30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
غور کیا جائے لیکن ظاہرًاصحرا یا مسجد کبیر کو بہت بڑا قرار دینا اگاہ کررہا ہے کہ دار کا حکم گھروالا ہے تامل ، پھر میں نے حاشیہ مدنی میں جواہر الفتاوٰی سے دیکھا کہ قاضی خاں سے اس بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے فرمایا اس میں اختلاف ہے بعض نے ساٹھ گز کہا ہے بعض نے کہا کہ اگر چالیس گز ہوتو بڑی مسجد ورنہ چھوٹی ، اور یہی مختار ہے اھ حاصل یہ ہے کہ بڑی دار صحرا کی طرح اور چھوٹی دار مسجد کی طرح ہے اگرچہ مختار بڑی مسجد کیلئے چالیس گز ہوناہی ہو۔
اقول : اس سے فقہاء کی تمام عبارات میں تطبیق ہوگئی وﷲالحمد ، کیونکہ بعض نے اس مسئلہ کو مسجدصغیر کے ساتھ مقید کیا ہے جیسے کہ ہمارے
الغرر و النقا یۃ والکافی والبر جندی عن المنصوریۃ عن الامام قاضی خاں وظھیرالدین المرغینانی ، ومنھم من اطلق کالخلاصۃ و جوامع الفقہ کما فی الفتح و المراد واحد فان الصغیر احتراز عن الکبیر جدا ، فعامۃ المساجد فی حکم الصغیر فساغ الاطلاق لمن اطلق بل اوضحہ جدا کلام العلامۃ الشلبی علی التبیین عن الداریۃ عن شیخ الاسلام ان ھذا اعتبار موضع السجود اذاکان فی الصحراء اوفی الجامع الذی لہ حکم الصحراء امافی المسجد فالحد ھوالمسجد اھ فانظر کیف اطلق المسجد واراد بہ مقابل ذلك الکبیر جدا ، وایضا تلتئم کلمات الذخیرۃ فانہ ذکر فی الفصل الرابع من کتاب الصلوٰۃ فی مسئلہ المرور الاصح ان بقاء المسجد فی ذلك کلہ علی السواء الخ ۔ واستشھد علیہ بکلام محمد المطلق فی المساجد ، غیرالمختص قطعًا بما دون اربعین ، ثم اعاد المسئلۃ فی الفصل التاسع فقال ان کان المسجد صغیرا یکرہ فی ای موضع یمر و الی ھذا اشار محمد فی الاصل فذکر ذلك لکلام لمحمد بعینہ فعلم وﷲ الحمد ان المزاد بالمطلق والمقید واحد وھی المساجد کلھا سوی ما یمنع فیہ الفصل بصفین الاقتداء ولاینا فیہ اطلاق من اطلق و قال انما یأثم بالمرور فی موضع السجود کفخر الاسلام وصاحب الھدایۃ والوقایۃ وغیرھم و ذلك لان المساجد
اس متن وغرر ، نقایہ ، بحر ، کافی ، اور برجندی میں منصوریہ سے قاضی خاں اور ظہیر الدین مرغینانی کے حوالے سے کہا اور بعض نے اس کو مطلق رکھا مثلًا خلاصہ اور جامع الفقہ ، جیسا کہ فتح میں ہے اور مراد ایك ہی ہے کیونکہ صغیر ایسی کبیر سے احتراز ہے جو بہت ہی بڑی ہو تو اکثر مساجد صغیر کا حکم رکھتی ہیں تو جس نے مطلق رکھا اس کا اطلاق جائز ہوگیا بلکہ علامہ الشلبی نے تبیین پردرایہ سے شیخ الاسلام کے حوالے سے خوب واضح کیا ہے کہ موضع سجدہ کا اعتبار تب ہوتا ہے جب صحرا ہو یا ایسی جامع مسجد ہو جو حکم صحرا رکھتی ہو رہا دیگر مسجد کا معاملہ تو وہاں یہ حدِ مسجدہی ہے اھ آپ غور کریں انھوں نے مسجد کو مطلق رکھا اور اس سے مراد ایسی مسجد لی جو بہت ہی بڑی کے مقابل ہو ، اور کلماتِ ذخیرہ بھی جمع ہوگئے کیونکہ انھوں نے کتا ب الصلوٰۃ کی فصل رابع میں نمازی کے آگے سے گزرنے کا مسئلہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ اصح یہ ہے کہ مسجد کے تمام مقامات اس میں برابر ہیں الخ اور اس پرا ستشہاد امام محمد کے کلام سے کیا جو مساجد کے معاملہ میں مطلق ہے اور چالیس گز سے کم مسجد کے ساتھ ہر گز مخصوص نہیں ، پھر نویں فصل میں دہرایا اورکہا اگر مسجد چھوٹی ہو تو ہر جگہ سے گزرنا مکروہ ہے اور اسی کی طرف امام محمد نے اصل میں اشارہ فرمایا اور امام محمد کی عبارت بعینہٖ نقل کی ، ﷲالحمد اس سے واضح ہوگیا کہ یہاں مطلق اور مقید دونوں سے مراد ایك ہی ہے اور تمام مساجد کا معاملہ مساوی ہے سوا ان کے جن میں دوصفوں کا فاصلہ اقتداء کے لئے مانع ہے اور مطلق کہنے والے کا اطلاق جس نے یوں کہا ہے
کبقعۃ واحدۃ فالی جدارالقبلۃ کلہ موضع السجود کما قالہ فی شرح الوقایۃ بل اشارالیہ محمد فی الاصل کما فی الذخیرۃ فتحصل وﷲ الحمد ان لاخلاف بینھم وان الممنوع فی المسجدالمرور مطلقا الٰی جدار القبلۃ و فی الجامع الکبیر جدا والصحراء الی موضع نظرالمصلی الخاشع وبہ ظھر ان بحث المحقق فے الفتح وقع مخالفاللمذھب لمااطبقوا علیہ فاغتنمہ فان ھذا التحریر من فیض القدیر فاغتنمہ فان ھذااتحریر من فیض القدیر علی العاجزالفقیر وﷲالحمد حمدا کثیرا طیبا مبارکافیہ [1] اھ ماکتبت علیہ واﷲتعالٰی اعلم
کہ نمازی کے آگے سے جائے سجدہ پر گزرنے والا گنہگار ہوگا ، اس کا یہ اطلاق فخرالاسلام ، صاحب ِہدایہ اور وقاریہ وغیرہ کے منافی نہیں ہے ، یہ اس لئے کہ مساجد ایك ٹکڑا کی مانند ہوتی ہیں پس وہ قبلہ کی دیوار تك تمام کی تمام موضع سجدہ کا حکم رکھتی ہیں جیسا کہ شرح وقایہ میں ہے بلکہ اس کی طرف امام محمد نے اصل میں اشارہ فرمایا جیسا کہ ذخیرہ میں ہے ﷲالحمد واضح ہوگیا کہ ان کے درمیان اختلاف نہیں اور گزرنا مسجد میں دیوار قبلہ تك مطلقًا ممنوع ہے ، اور بہت بڑی جامع مسجد ہو یا صحرا ہو تو پھر خشوع کے ساتھ نماز پڑھنے والے نمازی کی نظر کے پھیلاؤ تك آگے سے گزرنا ممنوع ہے ، اسی سے یہ بھی واضح ہوگیاکہ فتح میں محقق کی بحث مذہب متعلق علیہ کے خلاف ہے ۔ اس تقریر کو غنیمت جان لو کیونکہ اس عاجز فقیر پر رب قدیر کاعطیہ ہے ، اﷲ ہی کے لئے حمد کثیر مبارك اور طیب ہے ، وہ ختم ہوا جو میں نے وہاں لکھا تھا ۔ واﷲتعالٰی اعلم(ت)
مسئلہ۱۱۳۱ : ازشہر محلہ جسولی مسئولہ مولوی غلام جان پنجابی طالب علم مدرسہ اہلسنت وجماعت ١٦ شعبان١٣٣٦ھ
زید نے دس برس ہوئے مسجد کے پیچھے جوزید کا مکان مسجد کے متصل بلاخلا تھا اور مسجد کی بنا سے اس کی بنا جداگانہ تھی اور زمین بھی زید کی اپنی موروثی تھی اُس مکا ن پر زید نے ایك بالاخانہ بنایا اور زید کے نیچے مکان کا چھت مسجد کی چھت کے برابر ہے صرف بالا خانہ مسجد سے اونچا ہے بلکہ بالاخانہ مسجد کے برابر بھی نہیں ہے مسجد کے بائیں جانب طالب علم کے حجرے کے برابر ہے ، ہاں کچھ تھوڑا ساکونا بالاخانے کا مسجد کے کونے کے برابر ہے لیکن زید بالاخانہ بنانے کے بعد دل میں نادم ہوا ، اور چونکہ روپیہ خرچ ہو چکا تھا اس وجہ سے اس نے بالاخانے کو اکھیڑا نہیں لیکن مسجد کی عزت کی وجہ سے زید مع آل وعیال بالاخانہ میں نہیں رہتا نیچے مکان میں رہتا ہے اب اس بالاخانے کو اکھیڑنا چاہے یا نہیں ؟
الجواب :
جبکہ مسجد کی کسی چیز میں تصرف نہ ہو تو اس کا اکھیڑنا کچھ ضرور نہیں ۔ واﷲتعالٰی اعلم
مسئلہ١١٣٢ : ازسیرام پور ضلع ہوگلی مرسلہ محمد عبدالحکیم بیڑی مرچنٹ ٢٩ربیع الآخرشریف ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مسجد قبل سے ہے اور نماز پنجگانہ ہوا کرتی ہے اور متولی مسجد کا سہ منزلہ مکان مسجد کے متصل ہے بعد انتقال متولی کے لوگوں نے مسجد میں نماز پڑھنا چھوڑ دیا اور عزر یہ ہے کہ جس مسجد کے قریب کوئی اونچی عمارت ہو اس مسجد میں نماز نہیں جائز ہے ، لہٰذا لوگوں نے دوسری مسجد متصل پہلی مسجد کے پندرہ قدم کے فاصلہ میں بناتے ہیں اور منع کرنے سے نہیں مانتے حالانکہ اس مسجد کے بنانے سے سابق مسجد کے ویران ہونے کا احتمال ہے لہٰذا حکم خدا و رسول جل و علا و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کیا ہے؟
الجواب :
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع