30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الخطبتین دعائیں مانگیں اور میں نے نہ اس وقت منع کیا نہ بعد کو ، اس رسالہ میں بہت اغلاط فاحشہ ہیں اور بہت اکاذیب باطلہ ہیں ، یہاں تك کہ صحیح حوالوں کو جھٹلایا ہے اور خود محض جھوٹا حوالہ کتاب پر گھڑ کردیا ہے ان امور کي تفصیل اور مسئلہ کی تحقیق جمیل ایك رسالہ ہوسکتی ہے مسلمانوں کو سمجھ لینے کواتنا کافی ہے کہ یہ شخص اور اس کے استاذ دیوبندی ہيں گنگو ہی کے شاگرد اور گنگوہی وتھانوی کے مداح ، اوریہ وہ ہیں کہ علماء کرام حرمین شریفین نے بالاتفاق نام بنام ان کے کفرکا فتوٰی دیا اور فرمادیا کہ من شك فی کفرہ وعذابہ فقد کفر جو ان کے کافر ہونے میں شك کرے خود کافر ہے ، نہ کہ وہ جو انھیں عالمِ دین جانے اور چنان وچنیں مانے ، والعیاذ باﷲ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ١٣٥٦ : ہادی حسن خاں از کانپور نئی سڑك ١٥صفر ١٣٣٧ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین وشرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك دیہات ہے جس کی آبادی تقریبًا پانچسو کے ہے اور اس میں ایك ایسی مسجد ہے کہ اگر اس گاؤں کے مکلفین اس میں جمع ہوں تو مسجد پر نہ ہوگی اور اس کے قریب دودو کوس پر کئی قصبے ہیں تو اس گاؤں میں ازروئے مذہب حنفی نمازِ جمعہ وعیدین جائز ہے یا نہیں ؟ بینوا توجروا
الجواب :
باجماع جملہ ائمہ حنفیہ اس میں جمعہ وعیدین باطل ہیں اور پڑھنا گناہ ، تمام متون وشروح وفتاوٰی میں ہے : شرط صحتھا المصر [1]( جمعہ کی صحت کے لئے شہر کا ہونا شرط ہے۔ ت) درمختار میں ہے :
صلٰوۃ العید فی القری تکرۃ تحریما لانہ اشتغال بمالا یصح لان المصر شرط الصحۃ [2]۔
دیہاتوں میں عید کی نماز مکروہ تحریمی ہے کیونکہ یہ ایسے عمل میں مشغول ہونا ہے جو درست نہیں کونکہ اس کی صحت کے لئے شہرکا ہونا شرط ہے ۔ (ت)
خود نہ پڑھیں گے حکم پوچھا جائے گا تو فتوٰی یہ دیں گے جہاں نہیں ہوتے قائم نہ کریں گے باایں ہمہ اگر عوام پڑھتے ہوں منع نہ کریں گے ۔ درمختار :
کرہ تحریما صلٰوۃ مطلقا اونفلا مع شروق الاالعوام فلا یمنعون من فعلھا لانھم یترکونھا والاداء الجائز عند البعض اولی من الترك[3]۔ (ملخصًا)
طلوعِ آفتاب کے وقت ہر نماز مکروہ تحریمی ہے خواہ نفل ہو لیکن عوام کو نماز پڑھنے سے روکا نہیں جائے گا کیونکہ وہ بالکل ترك کردیں گے ، اور جو بعض کے نزدیك جائز ہو اس کا بجالانا ترك سے اولٰی ہوتا ہے (ت)
ردالمحتار میں ہے :
قولہ فلایمنعون افادان المستثنی المنع
قولہ “ فلایمنعون “ واضح کررہا ہے کہ استثنا ،
لاالحکم بعدم الصحۃ عند ناقولہ عندالبعض ای بعض المجتھدین کالامام الشافعی ھنا [4]۔ واﷲ تعالٰی اعلم
منع کا ہے نہ کہ عدم صحت کے حکم کا ہمارے نزدیك ، قولہ عند البعض یعنی بعض مجتہدین مثلا امام شافعی کے نزدیك اس مقام پر جواز کا قول ہے ۔ واﷲ تعالٰی اعلم (ت)
مسئلہ١٣٥٧ : عبدالستار ابن اسمعیل از رنگون ٢ ربیع الاول ١٣٣٧ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جس شہر میں جمعہ کی نماز پڑھا نے والا دیوبندی یا بد عقیدہ اور دوسری کسی مسجد میں بھی جمعہ نہ ہوتا ہو یا تمام مساجد جہاں جمعہ کی نماز ہوتی ہے ان کے امام بد مذہب ہوں تو ایسی صورت میں اہل سنت جمعہ کو ترك کرے یا کوئی اور حکم ہے؟ نیز ایسا ہی عیدین کی نماز کا کیا حکم ہے؟
الجواب :
جب صور ت ایسی ہو تو مسلمانوں پر فرض ہے کہ کسی مسلمان صالح امامت کو اپنا امام مقرر کریں اس کے پیچھے جمعہ و عیدین پڑھیں ، جمعہ قائم کرنے کے لئے اگر کوئی مسجد بنائیں تو اذن عام مسلمین واشتہار کے ساتھ کسی میدان خواہ مکان میں پڑھیں اور اگر اس پر قدرت نہ ہو اور سب مساجد کے امام دیوبندی یا وہابی یا غیرمقلد یا نیچری یا مرزائی وغیر ہم مرتدین ہیں تو فرض ہے کہ ظہر تنہا تنھا پڑھیں ان لوگوں کے پیچھے نماز باطل محض ہے جیسے کسی بت پرست یا آریہ کے پیچھے یہ ترك جمعہ نہ ہوا کہ وہ جو پڑھ رہے ہیں لغو و باطل حرکت ہے نمازہی نہیں ، اور ان کی اقتداء بوجوہ حرام قطعی ہے بلکہ ان کے عقائد پر مطلع ہو کر پھر بھی انھیں قابل امامت جانے تو کافر ہوجائے من شك فی کفرہ وعذابہ فقد کفر ( جس نے اس کے کفر اور عذاب میں شك کیا اس نے کفر کیا ۔ ت) ہاں اگر کہیں ایسا بدمذہب ہو جس پر حکم کفر نہیں جیسے تفضیلیہ ، اور سنی کی امامت نہ مل سکے تو اس کے پیچھے جمعہ و عیدین پڑھ لے ۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ١٣٥٨ : از پنڈول بزرگ ڈاك خانہ رائے پور ضلع مظفر پور مرسلہ نعمت علی صاحب ١٤ربیع الاول شریف ١٣٣٧ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك دوسری بستی میں جمعہ ہوتا ہے لوگ وہاں جاکر جمعہ پڑھتے ہیں اب وباء یعنی ہیضہ وغیرہ آگیا ہو تو ایسی حالت میں اس ہیضہ والی بستی میں جاکر جمعہ پڑھنا جائزہے یا نہیں ؟
الجواب :
اگر یہ جگہ حوالیِ شہر ہے تو دوسری جگہ نہیں اسی کا حصہ ہے ورنہ اگر خود شہر ہے تو بغیر وبا بھی یہیں جمعہ قائم کیا جائے نہ کہ دوسری جگہ پڑھنے جائیں ، اور اگر گاؤں ہے تو ان پر جمعہ نہیں بحالت وباء وہاں نہ جائیں ، واﷲ تعالٰی اعلم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع