دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 8 | فتاوی رضویہ جلد ۸

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۸

ہوگیا ہے اور تسبیح و تہلیل پر اجرت لینا جائز نہیں کیونکہ کرایہ واجرت امور مباحہ میں ہوتی ہے نہ کہ امور طاعت ومعصیت میں جیساکہ ابن عابدین شامی ردالمحتار ، عقود الدریۃ اور شفاء العلیل میں اس کی تحقیق کی ہے ۔ واﷲ تعالٰی  اعلم (ت)                                                                

حرام زیراکہ حدود ازصدہا سال مفقود مسدود شدہ است وبر تسبیح وتہلیل اجرت خواند گرفتن روا نیست اجارہ در امور مباحہ باشد نہ درطاعت ومعصیت کما حققہ المولی بن عابدین الشامی فی ردالمحتار والعقود الدریۃ وشفاء العلیل واﷲ تعالٰی اعلم۔

 

مسئلہ ١٣٥١ :       از کلکتہ دھرم تلہ اسٹریٹ مرسلہ مولوی عبدالمطلب صاحب ۳جمادی الآخرہ ۱۳۳۶ھ

حامدا ومصلیا ،  ماقولکم ایھا العلماء الکرام من الاحناف العظام فی ھذہ المسئلۃ ان صلٰوۃ الجمعۃ واجبۃ علی اھل القری ام لا بینوابجواب شاف  توجروا  بثواب واف۔

اﷲ تعالٰی  کی حمد اور حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کی خدمت میں سلام عرض کرتے ہوئے ، حنفی علماء کرام کا اس مسئلہ میں کیا فرمان ہے کہ اہل دیہات پر جمعہ لازم ہے یا نہیں ؟ جواب کافی سے نواز رثوابِ کامل حاصل کریں ۔ (ت)

الجواب :

الجمعۃ علی اھل القری لیست بواجبۃ لقولہ علیہ الصلٰوۃ ف والسلام لا جمعۃ ولاتشریق ولا صلٰوۃ فطر ولااضحی الا فی مصر جامع اوفی مدینۃ عظیمۃ [1] ۔  وفی فتح القدیر ان قولہ تعالٰی

فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ لیس علی اطلاقہ اتفاقا بین الامۃ اذلا یجوز اقامتھا فی البراری اجماعا ولا فی کل قریۃ عندہ فکان خصوص المکان مرادا

جمعہ اہل دیہات پر لازم نہیں کیونکہ نبی اکرم   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم   کا ارشاد ہے : جمعہ تکبیرات تشریق ، عید الفطر ، عید الاضحی کی نماز  صرف جامع شہر یا بہت بڑے شہر میں ہی ہوسکتی ہے ، فتح القدیر میں ہے اﷲ تعالٰی  کا فرمان “ پس تم اﷲ تعالٰی  کے ذکر کی طرف بھاگو “ ائمہ کے ہاں بالاتفاق مطلق نہیں کیونکہ جمعہ کا قیام جنگلوں میں بالاتفاق جائز نہیں اورامام شافعی کے نزدیك دیہات میں جمعہ نہیں ہوسکتا تو یہاں

فیھا اجماعا فقدر الشافعی القریۃ الخاصۃ وقدرنا المصر وھو اولی لحدیث علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ ولو عورض بفعل غیرہ کان علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ مقدما علیہ فکیف ولم یتحقق معارضۃ ماذکرنا ایاہ ولھذا لم ینقل عن الصحابۃ انھم حین فتحوا البلاد اشتغلوا بنصب المنابر و الجمع الافی الامصار دون القری ولوکان النقل ولواحادا[2] ایضا ان الجمعۃ فرضت علی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وھو بمکۃ قبل الھجرۃ [3]  کما اخرجہ الطبرانی عن ابن عباس رضی اﷲتعالٰی عنہ فلم یکن اقامتھا من اجل الکفار فلما ھاجرالنبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ومن ھاجرمعہ من اصحابہ الی المدینۃ لبث رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم فی بنی عمر وبن عوف اربعہ عشر ایام ولم یصل الجمعۃ فھذا دلیل علی عدم الجمعۃ فی القری والا لصلی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الجمعۃ ومع ان البخاری روی فی صحیحہ کان الناس یتنابون وفی روایۃ یتناولون الجمعۃ من منازلھم والعو الی فیأتون فی

بالاتفاق جگہ کہ تخصیص کرنا ہوگی ، امام شافعی نے دیہات کی تحقیق کی اور ہم نے شہر کی ، اور شہر حدیث علی   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کی وجہ سے اولٰی  ہے اور اس کا معاوضہ اگر دوسرے کے عمل سے ہے تو حضرت علی   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کو اس پر تقدیم ہوگی اور یہ تقدیم کیوں نہ ہو کہ ہمارے مـذکور معنی کے خلاف معارضہ ثابت ہی نہیں اسی لئے صحابہ سے یہی منقول ہے کہ جب انھوں نے علاقے فتح کئے تو فقط شہروں میں جامع مسجد اور منبر بنائے نہ کہ دیہاتوں میں ، اور اگر وہ دیہاتوں میں بناتے تو ان کا یہ عمل منقول ہوتا خواہ کوئی ایك ہی روایت ہوتی ، اور یہ بھی مسلم ہے کہ جمعہ حضور علیہ السلام پر مکہ میں قبل از ہجرت فرض ہوا جیساکہ امام طبرانی نے حضرت ابن عباس   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا   سے نقل کیا ہے لیکن وہاں کفار کی وجہ سے آپ نے جمعہ قائم نہ فرمایا جب آپ   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم   اور آپ کے صحابہ نے مدینہ طیبہ ہجرت کی تو رسول اﷲ   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم   چودہ دن تك قبیلہ بنو عمر وبن عوف کے ہاں ٹھہرے رہے مگر آپ نے وہاں جمعہ قائم نہ فرمایا ، یہ دلیل ہے اس پر کہ دیہات میں جمعہ نہیں ورنہ رسول اﷲ   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم   وہاں جمعہ قائم فرماتے اور باوجود یکہ امام بخاری نے صحیح روایت کیا کہ لوگ جمعہ پاتے تھے ، اور ایك روایت میں ہے کہ لوگ اپنے اپنے گھر اور عوالی سے جمعہ کے لئے آتے پس وہ غبار میں آتے تو انھیں غبار پہنچتی

الغبار فیصیبھم الغبار والعرق ویخرج منھم العرق [4]  الحدیث وفی القدوری ولاتصح الجمعۃ الافی مصر جامع اوفی مصلی المصر ولاتجوز فی القری[5]   قال مولنا بحرالعلوم فی ارکانہ تحت قولہ تعالٰی یایھا الذین اٰمنوا اذا نودی للصّلٰوۃ من یوم الجمعۃ فاسعوا الٰی ذکر اﷲ وذروا البیع (ای یحرم البیع ویجب السعی الی الجمعۃ بعد سماع  الندأ) ثم ان البیع قد یطول الکلام فیہ فیفوت الخطبۃ اوالجمعۃ لان التجار یترکون صفقا تھم فی ھذا الزمان ولذامنع من النداء الاول [6] فالبیع والشراء فی المصر ظاہر وقال ایضا فیہ ویکرہ للمریض وغیرہ من المعذورین ان یصلوا الظھر یوم الجمعۃ بجماعۃ ،  والاباس بالجماعۃ للظھر للقروی لان الجمعۃ جامعۃ للجماعت فی المصر [7]۔  فعلم ان شرط المصر لوجوب الجمعۃ مشروع لا نہ جری التوارث من لدن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الی ھذا الاٰن ان لایصلی الجمعۃ             

اور پسینہ آتا ، اور قدوری میں ہے کہ جمعہ کے لئے شہر کی جامع یاشہر کی عیدگاہ کا ہونا ضروری ہے دیہاتوں میں جمعہ جائز نہیں ، مولٰنا بحرالعلوم “ ارکان الاسلام “ میں اﷲ تعالٰی  کے اس ارشاد گرامی “ اے ایمان والو ! جب جمعہ کے دن نماز کے لئے ندادی جائے تو اﷲ کے ذکر کی طرف دوڑ کر آؤ اور بیع ترك کردو “ کے تحت لکھتے ہیں یعنی اذان کے بعد بیع حرام ہے اور جمعہ کی طرف سعی لازم ہے پھر بیع میں



[1]    مصنف ابن ابی شیبہکتاب الصلٰوۃ  مطبوعہ اداراۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ راچی ٢ /  ١٠١

ف : مصنف ابن شیبہ میں یہ حدیث حضرت علی   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے موقوفاً منقول ہے ۔ نذیراحمد

[2]    فتح القدیر باب صلٰوۃ الجمعۃ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ٢ /  ٢٣

[3]    فتح القدیر باب صلٰوۃ الجمعۃ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ٢ /  ٢٣

[4]    صحیح البخاری با ب من این تؤتی الجمعۃ الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ١ /  ١٢٣

[5]    المختصر للقدوری باب صلٰوۃ الجمعۃ  مطبوعہ مطبع مجیدی کانپور ص ٣٩

[6]    رسائل الارکان فصل فی الجمعۃ  مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص١١٨

[7]    رسائل الارکان فصل فی الجمعۃ  مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص١١٨

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن