30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مرقاۃ الجمان فی الھبوط عن المنبر لمدح السلطان۱۳۲۰ھ
(تعریف حاکم کے لئے خطیب کے منبر کی ایک سیڑھی اُترنے پھر چڑھنے کے بارے میں تحقیق)
مسئلہ ١٣٤٩ : از احمد آباد گجرات محلہ چکلہ کا لوپور متصل پل گلیارہ مرسلہ مولوی عبدالرحیم صاحب ١٦ ربیع الاول شریف ١٣٢٠ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ان دونوں جوابوں میں کون سا جواب احق بالقبول ہے :
سوال : علمائے دین متین اس مسئلہ میں کیا ارشاد فرماتے ہیں بحوالہ کتب معتبرہ تحریر فرمائیں خطیب کو خطبۂ ثانی میں منبر سے ایك سیڑھی اُترنا اور پھر چڑھ جانا یہ شرع شریف میں جائز ہے یا نہیں ؟ بینوا بالسند الکتاب و توجروا فی یوم الحساب۔
الجواب ھوا لصواب : صورتِ مسئولہ میں خطیب کو سیڑھی اُترنا اور چڑھنا جائز نہیں بدعت شنیع ہے جیسا کہ شامی جلد اول صفحہ ۸۶۰میں مذکور ہے :
قال ابن حجرفی التحفۃ وبحث بعضھم ان ما اعتید الاٰن من النزول فی الخطبۃ الثانیۃ الٰی درجۃ سفلی ثم العود بدعۃقبیحۃ
ابن حجر نے تحفہ میں فرمایا کہ بعض لوگوں نے یہ بحث کی ہے کہ یہ جو عادت بنالی گئی ہے کہ دوسرے خطبہ کے وقت منبر کی نچلی سیڑھی اور پھر دوبارہ اوپر والی سیڑھی پر
شنیعۃ [1]۔ واﷲ تعالٰی اعلم بالصواب۔
چلاجانا بدترین بدعت ہے ، واﷲ تعالٰی اعلم بالصواب
محمد عیسٰی عفی عنہ ، المجیب مصیب عنداﷲ عبدالرحمن ولد مولوی محمد عیسٰی عفی عنہ
بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم ٭ اللھم ارنا الحق وارزقنا اتباع وارنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابہ۔
اﷲ کے نام سے شروع کرتا ہوں جو نہایت ہی مہربان اور رحم والا ہے ، اے اﷲ ! ہمیں حق دکھا اور اس پر چلنے کی توفیق دے اور ہمیں باطل دکھا اور اس سے بچنے کی توفیق دے ۔ (ت)
مجیب لبیب نے زینہ اترنے کا ناجائز ہونا بلکہ بدعت شنیعہ ہونا جوعلامہ شامی نے ابن حجر شافعی کے قول سے جوان کی کتاب تحفہ میں نقل کیا ہے ثابت کیا ہے ہر گز ناجائز ہونا اس سے ثابت ہوتا ہے نہ بدعت شنیعہ ہونا اس سے ثابت ہوتا ہے ،
طریقۂ محمدیہ کی شرح میں لکھا ہے :
ان المسئلۃ الواقعۃ متی امکن تخریجھا علی قول من الاقوال فی مذھبنا اومذھب غیرنا فلیست بمنکر یجب انکارہ والنھی عنہ وانما المنکر ماوقع الاجماع علی حرمتہ والنھی عنہ خصوصا [2] انتھی مختصرا۔
یعنی اگر کوئی مسئلہ ایسا واقع ہو کہ اس کی تخریج ہمارے حنفی مذہب کے کسی قول کے موافق ممکن ہو شافعیوں یا حنبلیوں یا مالکیوں کے مذہب کے موافق اس کی تصریح ممکن ہو تو وہ ایسا منکر نہیں کہ اس کا انکار کرنا اور اس سے منع کرنا واجب ہو بلکہ ایسا اس منکر کیلئے ہے جس کی حرمت اجماعی ہو اور شارع علیہ السلام نے اس سے بالخصوص منع کیا ہو انتہی مختصرًا (ت)
اب اہل انصاف بغور ملاحظہ فرمائیں کہی اس زینہ اترنے کی وجہ کیا ہے ، امام ربانی حضرت مجد دالف ثانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ علیہ اپنے مکتوبات کی جلد ثانی کے صفحہ ۱۶۲ مطبوعہ نولکشور میں تحریر فرماتے ہیں : میدانیہ کہ درخطبہ روز جمعہ نام سلاطین کہ
درزینہ پایہ سہ فرود آمدہ می خوانند وجہش چیست ایں تواضعیست کہ سلاطین عظام نسبت بآں سرور وبخلفائے راشدین علیہ وعلیہم الصلوات والتسلیمات نمودہ اند و جائز نداشتہ اند کہ اسامی ایشاں بااسامی اکابردین دریك درجہ مذکور شود شکراﷲ سعیھم[3] انتھی علامہ حسین کاشفی مؤلف تفسیر حسینی اپنی کتاب “ ترغیب الصلٰوۃ “ میں فرماتے ہیں :
ازاں پایہ منبر کہ حمد وثنا ودرود گفتہ ذکر خلفائے کرام کردہ نشیب آید و ذکر کر و دعائے سلطان چوں تمام کند باز بالا رفتہ خطبہ باقیہ تمام کند [4] انتہی مطلب عبارت مکتوب کایہ ہے کہ تمام مسلمان بھائی جان لیں کہ جمعہ کے دن خطبہ میں نام بادشاہوں کو نیچے کے زینے منبر پر اُتر کر پڑھتے ہیں اس کی کیا وجہ ہے ، آنجناب اس کی یہ وجہ بیان فرماتے ہیں کہ یہ تواضع وفروتنی ہے کہ بڑے بڑے مسلمان بادشاہوں نے بہ نسبت نبی کریم علیہ الصلٰوۃ والسلام وخلفائے راشدین آں سرورٖ کائنات علیہم الصلٰوۃ والتسلیمات کے کی ہے اور ان بادشاہوں نے یہ بات جائز نہیں رکھی ہے کہ بادشاہوں کے نام ساتھ اسامی اکابردین کے ایك درجہ میں مذکور ہوں ، حضرت مجدد الف ثانی علیہ رحمۃ الباری اُن نیك بخت بادشاہوں کے حق میں دعا کرتے ہیں کہ اﷲ تعالٰی ان بادشاہوں کی کوشش کو قبول کرے اور ان کو جزائے خیر عطافرمائے۔ اور مطلب عبارت “ ترغیب الصلٰوۃ “ کا یہ ہے کہ منبر کے اس زینۂ معلومہ پر حمد وثناء ودرود پڑھ کر اورذکر خلفائے راشدین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کرکے نیچے کے زینہ پر خطیب آئے اور ذکر و دعائے سلطان کرکے جب دعائے سلطان تمام ہوجائے پھر اوپر کے زینہ پر چڑھ کر خطبہ باقیہ تمام کرے۔ اب منصفین غور فرمائیں کہ ہمارے حنفی مذہب کی کتاب میں بھی اس زینہ اُترنے کے لئےملاحسین کاشفی حنفی مصنف تفسیر حسینی نے تحریر فرمایا ہے اور حضرت مجدد الف ثانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ علیہ نے اس کی وجہ بھی بیان کردی ہے کہ بوجہ مذکور الصدر کے یہ زینہ اُترنا جاری ہوا ہے اب جوعلماء اس کو بدعتِ قبیحہ شنیعہ فرماتے ہیں بغور ملاحظہ فرمائیں کہ بدعت قبیحہ ومنکر مطابق عبارت شرح طریقہ محمدیہ کے جب ہوتی ہے کہ اس کی تخریج ہمارے مذہب کے کسی قول کے موافق
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع