30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جمعہ کی اذان میں سنت یہ ہے کہ جب امام منبر پر بیٹھ جائے تو مؤذن منار پر اذان دے ، یہی طریقہ جناب رسالت مآب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی ظاہری حیات اور حضرت ابوبکر و حضرت عمر اور حضرت عثمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے ابتدائی دور میں تھا ، پھر حضرت عثمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ایك اور اذان کا اضافہ فرمایا جوبازار میں مقامِ زوراء پر دی جاتی تھی اور حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم والی اذان کومنار پر
علیہ وسلم علی المنار والخطیب علی المنبر اذ ذاك ثم لما تولی ھشام نقل الاذان الذی کان علی المنار حین صعود الامام علی المنبر بین یدیہ [1]۔ (ملخصًا)
ہی باقی رکھا اور اس وقت خطیب منبر پر ہوتا ، پھر جب ہشام والی بنے تو جو اذان منار پر ہوتی تھی اسے منبر پر چڑھنے کے وقت منبر کے سامنے کردیا ۔ (ت)
یہاں تك کہ فرمایا :
فقد بان ان فعل ذلك فی المسجد بین یدی الخطیب بدعۃ فیتمسك بعض الناس بھاتین البدعتین ثم صارکانہ سنۃ معمول بھا ولیس لہ اصل فی الشرع وانماھی عوائد وقع الاستئناس بھا فصار المنکر لھا کانہ یاتی ببدعۃ علی زعمھم ، فاناﷲ وانا الیہ راجعون علی قلب الحقائق اھ مختصرا [2]۔
یعنی روشن ہوا کہ اس اذان کا مسجد میں خطیب کے سامنے کہنا بدعت ہے جسے ابتداءً بعض لوگوں نے اختیار کیا پھر اس کا ایسا رواج پڑگیا گویا وہ سنت ہے حالانکہ شرع مطہر میں اس کی کچھ اصل نہیں وہ تو یہی ایك عادت ہے کہ لوگوں کے جی اس میں لگ گئے تو جو اس پر انکار کرے ان کے زعم میں گویا وہی بدعت نکالتا ہے تو انّاﷲ وانّا الیہ راجعون حق لوگوں میں کیسا اُلٹا ہوگیا کہ حق کو باطل ، باطل کو حق سمجھنے لگے اھ مختصرًا علامہ یوسف بن سعید سفطی مالکی حاشیۂ جواہر زکیہ شرح عشماویہ میں فرماتے ہیں :
الاذان الثانی کان علی المنار فی الزمن القدیم وعلیہ اھل المغرب الی الان وفعلہ بین یدی الامام مکروہ کما نص علیہ البرزلی وقد نھی عنہ مالك وفعلہ علی المنار والامام جالس ھوالمشروع اھ سکندری [3] اھ باختصار۔
دوسری اذان زمانہ قدیم میں منار پر ہوتی تھی ، اہل مغرب کا اب تك اسی پر عمل ہے ، امام کے سامنے اذان دینا مکروہ ہے جیسا کہ اس پر برزلی نے تصریح کی ، اور امام مالك نے اس سے منع فرمایا ، اذان کا اس وقت منار پر دینا جب امام منبر پر ہو یہی مشروع ہے اھ سکندری اھ اختصارًا (ت)
بخلاف اذان ِمسجد کہ مالکیہ بھی اسے ممنوع جانتے ہیں ۔ مدخل میں ہے :
فصل فی النھی عن الاذان فی المسجد فیمنع من الا ذان فی جوف المسجد لوجوہ ، احدھا انہ لم یکن من فعل من مضی [4] الخ
مسجد میں اذان ممنوع ہونے کے بیان میں فصل ، مسجد میں اذان کئی وجہ سے منع ہے ان میں سے ایك وجہ یہ ہے کہ اسلاف کا طریقہ نہیں رہا الخ (ت)
تو ثابت ہوا کہ اذانِ بیرونِ مسجد ہونا ہی محاذاتِ خطیب سے اہم واعظم واکد والزم ہے تو جہاں دونوں نہ پڑیں محاذاتِ خطیب سے درگزر یں اور منارہ یا فصیل وغیرہ پر یہ اذان بھی مسجد سے باہر ہی دیں ھذا کلہ ماظھر لی والعلم بالحق عند ربی ( یہ تمام مجھ پر واضح ہوا اور حق کا علم میرے رب کے پاس ہے ۔ ت) واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم
مسئلہ ۱۳۴۸ : مسئولہ اقبال حسین از قصبہ سرولی ضلع بریلی ٢٩ صفر ١٣٣٢ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین بیچ اس مسئلہ کے کہ خطبہ جمعہ کا ایك فرض ہے دوسرا سنت ، یا دونوں فرض ہیں ، بینوا توجروا
الجواب :
خطبہ امام اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے نزدیك صرف بقدر الحمد فرض ہے اور صاحبین رحمہم اﷲ کے نزدیك ذکر طویل جیسے عرف میں خطبہ کہیں تو نفس فرض اگر چہ اولٰی بلکہ اس کے بعض سے ادا ہوجاتا ہے مگر جب کوئی مطلق مامور بہ ہوتو قاعدہ شرع یہ نہیں کہ اس کے ایك حصے کو جو ادنی درجہ کا اطلاق مطلق کا ہو ماموربہ ٹھرائیں باقی کو خارج بلکہ جس قدر واقع ہو سب اُسی مطلق کا فرد ہے تو سب اسی صفت سے متصف ہوگا جیسے فرض قراءت نماز میں ایك آیت سے ادا ہوجاتا ہے اب یہ نہ کہیں گے کہ الحمد شریف کی پہلی آیت فرض تھی باقی اُس کا غیر بلکہ الحمد اور سورت بلکہ سارا قرآن مجید اگر ایك رکعت میں ختم کرے سب زیر فرض داخل ہوں گے کہ فَاقْرَءُوْا مَا تَیَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِؕ- (پس قرآن میں سے جتنا تم پر آسان ہو اُتنا پڑھو۔ ت) کافرد ہے ولہذا اگر سورۂ فاتحہ پڑھ کر سُورت ملانا بھول گیا اور وہاں یا د آیا تو حکم ہے رکوع کو چھوڑے اور قیام کی طرف عود کرکے سورت پڑھے اور رکوع میں جائے حالانکہ واجب کے لئے فرض کا چھوڑنا جائز نہیں ولہذا اگر پہلی التحیات بھول کر پورا کھڑا ہوگیا اب عود کی اجازت نہیں مگر سُورت کے لئے خود شرع نے عود کا حکم دیا کہ جتنا قرآن مجید پڑھا جائے گا سب فرض ہی میں واقع ہوگا تو یہ واجب کی طرف عود نہیں بلکہ فرض کی طرف ، ولہذا اگر دوبارہ رکوع نہ کرے گا نماز نہ ہوگی کہ پہلا رکوع عود الی الفرض کے سبب زائل ہوگیا تو جس طرح الحمد اور سورت دونوں سے فرض ہی ادا ہوتا ہے یوں ہی دونوں خطبوں سے بھی کہ سب مطلق فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ ( اﷲکے ذکر کی طرف دوڑ کرآؤ۔ ت) کے تحت میں داخل ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
___________________
[1] المدخل لابن الحاج فصل فی ذکر البدع التی احدث فی المساجد مطبوعہ دارالکتاب العربیہ بیروت ٢ / ٢١٢
[2] المدخل لابن الحاج فصل فی ذکر البدع التی احدث فی المساجد مطبوعہ دارالکتاب العربیہ بیروت ۲ / ۲۱۲
[3] حاشیہ جواہر زکیۃ شرح لمقدمۃ العشماویۃ
[4] المدخل لابن الحاج فصل فی النہی عن الاذان مطبوعہ دارالکتاب العربیہ بیروت ٢ / ٢٥١
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع