30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سنت ہونے کا اعتقاد نہیں رکھتا یہ اس شخص کی طرح ہے جس نے نہر سے برتن بھرا پھر اس میں واپس ڈال دیا ، تو اس میں کوئی قباحت نہیں سوائے اس کے یہ عمل عبث ہے اس میں کوئی فائدہ نہیں اور یہ مامور بہ وضو میں زائد شیئ ہے پس اسی لئے حدیث میں ایسے کو اسراف کا نام دیا گیا ہے۔ قاموس میں ہے اسراف ، فضول خرچی یا ایسی جگہ خرچ کرنا ہے جو مقام طاعت کے علاوہ ہو ، مامور بہ سے زائد یا مقامِ طاعت کے علاوہ خرچ کرنے سے اس کا حرام ہونا لازم نہیں آتا البتہ اگر کہئے اس میں اندیشہ ہے کہ عوام سنت سمجھ لیں گے
اقول : اوّلًا وہی نقوض ہیں کہ یہ نفس اذکار بھی سنت نہیں تو اندیشہ یہاں بھی حاصل ۔ اور تحقیق یہ ہے کہ اندیشہ مذکورہ نہ فعل کو بدعت قبیحہ شنیعہ کردیتا ہے نہ اس کے ترك کو واجب ، بلکہ جہاں اندیشہ ہو صرف اتنا چاہئے کہ علماء کبھی کبھی اُسے بھی ترك کردیں تاکہ عوام سنت نہ سمجھ لیں ، اسے ناجائز وبدعت قبیحہ ہونے سے کیا علاقہ ! فقیر غفرالمولی القدیر نے اپنی کتاب رشاقۃ الکلام حاشیۃ اذاقۃ الاثام میں اس کی بکثرت تصریحات ائمہ دین علمائے معتمدین حنفیہ وشافعیہ ومالکیہ رحمۃ اﷲ علیھم اجمعین سے نقل کیں ، اسی ردالمحتار میں فتح القدیر سے ہے :
مقتضی الدلیل عدم المداومۃ لاالمداومۃ علی الترك فان لزوم الایھام ینتفی بالترك احیانا اھ اختصار
دلیل کا تقاضا عدمِ مداومت ہے نہ کہ ترك پر مداومت کیونکہ کبھی کبھار ترك سے لازم و واجب ہونے کی نفی ہوجاتی ہے اھ باختصار (ت)
اب نہ رہا مگر ادعائے عبث کہ اس میں کوئی فائدہ نہیں ، اور عبث ہر جگہ مکروہ ہے نہ کہ خود عبادت میں ۔ اس کا جواب الف ثانی کے مکتوبات سے فاضل مجیب دوم سلمہ ، نے بروجہ کافی نقل کردیا جس سے اس کی مصلحت ظاہر ہوگئی اور توہم عبث زائل ہولیا۔
وانا اقول : وباﷲ التوفیق ( اور میں اﷲ تعالٰی کی توفیق سے کہتا ہوں ۔ ت) جن اعصار وامصار میں بعض نے یہ بحث کی وہاں اس فعل پر ایك نکتہ جمیلہ ودقیقہ جلیلہ اصول شرعی سے ناشیئ ہوسکتا ہے جس سے یہ فعل شرعًا نہایت مفید ومہم قرار پاتا اور بحث باحث کا اصلًا پتا نہیں رہتا ہے خطبے میں ذکر سلاطین اگر چہ محدث ہے مگر شعارِ سلطنت قرار پاچکا یہاں تك کہ کسی ملك میں کسی کی سلطنت ہونے کو یوں تعبیر کرتے ہیں کہ وہاں اس کا سکّہ وخطبہ جاری ہے ، سلطنتِ اسلامی میں اگر خطیب ذکر سلطان ترك کرے مورد ِ عتاب ہوگا ، مصر ہو تو گویا باغی اور سلطنت کامنکر ٹھہرے گا اور ایسی حالت میں مباح بلکہ مکروہ بھی بقدر اندیشہ فتنہ موکد بلکہ واجب تك مترقی ہوتا ہے ، اسی ردالمحتارمیں اسی مسئلہ ذکر سلطان میں ہے :
وایضا فان الدعاء للسلطان علی المنابر قد صار الاٰن من شعار السلطنۃ فمن ترکہ یخشی علیہ ولذا قال بعض العلماء لوقیل ان الدعاء لہ واجب لما فی ترکہ
سلطان کے لئے منبر پر دعاکرنا بھی اب سلطنت کے شعار میں سے ہوگیا ہے ، جو اسے ترك کرے گا اس پر نقصان کا خدشہ ہے اس لئے بعض علماء نے فرمایا کہ اس میں کوئی بُعد نہیں اگر یہ کہہ دیا جائے
من الفتۃ غالبا لم یبعد کما قیل بہ فی قیام الناس بعضھم لبعض [1]۔
کہ سلطان کے لئے دعا کرنا واجب ہے کیونکہ اس کے ترك پر غالبًا فتنہ اٹھنے کا اندیشہ ہوتا ہے جیسا کہ بعض لوگوں کے بعض کے لئے قیام کے بارے میں کہا گیا ہے۔ (ت)
اور شك نہیں کہ صدہا سال سے اکثر سلاطین زماں فسّاق ہیں ، اس کا فسق اور کچھ نہ ہو تو حدود شرعیہ یك لخت اٹھا دینا اور خلاف شریعت مطہرہ طرح طرح کے ٹیکس اور جرمانے لگانا کیا تھوڑا ہے ، اسی ردالمحتارآخر کتاب الاشربہ میں سیدی عارف باﷲ عبدالغنی نابلسی قدس سرہ القدسی سے ہے :
قد قالوا من قال سلطان زماننا عادل کفر [2] ۔
علماء نے فرمایا جو ہمارے دور کے سلطان کو عادل کہے گا وہ کافر ہے ۔ (ت)
اورشك نہیں کہ جس طرح وہ خطبہ میں اپنا نام نہ لانے پر ناراض ہوں گے یوں ہی اگر نام بے کلمات مدح وتعظیم لایا جائے تو اس سے زیادہ موجب افروختگی ہوگا اور فاسق کی مدح شرعًا حرام ہے ، حدیث میں رسول اﷲ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں :
اذا مدح الفاسق غضب الرب واھتزلہ العرش [3]۔ رواہ ابن ابی الدنیا فی ذم الغیبۃ وابویعلی فی مسندہ و البیھقی فی شعب الایمان عن انس بن مالك وابن عدی فی الکامل عن ابی ھریرۃ رضی اﷲتعالٰی عنہما۔
جب فاسق کی مدح کی جاتی ہے رب عزوجل غضب فرماتا ہے اور اس کے سبب عرش الہٰی ہل جاتا ہے اسے امام ابن ابی الدنیا نے ذم الغیبۃ ، ابویعلی نے مسند اور بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت انس بن مالك رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے اورا بن عدی نے الکامل میں حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت کیا ہے۔
خطباء جب کہ مجبورًا نہ اس میں مبتلا ہوئے ان بندگان خدا نے چاہا کہ اس ذکر کو خطبے سے علیحدہ بھی کردیں کہ نفس عبادت اسی امر پر مشتمل ہے اور بالکل خطبے سے جدائی بھی نہ معلوم ہو کہ آتشِ فتنہ مشتعل نہ رہے اس کے لئے اگر یوں کرتے کہ خطبہ پڑھتے پڑھتے کچھ دیر خاموش رہتے اس کے بعدذکر سلاطین کرکے بقیہ تمام کرتے تو یہ ہرگز کافی نہ تھا کہ مجلس واحدرہی اور مجلس واحد حسب تصریح کا فہ ائمہ جامع کلمات ہوتی ہے جو کچھ ایك مجلس میں کہا گیا گویا سب الفاظ دفعۃً واحدۃ معًا صادر ہوئے۔
وعن ھذایتم ارتباط الایجاب بالقبول اذا لحقۃ فی المجلس والا فی الایجاب انما کان لفظاصدر فعدم والقبول کم یوجد بعد و اذا وجد لم یکن الایجاب موجودًا و الموجود لایرتبط بالمعدوم کما افادہ فی الھدایۃ وغیرھا۔
اور اس سے ایجاب کا قبول سے ربط تمام ہوگا بشرطیکہ وہ مجلس کے اندر ہی ہو ورنہ جب ایجاب لفظًا صادر ہوا اور ابھی تك قبول معرضِ وجود میں نہیں آیا اور جب وہ معرضِ وجود میں آیا تو ایجاب نہ تھا اور موجود کسی معدوم سے مرتبط نہیں ہوسکتا ، ہدایہ وغیرہ میں ایسے ہی تحریر ہے (ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع