30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
واعتاقہ بعض الائمۃ ینکر [1]
( بعض ائمہ کا اسے آزاد اقراردینا ناپسند ہے ۔ ت)
اس پر علامہ شامی نے اعتراض فرمایا ہے :
مفھوم قول بعض الائمۃ ینکر انہ یجوزہ اکثرھم ولم ینقل ذلك [2] الخ
قولہ “ بعض الائمۃ ینکر “ کا مطلب یہ ہے کہ اکثر نے اس نے اسے جائز قرار دیا ہے الخ (ت)
بلکہ تصریح فرمائی کہ ایسی تعبیر اس قول کی بے اعتمادی پر دلیل ہوتی ہے ، درمختار کتاب الغصب میں تھا :
اختار بعضھم الفتوی علی قول الکرخی فی زماننا [3]۔
ہمارے زمانے میں بعض نے امام کرخی کے قول پرفتوٰی دیا ہے۔ (ت)
شامی نے کہا :
ھذامن کلام الزیلعی اتی بہ لاشعار ھذا التعبیر بعدم اعتمادہ [4] (ملخصًا)
یہ امام زیلعی کا کلام ہے ان کی یہ تعبیر واضح کررہی ہے کہ یہ معتمد نہیں ( ملخصًا) ۔ (ت)
ردالمحتار فصل صفۃ الصلٰوۃ میں تھا :
لوبقی حرف اوکلمۃ فاتمہ حال الانحناء لاباس بہ عند البعض منیۃ المصلی [5]۔
اگر ایك حرف یا کلمہ رہ گیا تھا جو نماز میں جھکنے کی حالت میں پوراگیا تو بعض کے نزدیك اس میں کوئی حرج نہیں ، منیۃ المصلی ۔ (ت)
شامی نے لکھا :
قولہ لاباس بہ عند البعض اشار بھذا الی ان ھذا القول خلاف العتمد [6] الخ
قولہ “ بعض کے نزدیك کوئی حرج نہیں “ اس بات کی طرف اشارہ کررہا ہے کہ یہ قول معتمد کے خلاف ہے الخ (ت)
اس تقریر منیر سے بحمد اﷲ تعالٰی روشن ہوگیا کہ علامہ شامی خواہ امام ابن حجر کی تحریر اس دعوے جزم بحکم عدم جواز کے اصلا مساعد نہیں بلکہ ہے تومخالف ہے ، اب رہی بعض کی بحث ،
اقول : اوّلًا وہ بعض مجہول ہیں اور مجہول الحال کی بحث مجہول الماخذ کیا قابل استناد بھی نہیں ، اسی ردالمحتار کتا ب النکاح باب الولی میں ہے :
قول المعراج رأیت فی موضع الخ لایکفی فی النفل لجہالتہ [7]۔
صاحب معراج کا قول کہ میں نے کسی جگہ پڑھا ہے الخ ان کے عدم علم کی وجہ سے نقل کے لئے کافی نہیں ۔ (ت)
ثانیًا محتمل بلکہ ظاہر کہ وہ بعض ائمہ مجتہدین سے نہیں اور مقلدین صرف کہ کسی طبقہ اجتہاد میں نہ ہوں نہ خود اپنی بحث پر حکم لگا سکتے ہیں ، نہ دوسرے پر ان کی بحث حجت ہو سکتی ہے والا لکان تقلید مقلد وھو باطل اجماعا ( ورنہ یہ مقلد کی تقلید ہوجائے گی اور وہ بالاتفاق باطل ہے ۔ (ت)
ثالثًا اس پر کوئی دلیل ظاہر نہیں ، اگر کہیے حادث ہے اقول مجرد حدوث اصلًا نہ شرعًا دلیل منع ، نہ اس کی حجیت ، علامہ شامی نہ امام ابن حجر نہ ان بعض کسی کو تسلیم ، ردالمحتار میں ہے :
صاحب بدعۃ ای محرمۃ والا فقد تکون
صاحبِ بدعت محرمہ ہوگاورنہ کبھی بدعت واجبہ
واجبۃ کنصب الادلۃ للردعلی اھل الفرق الضالۃ وتعلم لنحو المفھم للکتاب والسنۃ ومندوبۃ کاحداث نحو رباط ومدرسۃ و کل احسان لم یکن فی الصدر الاول ومکروہۃ کزخرفۃ المساجد ومباحۃ کالتوسع بلذیذ المأکل والمشارب الصیاد کمافی شرح جامع الصغیر للمناوی عن تھذیب النوی ومثلہ فی الطریقۃ المحمدیۃ للبرکوی ا[8]۔
ہوتی ہے جیسے کہ گمراہ فرقوں کی گمراہی کا ردکرنے کے لئے دلائل قائم کرنا اور علم نحو کا سیکھنا جو کتاب وسنت کی تفہیم کے لئے ضروری ہے اور کبھی مستحب ہوگی جیسے کہ سرائے اور مدرسہ اور ہر نیکی کا کام جوپہلے دور میں نہ تھا ، اور کبھی مکروہ ہوگی جیسے مساجد کو مزین کرنا ، اور مباح ہوگی جیسے کھانے پینے اور لباس میں وسعت اختیار کرنا جیساکہ امام مناوی نے شرح جامع صغیر میں تہذیب نوی سے بیان کیا ، اور برکوی کی طریقۂ محمدیہ میں بھی اسی طرح ہے۔ (ت)
[1] درمختار کتاب الصید مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۲۶۴
[2] ردالمحتار کتاب الصید مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۵ / ۳۳۹
[3] درمختار کتاب الغصب مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۲۰۶
[4] ردالمحتار کتاب الغصب مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۵ / ۱۳۳
[5] درمختار واذا اراد الشروع فی الصلٰوۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ٧٥
[6] ردالمحتار واذا اراد الشروع فی الصلٰوۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ / ٣٢٤
[7] رد المحتار کتاب النکاح ، باب الولی مطبوعہ مصطفی البابی مصر ٢ / ٣٩
[8] ردالمحتار باب الامامۃ مطلب البدعۃ خمسۃ اقسام مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۱۴
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع