30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اﷲ تعالٰی نے فرمایا : “ بھلا دیکھو تو جومنع کرتا ہے بندے کو جب وہ نماز پڑھے “ اور اسی آیت کے تحت حضرت امیر المومنین علی کرم اﷲ وجہہ سے بھی ایك روایت ہے واﷲ تعالٰی اعلم (ت)
مسئلہ١٣٦٣ : از کراچی صدر بازار دفتر انجمن جمعيۃ الاحناف مرسلہ ابوالرجا غلام رسول صاحب ٢٨رمضان المبارك ١٣٣٧ھ
جناب تقدس مآب ، مجمع مکارم اخلاق ، منبع محاس اشفاق ، سراپا اخلاق نبوی ، مظہر اسرار مصطفوی۔ سلطان العلماء اہلسنت ، برہان الفضلاء الملۃ ، قدوۃ شیوخ الزمان ، مولٰنا المخدوم ، بحرالعلوم ، اعلٰحضرت ، امام الشریعت والطریقت ، مجدد مائۃ حاضرۃ ، متع اﷲ المسلمین ، بطول بقائہم ودامت علی روس المسترشیدین فیوضاتکم وبرکاتکم ، بعد سلام مسنون واشتیاق روز افزوں آنکہ بحکم شاوروا ( مشورہ طلب کرو۔ ت) حضرت سے التماس ہے ایك عرصہ ہواغربائے اہلسنت کراچی کی صدائے محزون نے تاحال کوئی اثر پیدا نہیں کیا ، جمعہ وعیدین جماعت کی جیسی کچھ تکلیف ہے ناقابل بیان ہے لہذا دعا فرمائے ، اس وقت حضور پرنور وارث سجاد رسالتمآب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ہیں ، اﷲ تعالٰی جناب کی دعا کی برکت سے ہم فقیروں کے لئے جامع اہلسنت پیدا کردے کہ صدر کے مسلمانانِ اہلسنت فریضہ جمعہ ادا کرسکیں ، صدر میں دومسجدیں ہیں ، اس وقت دونوں پر تصرف ایسی طاقتوں کا ہے کہ جن کے نزدیك دینداری اور مذہب معاذ اﷲ جنون ہے یا اہلسنت کی موجودہ مشہور ومتعارف صورت کہ جس پر ہم اور ہمارے شیوخ کرام ہیں والعیاذ باﷲ تعالٰی شر ك وبدعت ہے لہذا جامع احباب ومتعلقین تراویح وفرائض ایك کرایہ کے مکان میں جو وسیع اور قابل انعقاد محافل ہے ادا کرلیا کرتے ہیں جمعہ جاکر ایك مسجد جو صدر سے قریبًا میل بھر کے فاصل پرہو گی یا کم وبیش پہنچ کرادا کرلیتے ہیں لیکن بعض کو یہ مسجد قریب پڑجاتی ہے اور بعض کو دقت ہوتی کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ ایك ایسے مکان میں جو کرایہ کا مکان ہو جمع ہو کر جمعہ وعیدین ادا کرسکتے ہیں جناب مجددیہ سے جو فرمان ہو خواہ ہاں یا نہ ، قوم کو اور میری تسلی ہوجائے گی۔
الجواب :
جناب محترم ذی المجد والکرم اکر اﷲ تعالٰی ، السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ ، ، جمعہ کے لئے شہر کا یا فنائے شہر کے سوا نہ مسجد شرط ہے نہ بنا ، مکان میں بھی ہوسکتا ہے میدان میں بھی ہوسکتا ہے اذن عام درکار ہے ، بدائع امام ملك العلماء میں ہے :
السلطان اذاصلی فی دارہ ان فتح باب دارہ جاز وان لم یاذن للعامۃ لاتجوز[1]۔ ( ملخصًا)
سلطان نے اگر اپنی دار میں نماز جمعہ پڑھی اگر دروازہ کھلا تھا توجائزاور اگر عوام کو شرکت کی اجازت نہ تھی تو جائز نہیں ۔ (ت)
درمختار میں ہے :
یشترط لصحتھا المصر اوفنائہ وھو ماحولہ لاجل مصالحہ کدفن ا لموتی ورکض الخیل[2] (ملخصا) واﷲ تعالٰی اعلم۔
صحتِ جمعہ کے لئے شہر یا فنائے شہر کا ہونا ضروری ہے فنائے مراد شہر کے اردگرد جگہ ہے جو شہر کی ضروریات کے لئے بنائی گئی ہو ، مثلًا قبرستان اور گھڑ دوڑ کے لئے جگہ ۔ واﷲ تعالٰی اعلم (ت)
مسئلہ ١٣٦٤ : از حبیب والا ضلع بجنور تحصیل دھامپور مرسلہ منظور صاحب ١١شوال١٣٣٧ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك بستی ہے جس کی کل آبادی قریب ٩٠٠كے ہے اور اس میں ہر چیز بھی وقت پرنہیں مل سکتیں ، لہذا ایسی بستی میں جمعہ جائز ہے یانہیں ؟ وجوب صلٰوۃ کے لئے کیا کیاشرائط ہيں ؟ مدلل بیان ہوں ۔
الجواب :
جمعہ صرف شہر فنائے شہر میں جائز ہے ورنہ نہیں ۔ شہر وہ بستی ہے جس میں متعدد کوچے دائم بازار ہوں ، اور وہ ضلع یا پرگنہ ہو کہ اس کے متعلق دیہات ہوں اور اس میں فیصلہ مقدمات پر کوئی حاکم مقرر ہو ، وجوبِ جمعہ کی سات شرطیں ہیں :
(١) حریت (٢) ذکورت (٣) عقل (٤) بلوغ (٥) شہر میں اقامت (٦) اتنی صحت کہ حاضرِ جماعت ہو کرپڑھ سکے
(٧) عدم مانع مثل حبس وخوفِ دشمن وباران شدید وغیرہ
ان کی تفاصیل اور بعض استشہاد درمختار وغیرہ میں وقد ادخلنا البصر وقدرۃ المشی فی الصحۃ ( ہم نے صحت میں بینائی اور چلنے کی قدرت کو شامل کیا ہے ) اور اس کے صحیح ہونے کی سات ٧ شرطیں ہیں :
(١) شہر یا فنائے شہر
(٢) سلطانِ اسلام یا اس کا نائب یاماذون یا بضرورت جسے عام مسلمین نے امام جمعہ بنایا ہو ،
(٣) وقت ظہر ختم تك باقی رہنا۔
(٤) خطبہ وقتِ ظہر میں
(٥) قبل نماز کم از کم تین مسلمان مرد عاقلوں کے سامنے خطبہ ہونا۔
(٦) جماعت سے ہونا جس میں کم از کم تین ایسے مرد ہوں ۔
(٧) جمعہ کے اذنِ عام ہونا بلاوجہ شرعی کسی کی روك نہ ہو۔
بیان دلائل سے کتب لبریز ہيں ، واﷲ تعالٰی اعلم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع