30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ١٣٧٠ : مرسلہ جناب جد الحسین از فرید پور مورخہ ٢٢ جمادی الآخرہ١٣٣٨ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسائل ذیل میں معہ چند اشخاص اپنے محلے کی مسجد کوچھوڑ کردوسرے محلہ کی مسجد جاکر نمازِ جمعہ کو ادا کرنا باوجود اس کے کوئی طریقہ فضیلت نہیں رکھتی ہے نہ مسجد بڑی نہ جماعت کثیر نہ امام افقہ ، ہاں اتنا ہے کہ دوسرے محلہ کی مسجدربع میل اور اپنے محلہ کی مسجد ثلث میل فاصلہ پر ہے جائز یا نہیں ؟ اور ان لوگوں کے جانے کی وجہ سے اپنے محلہ کی مسجد میں جماعت کم ہوتی ہے اکنوں ان لوگوں کو منع کیا جاسکتا ہے یا نہیں ؟ اور برتقدیر منع نہ کرنے کے ان لوگوں کے ساتھ اور لوگوں کے بھی جانے کا احتما ل ہے اور بصورت جائز ہونے کے کون سی مسجد میں افضل ہے ؟ بینواتوجروا
الجواب :
جمعہ مسجد جامع میں افضل ہے ، مسجد محلہ کا حق نماز پنجگانہ میں ہے ، جب ہو جامع نہیں اور دوسری جگہ جانے میں ان کو آسانی ہے تو ممانعت کی کوئی وجہ نہیں ۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ١٣٧١ : از شہر ر وہیلی ٹولہ مسئولہ طالب علم بنگالی ٢٣ شعبان١٣٣٨ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جس گاؤں میں تعریف شہر کی صادق آئے مثلا بڑی سے بڑی مسجد میں اس کے اہل نہ جمع ہوسکیں اور گلیاں اور بازار ہوں اور اس میں چند مولوی ہوں مسئلہ دین کا جاری کرتے ہوں اور قاضی ہوکر انصاف مظلوم کاکرتے ہوں اُس گاؤں کے متصل اور گاؤں بھی ہے ایسے گاؤں میں جمعہ جائز ہے یا نہیں ؟
الجواب :
گاؤں متصل ہونے سے کچھ نہیں ہوتا بلکہ دیہات اس کے متعلق ہوں یہ ضلع یا پرگنہ ہو اپنے اپنے طور پر فیصلہ کرنے سے شہر نہیں ہوجاتا بلکہ والیِ ملك یا اس کا مقرر کردہ حاکم ہو ، اگر یہ دونوں باتیں ہیں تو اس میں جمعہ جائز و صحیح ہے ورنہ باطل وناجائز ۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ١٣٧٢تا١٣٧٦ : مسئولہ مکرم احمد اﷲ صاحب صدر بازار ہردوئی
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسائل ذیل میں :
(١) جمعہ الوداع رمضان المبارك کو نبی کریم احمد مجتبٰی محمد مصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے خطبۃ الوداع پڑھا ہے یانہیں ؟
(٢) اگرحضور محمد رسول اﷲ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے نہیں پڑھا ہے تو سب سے پہلے خطبہ الوداع کس نے پڑھا ہے اور اس کا موجد ومخترع کون ہے صحابہ کرام رضوان اﷲ علیہم اجمعین یا ائمہ مجتہدین فقہاء ومحدثین رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی ۔
(٣) شریعت مقدسہ مطہرہ منورہ محمدیہ حنفیہ اہلسنت وجماعت میں خطبہ الوداع کا کیا درجہ ہے فرض ، واجب ، سنت ، مستحب ، مباح؟ صاف صاف مدلل تحریر فرمائیں ۔
(٤) جس جمعہ الوداع کو خطبہ الوداع نہ پڑھا جائے وہ جمعہ صحیح ہوگا یا نہیں ؟ اور تارك خطبۃ الوداع کس درجہ کا خاطی وگنہگار ہے ، قابل ملامت وزجر ہے یا نہیں ؟ ملامت وزجر کرنے والے توگنہگار نہ ہوں گے؟ امامت اس کی جائز ہے یا نا جائز؟
(٥) کتاب شبیہ الانسان کے ص ۲٤٤ میں لکھا ہے :
اما خواند کلماتِ حسرت وافسوس درخطبہء آخر رمضان مباح است فاما ازسلف منقول نیست وافضل ترك ست تا عوام راگمان وجوب و سنتش نگردد دریں شرط ست کہ روایت دروغ وبہتان برسول مقبول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم دراں نباشد والاحرام ہمچنانکہ این ست ؎
رمضان کے آخری جمعہ میں حسرت وافسوس کے کلمات پڑھنا مباح ہے لیکن اسلاف سے منقول نہیں ، ترك افضل ہے تاکہ عوام اسے واجب یاسنت نہ بنالیں ، شرط یہ ہے کہ اس میں رسالتمآب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی نسبت جھوٹ شامل نہ ہو ورنہ حرام ہے اور وہ یہ ہے
اکثر محمد مصطفی محبوب ومطلوبِ خدا خدا کے محبوب ومطلوب محمد عربی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
گفتے دریں حسرتا ای ماہ رمضان الوداع حسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہتے اے ماہِ رمضان ! الوداع۔ (ت)
یہ فتوٰی مفتی سعد اﷲ نامی کسی بزرگ کا ہے جو١٢٩٦ھ میں مطبع نولکشور کا نپور میں چھپا ہے جناب اس فتوٰی کے متعلق کیا فرماتے ہیں آیا صحیح قابلِ عمل ہے یا واجب الرد؟ جو کچھ ہو صاف تحریر فرمائے ، بینوا توجروا
الجواب :
(١) الوداع جس طرح رائج ہے حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے ثابت نہیں ۔
(٢) نہ صحابہ کرام ومجتہدین عظام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم سے نہ اس کا موجد معلوم ،
(٣) وہ اپنی حد ذات میں مباح ہے ہر مباح نیتِ حسن سے مستحب ہوجاتا ہے اور عروض وعوارض خلاف سے مکروہ سے حرام تک۔
(٤) جمعہ کے لئے خطبہ شرط ہے خاص خطبہ الوداع کوئی چیز نہیں ان کے ترك سے نماز پر کچھ اثر نہیں پڑسکتا اس کے ترك میں کچھ خلل نہیں ، نہ تارك پر نہ زجروملامت روا جبکہ ترك بر بنائے وہابیت نہ ہو ، ہاں اگر وہابیت ہے تو وہابی کے پیچھے نماز بیشك ناجائز محض باطل اور وہ زجر و ملامت سے بھی سخت ترکا مستحق ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع