30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لہذا یہ تدبیر نکالی کہ اس ذکر کے لئے زینہ زیریں تك اتر آئیں اور بقدر امکان مجلس بدل دیں کہ خطبہ پڑھتے پڑھتے نیچے اترنا شرعًا اس کے قطع ہی کے لئے معہود ہے تو عمومًا اجنبی خصوصًا بہ نیت قطع تبدل مجلس و انفصال ذکر کا باعث ہوگا جس طرح تلاوت آیت سجدہ میں ایك شاخ سے دوسری پر جانے کو علماء نے تبدیل مجلس گنا ہے ، اسی ردالمحتار میں ہے :
لعل وجہہ ان الانتقال من غصن الی غصن و التسدیۃ ونحوذلك اعمال اجنبیۃ کثیرۃ یختلف بھا المجلس حکما کا لکلام والا کل الکثیرلما مر من ان لمجلس اوالبیت یختلف حکما بمباشرۃ عمل یعد فی العرف قطعا لما قبلہ ولاشك ان ھذہ الافعال کذلك وان کانت فی المسجد اوالبیت بل یختلف بھا حقیقۃ لان المسجد مکان واحد حکما وبھذہ الافعال المشتملۃ علی الانتقال یختلف
شاید وجہ یہ ہے کہ ایك شاخ سے دوسری شاخ کی طرف منتقل ہونا اور کپڑا بنانے کے لئے تانا لگانا اعمال اجنبی اور کثیرہیں جن کی وجہ سے مجلس حکمًا مختلف ہوجاتی ہے جیسے کثیر کلام اور طعام سے مجلس بدل جاتی ہے جیساکہ پیچھے گزرا کہ مجلس اور گھر ، ہر ایسے کام سے حکمًا تبدیل ہوجاتے ہیں جنھیں عرف میں ماقبل کام کو ختم کرنے والا کہا جاتا ہو اور ان افعال کے ایسا ہونے میں شك ہی نہیں اگر چہ یہ مسجد یا گھر میں سرزد ہوں بلکہ ان میں حقیقۃ تبدیلی آجائے گی کیونکہ مسجد حکمًا ایك جگہ کی طرح ہوتی ہے
حقیقۃ بخلاف الاکل فان الاختلاف فیہ حکمی[1]۔
اور ان افعال جو انتقال پرمشتمل ہیں کی وجہ سے حکمًا مختلف ہوجائے گی بخلاف کھانے کے ، کیونکہ اس میں اختلاف حکمًا ہوگا۔ (ت)
اس میں اس قدر ہوگا کہ بیچ میں خطبہ قطع کرنا ہوا اس محظور کے دفعہ کو ، اس میں کیا محذور جب خود حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے صحیح حدیث شاہزادوں کے لینے کے لئے خطبہ قطع فرماکر نیچے اترنا پھراوپر تشریف لے جانا ثابت تو بعضہم کی بحث اصلا متجر نہ تھی۔ غرض نقل مذکور میں مدعی عدم جواز کے لئے کوئی محل احتجاج نہیں ، جہاں صورت یہ ہو جو فقیر نے ذکر کی وہاں اس نزول وصعود سے یہی نیت کریں اور جب ذکر ومدح سلطان ترك نہ کرسکیں اس مصلح کے ترك کی کوئی وجہ نہیں اور جہاں ایسا نہ ہو جیسا ہمارے بلاد میں وہاں مدح میں الفاظ باطلہ ومخالفہ شرع ذکر کرنا خود حرام خالص ہے ، خصوصًا کذب وشنائع کو عبادت میں ملانا ، تو اس کےلئے یہ نزول عذر نہیں ہوسکتا ، اور جب مخالفات شرع سے پاك تو بہ نیت اظہار مراتب ، جس طرح شیخ مجدد رحمہ اﷲتعالٰی کے مکتوبات میں ہے : نزول وصعود ایك وجہ موجہ رکھتا ہے اس صورت میں اس پر نکیر لازم نہیں ، ہاں عوام سے اندیشۂ اعتقاد سنیت کے سبب علماء کو مناسب کہ گاہ گاہ اس نزول صعود ببلکہ خود ذکر سلطان اعز اﷲ نصرہ کو بھی ترك کریں ورنہ دعائے سلطان اسلام محبوب ومندوب ہے اور اس نیت کے لئے نزول وصعود میں بھی حرج نہیں ، اور بے دلیل شرعی مسلمانوں پر الزام گناہ وارتکاب بدعت شنیعہ باطل مبین ، پس احق بالقبول حکم مجیب ثانی ہے ھذا ماظھر لی ( یہ مجھ پر واضح ہوا ہے ۔ ت) واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم
مسئلہ ١٣٥٠ : از ڈاك خانہ مہر گنج چڑنکی ضلع بریسال مکان منشی عبدالکریم مرسلہ محمدحسین صاحب ۱۷جمادی الاولٰی ۱۳۳۶ھ
یك فریق اسمہ دودمیاں متواطن فورید فوری اندصلوۃ جمعہ را بملك بنگالہ بلکہ ہند را حرام گویند چراینجا شہریست بمصداق قول امام اعظم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ علیہ وینفذ الاحکام ویقیم الحدودایں تعریف نیست مگر اجرت تسبیح وتہلیل وغیر ذلك اخذمی کند ویك جماعت صلوۃ جمعہ رامی خوانند وایں دیار را
ایك فریق جو فورید فوری میں رہائش پذیر ہیں ان کو دودمیاں کہا جاتا ہے ان کے نزدیك بنگالہ بلکہ تمام ہندوستان میں جمعہ حرام ہے کیونکہ یہاں جو شہر ہیں امام اعظم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ علیہ کے قول کہ (وہاں حاکم احکام نافذ کرے اور حدود جاری کرے)کی تعریف پر پورے نہیں اترتے ، حالانکہ شہر گویند بمطابق قول صاحبین وہو قول البعض وہوموضع اذا اجمتع اہلہ فی اکبر مساجدہ لم یسعھم فہو مصر بمصداق ایں کہ ملك بنگالہ وہند را شہر بگویند ونماز مذکور درو ادامی کنند مگر اجرت تسبیح تہلیل را حرام گویند وایں گو یندبمطابق قول امام اعظم حرام است و نزد صاحبین جائزست مگر قول متقدمین را اتباع می کنم ومتاخرین درپائے نشدم علی ہذا القیاس ایں ہرجماعت تنازع می کنند۔
وہ تسبیح وتہلیل پر اجرت لیتے ہیں ایك جماعت________ جمعہ ادا کرتی ہے اور اس علاقہ کو صاحبین کے قول کے مطابق شہر قرار دیتی ہے ، اور بعض کا قول ہے کہ شہر کی اس تعریف “ ہر جگہ جس کی سب سے بڑی مسجد میں وہاں کے تمام لوگ جمع ہوں تو وہ ان کی گنجائش نہ رکھتی ہو “ کے مطابق ملك بنگالہ اور تمام ہندوستان کو شہر کہتے ہیں اور نماز ادا کرتے ہیں تسبیح و تہلیل پر اجرت حرام کہتے ہیں کہ امام اعظم کے قول کے مطابق حرام اور صاحبین کے نزدیك جائز ہے مگرمیں مقتدمین کے قول کی اتباع کرونگا نہ کہ متاخرین کی ، علی ہذالقیاس یہ دونوں جماعتیں آپس میں تنازع کررہی ہیں ۔ (ت)
الجواب :
آنکہ گویند المصر مالا یسع اکبر مساجدہ اھلہ نہ مذہب امام ست نہ قول صاحبین بلکہ روایت نادرہ مرجوحہ است و حاجت باونیست امصار دیار ہند وبنگالہ بلا شبہہ شہر ہائے دارالاسلام ست و جمعہ در انہا فرض وترك اومعصیت شدیدہ و انکار او ضلالت بعیدہ درمذہب امام وسائر ائمہ مامصر آنست کہ کوچہاوبازار ہائے دائمہ داشتہ باشد ومرا ورا روستاہا باشد چنانکہ اورا در اصلاح حال ضلع یا پرگنہ خوانند ودر و حاکمے باشد کہ بہ حشمت و سطوت خود دا دستم زدہ از ستمگراں تواں گرفت اگر چہ نہ گیرد ہمین ست معنی ینفذا لاحکام ویقیم الحدود الا ازہند و بنگالہ چہ گوئی خود حرمین محترمین بیز از مصریت خارج شوند واقامت جمعہ انجا
یہ جو شہر کی تعریف کررہے ہیں کہ وہ مقام جس کی سب سے بڑی مسجد وہاں کے لوگوں کے لئے گنجائش و وسعت نہ رکھتی ہو یہ مذہب امام ہے نہ صاحبین کا قول بلکہ روایت نادرہ مرجوعہ ہے اور اس کی حاجت بھی نہیں ہندوستان اور بنگالہ بلاشبہہ شہر دارالاسلام ہیں ان میں جمعہ فرض ہے اس کاترك سخت گناہ اور اس کا انکار شدید گمراہی ہے ، امام اعظم اورباقی ائمہ کے ہاں شہر وہ ہوتا ہے جس کے کوچے ہوں اور دائمی بازار ہوں اور اس کے لئے دیہات ہوں جنھیں موجودہ اصطلاح میں ضلع یا پرگنہ کہا جاتا ہے اور وہاں کوئی نہ کوئی ایسا حاکم ہو جو اتنے اختیارات رکھتا ہو کہ مظلوم کو ظالم سے انصاف دلاسکے اگر چہ وہ عملًا ایسا نہ کررہا ہو “ وہ احکام کو نافذ کرسکے اور حدود قائم کرسکے “ کایہی معنی ہے ورنہ ہند اور بنگلہ کی کیا بات ہوئی خود حر مین شریفین بھی شہر کی تعریف سے خارج ہوجائیں گے اور وہاں جمعہ حرام ہوگا کیونکہ حدود کا قیام صدیوں سے ختم اور بند
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع