30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہر وہ جگہ جس پر تعریف صادق آرہی ہو وہ شہر ہے اور وہاں کے رہنے والوں پر جمعہ لازم ہوگا اور اگرتعریف صادق نہ آئے تووہاں جمعہ نہیں ہوگاخواہ وہ قریہ کے نام سے متعارف ہو یا کسی اور نام سے ، تو اب وہ مقام متاخرین کی تعریف کے مطابق حکم مصر میں شرعا ہوگا نہ کہ عرفًا اور یہی احسن ہے ، اورجس پر تعریف مذکور صادق نہ ہو وہ شرعًا شہر ہے نہ عرفًا لفظ قریہ میں شرعًا دو۲ اعتبار ہیں ایك وہ جس کی یہ تعریف کی گئی ، دوسری وہ جس کی یہ تعریف نہ ہوسکے ، پس پہلے میں جمعہ صحیح ہے اور بڑا شہر یا قصبہ ہے اور درسرے میں جمعہ صحیح نہیں اور یہ دیہات ہے اور جنگل کا بھی یہی حکم ہے جیسا کہ اس پر قہستاتی کی عبارت دال ہے کہ قصبات اور بڑے دیہاتوں جن میں بازار ہوں جمعہ فرض ہوتا ہے ، اور بحر میں ہے کہ قریہ اور جنگل میں جمعہ نہیں ہوسکتا
علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ لا جمعۃ ولا تشریق ولاصلٰوۃ فطر ولااضحی الا فی مصر جامع او مدینۃ عظیمۃ ثم قال فلا تجب علی غیر اھل المصر[1] کذا فی الطحطاوی فبینھما عموم وخصوص فثبت بالد لائل المذکورہ فرضیۃ الجمعۃ مخصصۃ بالاجماع فان صلی الجمعۃ اھل قریۃ لایقال لھا مصرشرعا لایسقط الظھر عن ذمتہ وان صلی الظھر فرادی یعصو بکبیرۃ لترك الواجب ای الجماعۃ الظھر باداء جماعۃ النفل وھذا من قباحۃ عظیمۃ ، اعلم ان الجمعۃ جامعۃ للجماعات وفی اداء الظھر بالجماعۃ تفریق الجماعۃ عن الجمعۃ وتقلیلھا فیھا بخلاف اھل القرٰی اذلا جمعۃ علیھم ، ولا یفضی اداء الظھر بالجماعۃ الٰی تفریق الجمعۃ و تقلیلھا فیکون ذلك فی حقھم کسائرالایام فی جواز اداء الظھر بالجماعۃ من غیر کراہۃ مجالس الابرابر فقول من یقول ما الفرق بین الجمعۃ والظھر غیر الخطبتین وصحت الجمعۃ بلاکراھۃ فی کل موضع مثل الظھر سواء کان ذلك الموضع مصرا اوقریۃ اوغیر ہ وتارکھا بلاعذر فاسق و عاص ، مردود وقائلہ ضال مضل
کیونکہ حضرت علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا قول ہے کہ جمعہ ، تکبیرات تشریق ، نماز عیدالفطر اور اضحی مصر جامع یا بڑے شہر کے سوا نہیں ہوسکتیں ، پھر کہا اہل شہر کے علاوہ یہ کسی پر لازم نہیں طحطاوی میں اس طرح ہے ، تو ان دونوں کے درمیان عموم وخصوص کی نسبت ہے تو دلائل مذکورہ سے واضح ہوگیا کہ بالاتفاق فرضیت جمعہ مخصوص ہے تو اگر ایسے اہل دیہات جمعہ قائم کریں جسے شرعًا شہر نہیں کہا جاسکتا تو ان کے ذمّے سے ظہر ساقط نہ ہوگی ، اور اگروہ تنہا ادا کریں گے تو انھوں نے کبیرہ کا اتکاب کیا کیونکہ واجب کا ترك ہوا یہی نوافل جماعت کے ساتھ ادا کرنے کی وجہ سے ظہر کی جماعت ترك کردی اور یہ عظیم قباحت ہے۔ واضح رہے کہ جمعہ تمام جماعتوں کا جامع ہے ، ظہر کو جماعت کے ساتھ ادا کرنا جمعہ کی جماعت کو متفرق اور کم کرنا ہے بخلاف اہل دیہات کے کہ وہاں جمعہ لازم نہیں تو وہاں ظہر کو جماعت کے ساتھ ادا کرنا جمعہ کے لئے تفریق وتقلیل کا سبب نہیں ان کے لئے تو یہ دن جماعت کے ساتھ بلاکراہت ظہر ادا کرنے کے لحاظ سے دیگر دنوں کی طرح ہی ہے مجالس الابرار ، تو وہ شخص جو کہتا ہے کہ جمعہ اور ظہر کے درمیان خطبوں کے علاوہ کوئی فرق نہیں ، جمعہ ہرجگہ ظہرکی طرح ادا ہوجاتا ہے خواہ شہر ہو یا دیہات یا اور کوئی مقام ہو ، اس کا تارك فاسق اور مردود ہے تو ایسے قول کا قائل گمراہ ہے اور گمراہ کرنے والا ہے اور اس کا تعلق مقلدین سے
لیس منا المقلدین وعلی المقلدین اجتناب عن اقوالہ وافعالہ واحتراز عن مصاحبتہ ومخالطتہ واﷲ اعلم وعلمہ احکم کتبہ احقرالوری ابوالفیض محمد حبیب الرحمٰن عفا اﷲ عنہ۔
نہیں ، اس کے اقوال وافعال ، اس کی محبت و مخالطت سے مقلدین کو احتراز کرنا لازم ہے ، اﷲ تعالٰی کا علم کامل واکمل ہے ، کتبہ احقرالوری ابوالفیض محمد گحبیب الرحمٰن عفا اﷲ عنہ ۔ (ت)
الجواب :
الذی یدعي عموم الجمعۃ کل محل ولا یخصہ بمصر ولاقریۃ فقد خالف الاجماع وھو ضلال بلاتزاع وقد اجتمع ائمتنا علی اشتراط المصرلھا وان الاشتغال بہ فی القری تکرہ تحریما لکونہ اشتغالا بمالا یصح کما فی الدر[2] وغیرہ وقد حققنا المسئلۃ فی رسالتنا لوامع البھا وغیر ما موضع من فتاوٰنا واما المصر فالصحیح فی تعریفہ ماھو ظاہر الروایۃ عن امامنا الاعظم رضی اﷲ تعالٰی کما بیناہ فی فتاوٰنا بمالا مزید علیہ واماما لایسع اکبر مساجدہ اھلہ فغیر صحیح عند المحقیقن کما نص علیہ فی الغنیۃ و کفی قاضیا علیہ بالبطلان ان مکۃ والمدینۃ تخرجان علیہ من المصر وتمنع الجمعۃ فیھما لان اتساع مسجدیھما لایوف مؤفۃ من یرد الیھما من الافاق مشاھد مرئی فضلا عن اھلھما خاصۃ۔ واﷲ تعالٰی اعلم
جو شخص یہ دعوٰی کرتا ہے کہ جمعہ ہر مقام پرہوجاتاہے اس کے لئے کسی شہر اور دیہات کی تخصیص نہیں ، وہ بالاتفاق اجماع کے مخالف اورگمراہ ہے ہمارے ائمہ کااس پراتفاق ہے کہ جمعہ کے لئے شہر کا ہونا شرط ہے دیہاتوں میں جمعہ کا قیام مکروہ تحریمی ہے کیونکہ یہ نادرست کام میں مشغول ہونا ہے جیسا کہ درر وغیرہ میں ہے ، اس کی تحقیق ہم نے اپنے رسالہ لوامع البہا اور اپنے فتاوٰی میں متعدد جگہ کی ہے ، شہر کی صحیح تعریف جو امام اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے ظاہر الروایت میں منقول ہے اور ہم نے اپنے فتاوٰی میں اس کی وہ تفصیل دی جس پر اضافہ دشوار ہے ، رہی یہ تعریف کہ “ جس جگہ کی سب سے بڑی سے بڑی مسجد اس کے باشندوں کی گنجائش نہ رکھتی ہو “ محققین علماء کے ہاں درست نہیں ، جیسا کہ اس پر غنیہ میں تصریح ہے اور اس تعریف کے بطلان پر یہی دلیل کافی ہے کہ اس صورت میں مکۃ المکرمہ اور مدینہ طیبہ دونوں ہی شہر نہ ہوں اور ان میں جمعہ کی نماز منع ہو کیونکہ یہ مشاہدہ ہے کہ وہ تو مشرق تا مغرب آنے والے زائرین سے نہیں پر ہوتیں ، چہ جائیکہ وہاں کے لوگوں کے لئے کافی نہ ہوں ، واﷲ تعالٰی اعلم (ت)
مسئلہ ١٣٥٢ : از بنگال
کیا فرماتے ہیں اس مسئلہ میں کہ جمعہ کی اذان ثانی میں مقتدیوں کو بھی مناجات کرنا اور جمعہ و عیدین کے خطبہ کو بسم اﷲ شریف سے شروع کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ بعض لوگ جواز کہتے ہیں عدمِ جواز کی دلیل چاہتے ہیں ۔
الجواب :
اذانِ ثانی کا جواب ا مام دے مقتدیوں کو ہمارے امام کے نزدیك جائز نہیں صاحبین اجازت دیتے ہیں تبیین الحقائق میں اول کو احوط کہا اور نہایہ اور عنایہ میں ثانی کو واضح ، تو عمل اول ہی پر ہے کہ وہی قولِ امام ہے ، اور اگر کوئی ثانی پر عمل کرے تو اس سے بھی نزاع نہ چاہئے کہ تصحیح اُس طرف بھی ہے ابتدائے خطبہ میں بسم اﷲ کہنے کے جواز میں توشك نہیں کہ منع شرعی نہیں مگر آہستہ کہے ، کتابوں میں جس قدر لکھا ہے وہ یہ ہے کہ اعوذ آہستہ پڑھ کر خطبہ شروع کرے کما فی الھندیۃ وغیرھا ( جیسا کہ ہندیہ وغیرہ میں ہے ۔ ت) واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ١٣٥٣ : از نصیر آباد محلہ تیلیان مرسلہ محمد عمر صاحب ٢٦شوال ١٣٣٦ھ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع