست ہے یا نا درست ؟ بشریعت بینوا توجروا

الجواب :

(١) خطبہ میں عربی کے سوا دوسری زبان ملانا مکروہ وخلاف سنت ہے واﷲ تعالٰی  اعلم۔

(٢) قراءت بقدر سنت سے زائد نہ ہو اور اتنی زیادت کہ کسی مقتدی کو ثقیل ہو حرام ہے ، اور خطبہ كی نسبت ارشاد فرمایا کہ آدمی کی فقاہت کی یہ نشانی ہے کہ اسکا خطبہ کوتاہ ہو اور نماز متوسط زیادہ   طویل خطبہ خلاف سنت ہے واﷲ تعالٰی  اعلم۔

(٣) سنتیں جمعہ کی ہوں یا اور وقت کی ، ان کی سنتوں میں نام اقدس کی طرف اضافت کہ حضور کی سنت ہے اس میں کوئی حرج نہیں اس سے وہابیہ منع کرتے ہیں جو نام اقدس سے جلتے ہیں ، واﷲ تعالٰی  اعلم

 



[1]    درمختار باب العیدین مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ /  ١١٤

[2]    در مختار کتاب الصلوۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ /  ۶۱

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن