دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 8 | فتاوی رضویہ جلد ۸

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۸

اور حدیث صحیح :

کفا بالمرء کذابا ان یحدث بکل ماسمع[1] رواہ مسلم وغیرہ۔

کسی آدمی کے جھوٹا ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ سنی سنائی بیان کردیتا ہے ، اسے مسلم وغیرہ نے روایت کیا۔ (ت)

آیت کا ارشادیہ ہے کہ غیر ثقہ کی خبر خوب كی تحقیق کرلو کہیں کسی کو جہالت سے آزاردے بیھٹو پھر اپنے کئے پر پچھتاتے ہو ، اور حدیث اول کا کہ اپنے اموات کو خیر ہی سے یاد کرو اور دوم یہ کہ آدمی کے جھوٹا ہونے کو یہ بہت ہے کہ جو کچھ سنے اس پر اعتبار کرکے لوگوں سے بیان کردے اور اگر اپنی طرف سے کہا تو آفت سخت تر ہے : رسول اﷲ   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم   فرماتے ہیں :

من ذکر امرأ بما لیس فیہ لیعیبہ بہ حبسہ اﷲ فی نارجھنم حتی یاتی بنفاذ ماقال فیہ[2]۔

جو کسی کے عیب لگالے کو وہ بات بیان کرے جو اس میں نہیں اﷲ اسے نار جہنم میں قید کرے گا یہاں تك کہ اپنے کئے کی سند لائے۔

دوسری روایت میں ہے :

کان حقا علی اﷲ ان یذیبہ یوم القیٰمۃ فی النار حتی یاتی بانفاذ ماقال[3] ۔  رواہ طبرانی بسند صحیح عن ابی الدرداء رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔

اﷲ پر حق ہے کہ جب تك اپنی اُس بات کا ثبوت پیش نہ کرے اُسے اتشِ دوذخ میں پگھلائے ، اسے طبرانی نے صحیح سند کے ساتھ ابی درداء   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت کیا۔

اور بفرضِ غلط اگر معاذ اﷲ کوئی بد مذہب ہی خطبہ تصنیف کرے اور وہ صحیح ہو اس میں کوئی بد مذہبی نہ ہو تواس کے پڑھنے سے نماز کیوں ناجائز ہونے لگی۔ یہ دل سے مسئلہ گھڑنا اور شریعتِ مطہرہ پر افتراء کرنا ہے ، ہاں اردو زبان خطبہ میں ملانا نہ چاہئے کہ خلاف سنت متوارثہ ہے یہ دوسری بات ہے اسے عدمِ جوازِ نماز سے کیا علاقہ ، شخص مذکور اگراپنی ان حرکات پر مصر  رہے اور تائب نہ ہو تو اس کے پیچھے نماز نہ چاہئے نہ اس کے ہاتھ پر بیعت ، ویتوب اﷲ علی من تاب ( اﷲ تعالٰی  ہر تو بہ قبول کرنے والے پر کرم فرماتا ہے ، ت) واﷲ تعالٰی  اعلم بالصواب

مسئلہ١٣٦٩ :       از سرکوں تحصیل کھٹیما ڈاك خانہ ٹنك پور مرسلہ ننھّے خاں صاحب    ١٣ جمادی الآخرہ١٣٣٨ھ

جمعہ کی نماز ہر شخص پر فرض ہے سوا اُن کے جن کو رسول اﷲ   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم   نے مستثنی فرمادیا ، مشکوٰۃ شریف صفحہ١١٣ باب وجوب الجمعہ میں طارق ابن شہاب سے مرفوعًا روایت ہے کہ فرمایا رسول اﷲ   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم   نے کہ جمعہ حق ہے اور واجب ہے مگر چار پر ، ۱غلام اور۲عورت اور ۳نابالغ اور ۴بیمار ، یعنی ان چار کے سوا سب پر واجب ہے ، خود کسی کا نوکر ہو یا سودا گر یا کھیتی والا یا مزدورہو ، بعض روایت میں مسافر کا بھی ذکر ہے ، اور اسی کتاب کے اُسی صفحہ میں عبداﷲ بن عمر   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا   سے مرفوعا روایت ہے فرمایا رسول اﷲ   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم   نے کہ باز آئیں لوگ جمعہ کا ناغہ کرنے سے ورنہ اﷲ تعالٰی  ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا پھر وہ منافقوں میں سے ہوجائیں گے یعنی ان کا نام منافقوں کے دفتر میں لکھا جائے گا ، ہاں اتنی قید اور شرط تو حدیث میں آئی ہے کہ جماعت کے ساتھ پڑھو ، سوجماعت کا مسئلہ یہ ہے کہ جب ایك سے زیادہ ہوئے خواہ دو ہوں یا زیادہ ان کو جماعت کہتے ہیں ، چنانچہ مشکوٰۃ شریف باب الجماعۃ وفضلہا ف٣ ابو موسٰی  اشعری سے مرفوعا روایت ہے اور مشکوٰۃ شریف کے باب الجمعہ میں روایت ہے کہ حضرت رسو ل اﷲ   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم   نے فرمایا ہے : جو شخص تین جمعے بلا ضرورت نہ پڑھے تو لکھا جاتا ہے منافق اس کتاب میں جو نہ مٹتی ہے نہ بدلتی ہے ، لہذا نمازِ جمعہ ہر جگہ پڑھنا چاہئے خواہ شہر ہو یا گاؤں ہو یا جنگل ہو یا بَن ہو کیونکہ حدیث شریف میں کوئی خصوصیت نہیں آتی ہے۔ فقط حررہ محمد اشرف خاں عفی عنہ۔

الجواب :

جمعہ بَن میں حرام ہے اور گاؤں میں ناجائز ہے اور عمومات اپنے شروط سے مشروط ہوتے ہیں ، احادیث سے جو جاہلانہ استناد کسی جاہل نے کیا ہے وہ اگر دامنِ ائمہ چھوڑے تو یہی بتائے کہ یہ حدیثیں اس نے شروع میں کیونکر حجت قراردیں ، اﷲ تعالٰی  نے سورہ جمعہ میں یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا [4]( اے ایمان والو) مطلق ارشاد فرمایا ہے  اس میں عورت یا بچے یا غلام یا مریض یا مسافر کسی کا استثنا نہیں تو کیوں نہیں کہتا کہ چار برس کے بچے پر بھی جمعہ فرض ہے وہ احادیث سب خبر آحاد ہیں اور خبرِ احاد موجب ظن ، تو ان سے استدلال کرنا اس کو حرام اور قرآن مجید کے خلاف ہے۔ اﷲ تعالٰی  فرماتا ہے :  اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ [5] ( وہ نہیں اتباع کرتے مگر طن کی ۔ ت)اور فرماتا ہے :  اِنَّ الظَّنَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ شَیْــٴًـاؕ- [6]( بلا شبہہ ظن حق سے بے نیاز نہیں کرسکتا ۔ ت) تو ان پر عمل خصوصًا عموم قرآن مجید کے خلاف کیونکر اس نے حلال کرلیا ، اور یہ بھی اس وقت ہے کہ ان احادیث آحاد کی صحت ثابت کرلے ، ائمہ مجتہدین کا اجتہاد نہ ماننا اور بخاری و مسلم کی تصحیح یا نسائی و دارقطنی کی تعدیل وتخریج پر اعتماد کر نا ظلم شدید وجہل بعید ہے ، کون سی آیت یا حدیث میں آیا ہے کہ بخاری جس حدیث کو صحیح کہہ دیں اسے مانو اور جسے ضعیف کہہ دیں اسے نہ مانو  يا یحٰی  وشعبہ جسے ثقہ کہہ دیں اسے معتمد  جانو اور ضعیف کہہ دیں تو ضعیف جانو ، قرآن و حدیث متواترہ اجماع امت کو حجت بتاتے ہیں ، اور اجماع امت ہے کہ جمعہ کا حکم مطلق وعام نہیں مقید بقیود مشروط بشرائط ہے اور جو اجماع کا خلاف کرتا ہے قرآن عظیم فرماتا ہے :

نُصْلِهٖ جَهَنَّمَؕ-وَ سَآءَتْ مَصِیْرًا۠(۱۱۵) [7] ہم اسے جہنم میں ڈالیں گے وہ بہت بری پھرنے کی جگہ ، واﷲ تعالٰی   اعلم 

 



[1]    صحیح مسلم النہی عن الحدیث بکل ماسمع  مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع کراچی   ١ /  ٨

[2]    معجم اوسط حدیث ٨٩٣١   مکتبۃ المعارف الریاض ٩ /  ٤٣٢

[3]    معجم الاوسط  بحوالہ الطبرانی ا لکبیر باب فی الشہود دارالکتاب بیروت ٤ /  ٢٠١

[4]   القرآن   ٦٢ /  ٩

[5]   القرآن ١٠ /  ٦٦

[6]    القرآن  ١٠ /  ٣٦

[7]    القرآن ٤ /  ١١٥

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن