30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
داود ولد محمد علی عرف پیر جی پیش امام مسجد دودھیان نصیر آباد مورخہ ٥ جولائی ١٩١٨ ء بروزجمعہ خطبہ پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے اور جب خطبہ اول ختم کر کے دعا کے لئے بیٹھے اُس وقت دو شخصوں نے کھڑے ہو کر سنت پڑھنا شروع کی تب مسمی داود مذکور بالا نے کچھ خطبہ ثانی پڑھ کر فرمایا کہ سنتوں کا خطبہ اول وثانی میں پڑھنا ناجائز ہے اور جب خطبہ میں نام محمد مقتدی سنیں تو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کہنا ناجائز ہے ، آیا یہ مسئلہ جو مسمی داود نے بیان کیا قرآن شریف و حدیث کے مطابق ہے یا نہیں ؟ اور ایسے شخص کی نسبت جو خطبہ میں محمد صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کانام پاك سن کر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کہنا جائزنہ جانتا ہو اس کے حق میں ازروئے شرع شریف میں کیا حکم ہے آیا خارج اسلام ہے یا نہیں ؟ اور مسلمانوں کو ایسے عقیدہ والے شخص کے پیچھے نماز پڑھنا جس کا ذکر اوپر ہوا ہے جائز ہے یا نہیں ؟ شیخ محمد عمر نصیر آباد رسول بخش اوو رسیر ، محمد اکبر خان ، قمرالدین کلر ک۔ نور محمد مستری۔ لعل محمد
الجواب :
اطراف واقطار سے ہمارے معزز اہلسنت بھائی حفظہم اﷲتعالٰی بعض سوالات بعض مسائل فقہیہ کی نسبت بھیجتے ہیں ان سوالوں میں جوقول کسی کانقل کرتے ہیں اسے وہابیت وغیرہ ضلالتوں سے کچھ علاقہ نہیں ہوتا خط میں تحریر فرماتے ہیں کہ یہ شخص چنین وچناں ہے جواب استفتا ءمیں یہاں خط ملحوظ نہیں ہوتا خصوصًا بارہا وہ بات جو اس شخص کی طرف نسبت کی فی نفسہٖ صحیح ہوتی ہے اب اس کی تصحیح کیوں نہ کیجئے ، کہ بات صحیح ہے اور تصحیح کیجئے تو عوام ذہن میں وہابی وغیرہ ضالین کی باتوں کا صحیح ہونا آتا ہے جس سے اندیشہ ہے کہ وہ اس کی اور باتوں کو بھی صحیح یا مشکوك ہی سمجھنے لگیں ، اور یہ ان کے دین کا نقصان ہے ، وہابی ہویا کوئی کافر ، یہودی ، مجوسی ، بت پرست وغیرہم کسی کی سب باتیں جھوٹی نہیں ہوتیں کوئی نہ کوئی بات ہر شخص سچ کہتاہے ، فقہ حنفی تو متعدد اشخاص مثل زمخشری وزاہدی ومطرزی معتزلہ گزرے ہیں ان کے اقوال فروعِ فقہ میں نقل ومسلم ہوتے ہیں اور عقائد میں وہ لوگ گمراہ بددین ہیں یہ نکتہ ہمیشہ ملحوظ رکھنا چاہئے ، بلاشبہ صحیح مذہب یہی ہے کہ دونو ں خطبوں کا سننا فرض ہے اور کسی خطبے کے وقت نہ سنتیں پڑھنے کی اجازت ، نہ اﷲ عزوجل کا نام پاك سن کر عز شانہ وغیرہ نہ حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا نام پاك سن کر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم وغیرہ زبان سے کہنے کی اجازت کہ بحالت خطبہ سلام وکلام مطلقًا حرام ہے ، ہاں دل میں جل جلالہ ، و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کہیں ، درمختار میں ہے :
اذا خرج الامام فلا صلٰوۃ ولاکلام الی تمامھا خلاقضاء فائتۃ لم یسقط الترتیب بینھا و بین الوقتیۃ ، فانھا لاتکرہ سراج وغیرہ لضرورۃ صحۃ الجمعۃ والا لا فیحرم کلام ولو تسبیحا اوامر بمعروف بل یجب علیہ ان یسمع ویسکت [1] ۔ ( ملخصا)
جب امام آجائے تو اب اتمام تك نہ کلام نہ نماز جو فوت شدہ نمازکی قضاء کے علاوہ ہوجبکہ اس میں اور وقتی نماز میں ترتیب ساقط نہ ہوئی ہو ، لہذا قضاء میں کراہت نہیں تاکہ جمعہ صحیح ہو ، سراج وغیرہ ، اور اگر ایسی صورت نہیں توکلام حرام خواہ ایك تسبیح ہی کیونہ ہو ، اسی طرح امر بالمعروف بھی ، بلکہ اس پرلازم ہے کہ خطبہ سنے اور خاموش رہے ۔ (ت)
اسی میں ہے :
ینصت ان قرأ الامام آیۃ ترغیب اوترھیب کذا الخطبۃ فلا یاٰتی بمایفوت الاستماع لو کتابۃ اوردسلام وان صلی الخطیب علی البنی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الااذاقرأ اٰیۃ صلوا علیہ فیصلی علیہ المستمع سرا بنفسہ وینصت بلسانہ عملا بامری صلوا وانصتوا [2]۔ ملخصًا واﷲ تعالٰی اعلم
جب امام کوئی آیت ترغیب یا ترہیب پڑھے تو مقتدی خاموش رہے ، اسی طرح خطبہ کا معاملہ ہے ، پس ایسا کام نہ کرے جس سے سماع فوت ہوتا ہو اگر چہ کتابت ہی کیونہ ہو یا سلام کا جواب دینا ہو اگر چہ خطیب نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم پر درود شریف پڑھ رہا ہو البتہ جب خطیب آیت صلوا علیہ کہے تو سننے والا دل میں آہستہ درود شریف پڑھ لے اور زباں سے خاموش رہے تاکہ دونوں حکموں درود شریف پڑھو اور خاموش رہو پر عمل ہوجائے۔ واﷲ تعالٰی اعلم (ت)
مسئلہ١٣٥٤ : از اودیپور میواڑ راجپوتانہ مہارانا اسکول مرسلہ مولوی وزیر احمد صاحب مدرس ٢٩ذی ا لحجہ ١٣٣٦ھ
جمعہ کے دن جب خطیب خطبہ پڑھتا ہے تو کتاب میں دیکھ کر پڑھتا ہے اور ایك شخص یہاں بے دیکھے کتاب پڑھتا ہے لہذا فرمائیں دونوں میں کس کا عمل موافق سنت ہے؟
الجواب :
دیکھ کر اور زبانی نفس ادائے حکم میں یکساں ہیں مگر زبانی اوفق بالسنۃ ہے واﷲ تعالٰی اعلم ۔
مسئلہ ١٣٥٥ : از بنبی اسٹیشن باندرہ محلہ نواپارہ مسجد مرسلہ محمد جہانگیر صاحب اما م مسجد مذکور ١١ محرم الحرام١٣٣٧ھ
جناب مولاناصاحب حجۃ قاہرہ مجد دمائۃ حاضرہ ، السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکتہ ، گزارش یہ ہے کہ یہ رسالہ آپ کی خدمت میں روانہ کرکے عرض کیا جاتا ہے کہ اس میں آپ کی مہر ہے اور آج کل یہاں دعاء بین الخطبتین میں تنازع ہے تو ہم لوگ اس رسالہ پر آپ کی مہر دیکھ کر عمل کرلیا ہے کیونکہ آپ کی دستخط تحریر ہیں اور چند علمائے ہند نامی کی بھی دستخطیں تحریر ، اس وجہ سے لوگوں نے بے دغدغہ عمل کر لیا ہے تو اسی واسطے آپ کی خدمت میں ارسال کرکے عرض ہے کہ دستخط آپ کے موجود ہيں اور دیگر علمائے ہند نامی گرامی کی تحریر ہے تو عمل کریں یا نہ کریں اور اس رسالہ میں جودلیلیں تحریر ہیں صحیح ہیں یا نہیں ، جیسا آپ تحریر فرمائیں آمنا کیاجائے۔
الجواب :
وعلیکم السلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ ، ، دعابین الخطبتین ہر گز ایسی چیز نہیں ہے جس سے ممانعت پر کچھ بھی زور دیا جائے ایسے مسائل میں تفرقہ اندازی ، فتنہ پردازی ، جدال پسندی ، فریق بندی وہی لوگ کیا کرتے ہیں جواس کے ذریعہ شہرت چاہتے ہیں ، فقیر کی عبارت کہ اس رسالہ میں منقول ہوئی ہے کہ اس میں بہت قطع وبریدہ کمی کی گئی ہے میرا مسلك اس میں ہمیشہ یہ رہا ہے کہ خود میرے سامنے مقتدین دعاکرتے ہیں اور میں کبھی منع نہیں کرتا اور یہی مسلك میرے آبائے کرام اورمحققین اعلام کا رہا ہے رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اجمعین ، خود بنبی میں بھی میں نے جمعہ پڑھایا اور حاضرین نے بین
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع