30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ممکن نہ ہو اور مانحن فیہ میں خود ہمارے حنفی مذہب کی کتابوں میں اس زینہ اترنے کو تحریر فرمایا ہے اور اس کی وجہ بھی بیان کی ہے اب یہ زینہ اترنا بدعت کیسے ہوا ، ہاں جو علماء اس کو بدعت قرار دیتے ہیں حنفی مذہب کی اور کتابوں سے اس کا بدعت قبیحہ ہونا ثابت کریں یا کسی کتاب میں یہ لکھا ہو کہ زینہ اترنا حرام اجماعًا ہے یا شارع علیہ السلام نے صراحۃً منع فرمایا ہے جب اس کا منکر ہونا ثابت ہو تو اس سے منع کرنا واجب ہوگا ودونہ خرط القتاد (جبکہ اس کے آگے مضبوط رکاوٹ ہے ۔ ت) اور جو علماء اس زینہ اترنے کو بدعت قبیحہ شنیعہ قول علامہ ابن حجر شافعی سے ثابت کرتے ہیں ان پر یہ بات ضرور ہے کہ اس کا بدعت قبیحہ شنیعہ ہونا ثابت کریں ، مرقاۃ شرح مشکوٰۃ جلد اول صفحہ ۱۷۹میں ہے :
قال الشافعی رحمہ اﷲ تعالٰی ما احدث مما یخالف الکتاب اوالسنۃ اوالاثر اوالاجماع فہو ضلالۃ وما احدث من الخیر مما لا یخالف شیئا من ذلك فلیس بمذموم [1] انتہی۔
یعنی حضرت امام شافعی ( جن کے علامہ ابن حجر مقلد ہیں ) فرماتے ہیں جو ایسی چیز نکالی جائے کہ وہ کتاب اﷲ یا سنتِ رسول اﷲ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم یا اقوال اصحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم یا اجماع امت کے مخالف ہو وہ بدعتِ ضلالت وبدعت قبیحہ شنیعہ ہے اور جو چیز نیکی سے ایسی نکالی جائے کہ وہ اشیائے ار بعہ مذکورہ میں سے کسی چیز کے مخالف نہ ہو وہ ہرگز مذموم نہیں ہے انتہی
بلکہ وہ بدعت حسنہ ہے بالجملہ فعل بدعت غیر مذکور میں جن کے اقسام ثلثہ مشہورہ اعنی واجبہ مندوبہ ومباحہ ہیں ان میں سے ایك میں داخل ہے۔ اب اہل انصاف بغور ملاحظہ فرمائیں کہ زینہ اترنا کون سی قرآن مجید کی آیت کے خلاف ہے یا رسول اﷲ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی کون سی حدیث شریف کے خلاف ہے یا کون سے اقوال صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے خلاف ہے۔ جب ان ادلۂ مذکورہ کے خلاف نہ ہوا تو مطابق فرمانے حضرت امام شافعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ علیہ کے اس کا بدعت قبیحہ ہونا ثابت نہ ہوا اور امام شافعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ علیہ کے اس قول “ وما احدث من الخیر مما لا یخالف شیئا من ذلك فلیس بمذموم “ (جو ایسی نیکی ایجاد کی جائے جو مذکورہ اشیاء ( کتاب اﷲ ، سنت رسول اﷲ ، اقولِ صحابہ اور اجماع اُمت) کے خلاف نہ ہو وہ ہرگز مذموم نہیں ہوتی ۔ ت) میں داخل ہوا اور امام شافعی کے قول کے برخلاف علامہ ابن حجر شافعی کا قول دیکھ کر اس زینہ اترنے کو بدعت قبیحہ شنیعہ کہنا مردود ومطرود ہوگیا ، عاقل منصف کے لئے اشارہ کافی ہے ،
ھذا ما عندی واﷲ اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
یہ میرے نزدیك ہے اور اﷲ سب سے خوب جاننے والا ہے اور اس کا علم اتم اور کامل ہے ۔ (ت) حررہ الفقیر الٰی ربہ القدیم عبدالرحیم عفی عنہ
الحمد ﷲ المنزل القراٰن المبین ÷ علی عارج معارج التقریب المکین صلی اﷲ تعالٰی علیہ والہ وصحبہ اجمعین ÷ الیہ یصعد الکلم الطیب والحمدﷲ رب العلمین ÷
سب تعریف اﷲ کے لئے جس نے قرآن مبین اس ذاتِ اقدس پر نازل فرمایا جو لامکان کی بلندیوں پر فائز ہوئی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وصحبہٖ اجمعین ، اور اسی کی طرف مبارك کلمات بلند ہوئے ہیں ، الحمدﷲ رب العالمین ۔ (ت)
الجواب :
اقول : وباﷲ التوفیق کسی فعلِ مسلمین کو بدعت شنیعہ وناجائز کہنا ایك حکم اﷲ ورسول جل جلالہ و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم پر لگانا ہے اور ایك حکم مسلمانوں پر ۔ اﷲ ورسول جل وعلا و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم پر تو یہ حکم کہ ان کے نزدیك یہ فعل ناروا ہے انھوں نے اس سے منع فرمادیا ہے ، اور مسلمانوں پر یہ کہ وہ اس کے باعث گنہگار و مستحق عذاب وناراضیِ رب الارباب ہیں ، ہر خدا ترس مسلمان جس کے دل میں اﷲ ورسول جل وعلاو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی کامل عزت وعظمت اور کلمۂ اسلام کی پوری توقیر ووقعت اور اپنے بھایؤں کی سچی خیر خواہی ومحبت ہے کبھی ایسے حکم پر جرأت رو ا نہ رکھے جب تك دلیل شرعی واضح سے ثبوت کا فی و وافی نہ مل جائے۔
قال اﷲ تعالٰی : اَمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ(۸۰) [2]
اﷲ تعالٰی کاارشاد گرامی ہے : یا تم ایسی بات اﷲ تعالٰی کی طرف سے کہتے ہو جس کا تمھیں علم نہیں (ت)
کیا اﷲ عزوجل پربے علم حکم لگائے دیتے ہو ، دلیل شرعی مجتہد کے لئے اصولِ اربعہ ہیں اورہمارے لئے قول مجتہد صرف ایسی ہی جگہ علمائے کرام حکم بالجزم لکھتے ہیں اس کے سوا اگر کسی عالم غیر مجتہد نے کسی امر کی بحث کی تو ہر گز اس مسئلے کو یونہی نہیں لکھ جاتے کہ حکم یہ ہے بلکہ صراحۃً بتاتے ہیں کہ یہ فلاں یا بعض کی بحث ہے تاکہ منقول فی المذہب نہ معلوم ہو اور جس کا خیال ہے اسی کے ذمہ رہے وَلِّ حَارَّ ھَا مَنْ تَوَلّٰی قَارَّھَا ( معاملہ کے گرم حال کو بھی اس کے سپرد کردو جو سرد حال کا مالك ہے یعنی اچھا پہلو جس کے سپرد کیاہے برا پہلو بھی اسی کے سپرد کردویا جو نفع اٹھاتا رہا وہی بوجھ اور نقصان بھی اٹھائے ۔ اہل عرب کے نزدیك گرم چیز بری اور ٹھنڈی چیز اچھی سمجھی جاتی ہے ۔ حارّ العمل سخت اور کٹھن کام ، اور قارّ العمل آسان کام ۔ ت) اگراحیانًا کوئی اسے بطور جزم لکھ جاتا ہے تو اس پر گرفت ہوتی ہے کہ ساقہا مساق المنقول فی المذھب یہ اس مسئلے کو ایسا لکھ گیا گویا مذہب میں منقول ہے خود اسی ردالمحتار وغیرہ کے مواضع عدیدہ سے نظر کرنے والوں کو یہ بیان عیاں ہوجائے گا یہاں بھی علامہ شامی نے وہی طریق برتا ، یہ نہ فرمایا کہ نزول وصعود ممنوع یا بدعت شنیعہ ہے بلکہ ابن حجر شافعی کا کلام نقل فرمادیا کہ ماخذ مسئلہ متمیزر ہے ، منقول فی الذہب ہونا درکنار اپنے کسی عالم مذہب کا مذکور نہ سمجھا جائے ، وہی تحفظ امام ابن حجر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے ملحوظ رکھا ، مسئلے کاحکم خود نہ لکھا جس سے جزم مفہوم ہو ، بلکہ فرمایا بحث بعضعھم بعض نے یوں بحث کی ہے ، بحث وہیں کہیں گے جہاں مسئلہ نہ منقول ہو نہ صراحۃً کسی کلیۂ نامخصوصۂ مذہب کے تحت میں داخل ہو کہ ایسے کلیات سے استناد بحث ونظر پر موقوف نہیں مثلًا سوال کیا جائے کہ ایك لڑکے نے چھ مہینے پانچ دن چار گھڑی تین منٹ کی عمر میں ایك عورت کا دودھ پیا اس کی دختر اس پر حرام ہوئی یا نہیں ؟ جواب ہوگا کہ حرام ، یہ صورت خاصہ اگر چہ اصلًا کسی کتاب میں منقول نہیں مگر اسے ہرگز بحثِ فلاں نہ کہا جائے گا کہ کتب مذہب میں اس کلیہ عامہ کی تصریح ہے کہ مدتِ رضاعت کے اندر جو ارتضاع ہو موجب تحریم ہے ، تو ثابت ہوا کہ علامہ شامی یا امام ابن حجراسے کسی کلیہ مذہب کے نیچے بھی صراحۃً داخل ہو نا نہیں مانتے ورنہ یہ قال ابن حجر و بحث بعضھم ( ابن حجر نے کہا اور اس میں بعض نے بحث کی ہے ۔ ت) پر اکتفا نہ کرتے ، پھر بعضھم(کم از کم ۔ ت)کے لفظ نے اور بھی اشعار کیا کہ یہ خیال صرف بعض کا ہے اکثر علماء اس کے مخالف ہیں لااقل ان کی موافقت ثابت نہیں ، خود علامہ شامی نے اسی ردالمحتار میں اس اشارہ واشعار کی جابجا تصریح کی ، درمختار میں نظم الفرائد سے نقل کیا : ع
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع