30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ١٣٥٩ : از بمنی بنجر ضلع منڈلا مسئولہ عبدالستار صاحب پیلی بھیتی ٣ رجب ١٣٣٧ھ
کیا خطبہ جمعہ کھڑے ہو کر سننا جائز ہے ؟
الجواب :
خطبہ سننے کی حالت میں حرکت منع ہے اور خطبہ بلاضرورت کھڑے ہو کر سننا خلاف سنت ہے ، عوام میں یہ معمول ہے کہ خطیب آخر خطبہ میں ان لفظوں پر پہنچتا ہے ولذکراﷲ تعالٰی اعلٰی تو اس کے سنتے ہی نماز کے لئے کھڑے ہوجاتے ہیں یہ حرام ہے کہ ہنوز ختم نہ ہوا چند الفاظ باقی ہیں اورخطبہ کی حالت میں کوئی عمل حرام ہے واﷲتعالٰی اعلم
مسئلہ ١٣٦٠ : از ریاست فریدکوٹ ضلع فیروز پور پنجاب مطبع سرکاری مرسلہ منشی محمد علی ارم ٦ رجب المرجب ١٣٣٧ھ : کیافر
ماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے ایك مسجد میں جمعہ بامامتِ خود پڑھایا دوسری مسجد میں ایك ضرورت کی وجہ آجانے سے خود مقتدی ہوکر بھی جمعہ پڑھا ، اس کا کیا حکم ہے؟
الجواب :
کوئی حرج نہیں جبکہ امامت پہلے کرچکا ہو فان التنفل بالجمعۃ غیر ممنوع ( جمعہ کو نقل بنانا منع نہیں ۔ ت) واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ١٣٦۱ : از شہر مسئولہ شوکت علی صاحب ١٠ شعبان ١٣٣٧ھ
کیا قول ہے علمائے اہلسنت وجماعت کا اس مسئلہ میں کہ شہر میں بہت جگہ نماز ہوتی ہے تو ہر وہ مسجد جس میں جمعہ ہوتا ہے جامع مسجد ہے اور جامع مسجد کی فضیلت رکھتی ہے یا وہی ایك مسجد جو متصل قلعہ کے جامع مسجد مشہور ہے اور شہر میں بہت جگہ جمعہ ہونے میں کچھ ممانعت تو نہیں ہے اور جمعہ میں کم از کم کَے آدمی ہوں جو نہ ہوسکے اور زیادہ ثواب شہر کس مسجد میں ہے؟
الجواب :
جامع مسجد وہی ایك مسجد ہے شہر میں متعدد جگہ جمع ہونے کی ممانعت نہیں ، جمعہ کے لئے کم سے کم امام کے سواتین آدمی ہوں مگر جمعہ وعیدین کا امام ہر شخص نہیں ہوسکتا وہی ہوگا جو سلطان اسلام ہو یا اس کا نائب یا اس کا ماذون ، اور ان میں کوئی نہ ہو تو بضرورت جسے عام نمازی امامِ جمعہ مقرر کرلیں ، جمعہ کا زیادہ ثواب جامع مسجد میں ہے مگر جبکہ دوسری جگہ کا امام اعلم وافضل ہو ۔ واﷲتعالٰی اعلم
مسئلہ ١٣٦٢ : ازجرودہ ضلع میرٹھ مرسلہ سید الطاف حسین صاحب زمیندار و گورنمنٹ پنشز ١١رمضان المبارك ١٣٣٧ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہماری بستی میں تین مسجدیں ہیں اور تینوں میں پنجوقتہ باجماعت نماز ہوتی ہے آٹھ سات حافظ قرآن ہیں ، دو تین حاجی الحرمین الشرفین ہیں ، دس پندرہ اچھی فارسی اور دوتین کچھ عربی فارسی پڑھے ہوئے ہیں ، ایك صاحب مدرسہ طیبہ دہلی کے سند یافتہ اور تین چار عطائی طبیب ہيں ، ایك شخص آنکھیں بناتا ہے ، ایك قرآن مکتب ہے جس میں دس بارہ طالب علم قرآن شریف حفظ کرتے ہیں ، اس کے علاوہ ایك گورنمنٹی مدرسہ ہے ڈاك خانہ بھی موجود ہے ، پانچ چھ آدمی انگریزی داں ہیں جن میں بی اے اور ایف اے بھی ہیں پندرہ سولہ آدمی گورنمنٹی ملازم ہیں جو دس روپیہ سے تین سوروپیہ تك تنخواہ پاتے ہیں ایك شخص گورنمنٹ سے تیس روپیہ پنشن پاتاہے ، تین چار دکانیں ہیں جن میں ضرورت کی تمامی اشیاء ہمہ وقت دستیاب ہوتی ہيں ، تین چار بزاز ہیں ، دو پنواڑی کی ایك عطاء کی دکان ہے ، تین چار گھر قصابوں کے ہیں ، پانچ چھ پختہ مکانات ہیں ، سات پختہ کنویں بستی میں آبنوشی کے ہیں سوائے گڑ ڑیوں اور چماروں کے ہندو کوئی آباد نہیں ، قربانی وغیرہ آزادی سے ہوتی ہے زمیندار مسلمانوں کی ہے ، بھنگی ، سقہ ، بڑھئی ، لوہار ، حجام وغیرہ پیشہ ور سب آباد ہیں قریبًا بارہ سو١٢٠٠ کی مردم شماری ہے ، ہمیشہ سے جمعہ کی نماز ہوتی رہی ہے جس میں کبھی کبھی تین تین سو آدمیوں کا مجمع ہوجاتا ہے ، اب بعض بعض حضرات معترض ہیں کہ اس بستی میں جمعہ وعیدین کی نماز جائز نہیں اور چند اشخاص نے جمعہ کی نماز ترك بھی کردی ہے ، حالانکہ موجودہ مذکورہ کی موجودگی میں نمازِ جمعہ و عیدین ترك کی جائے یا بدستور پڑھی جائیں ۔
الجواب :
اگر وہ پر گنہ ہے اس کے متعلق دیہات ہیں اور ایسی حالت میں ضرور جانب سلطنت سے کوئی حاکم وہاں فصل خصومات و فیصلہ مقدمات کے لئے ہوتا ہے مثلًا تحصیلدار وغیرہ جب تو وہ شہر ہے اور اس میں ادائے جمعہ وعیدین ضرور لازم ، اور ان کا تارك گنہگار وآثم۔
فقد صدق علیہا حد المصر الصحیح المروی فی ظاھر الروایۃ عن الامام الاعظم
اس پر شہر کی وہ صحیح تعریف صادق آرہی ہے جو ظاہر الروایۃ میں امام اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے
رضی اﷲ تعالٰی عنہ انھا بلدۃ فیھا سکك واسواق ورساتیق وفیھا وال [1] الخ
مروی ہے کہ وہ بڑا شہر جس میں کوچے اور بازار ہوں اور کوئی نہ کوئی والی ہو الخ (ت)
اور اگر وہ پر گنہ نہیں یا وہاں کوئی حاکم فصلِ مقدمات پر مقرر نہیں مگر زمانہ سلطنت اسلام ميں وہ ایسا تھا اور جب سے اس میں جمعہ ہوتا تھا تو اب بھی پڑھا جائے گا۔ صلٰوۃ مسعودی باب ٣٣ میں ہے :
جائے راکہ حکم شہر د ادند بعد ازاں خرابی پذیرد آں حکم شہر باقی ماندتا اگر ایشا نائب سلطان باجمع درانجا نماز آدینہ گزارند روابود [2]۔
وہ جگہ جسے شہر قرار دیا گیا خرابی کے بعد بھی وہ حکم شہر رکھتا ہے اگر نائب سلطان نمازِ جمعہ باجماعت ادا کرے تو اب بھی ادا ہوگا۔ (ت)
اور اگر ی دونوں صورتیں نہیں تو مذہب حنفی میں وہاں جمعہ وعیدین نہیں پھر بھی جبکہ مدت سے قائم ہے اسے اکھاڑا نہ جائے گا ، نہ لوگوں کوا س سے روکے گا مگر شہرت طلب ،
قال اﷲ تعالٰی اَرَءَیْتَ الَّذِیْ یَنْهٰىۙ(۹) عَبْدًا اِذَا صَلّٰىؕ(۱۰) [3] وفیہ عن امیر المؤمنین علی کرم اﷲ وجہہ۔ واﷲ تعالٰی اعلم.
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع