30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور تصریح فرماتے ہیں کہ امام معین کے بغیر اذن اگر کوئی شخص نمازِ جمعہ پڑھا ئے تو نماز نہ ہوگی مگر اس صورت میں کہ امام اس نماز میں شریك ہوجائے۔ فتاوٰی سراجیہ و درمختار میں ہے :
لوصلی احد بغیر اذن الخطیب لا یجوز الااذا اقتدی بہ من لہ ولایۃ الجمعۃ [1]۔
اگر کسی نے اذن خطیب کے بغیر نماز پڑھائی تو جائز نہیں البتہ اس صورت میں جب مقتدی ایسا شخص ہو جو جمعہ کا والی تھا ۔ (ت)
یہاں کہ خطبہ بھی بے اجازت امام پڑھا گیا اور نماز بھی بے اُس کی اجازت کے پڑھائی گئی اور امام اس میں شریك نہ ہوا تو دو وجہ سے وہ نماز ناجائز ہوئی اُن پر ظہر کی قضا لازم ہے ۔ واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم و احکم
مسئلہ ١٣٤٧ : مولوی نعیم الدین صاحب ازمراد آباد ٢٨ صفر ١٣٣٢ھ
حضور عالی سلامِ نیاز ، میں جمعہ کی نماز قلعہ کی مسجد میں پڑھاتا ہوں اس مسجد کا وسیع صحن ہے مسجد سے باہر راستہ ہے جو ایك بانس کے قریب مسجد کے فرش سے نیچا ہے کوئی جگہ ہی نہیں جہاں مؤذن کھڑا ہو سکے سخت حیرانی ہے یا بعض ایسی مسجدیں ہیں کہ ان میں بعد صحن کے کسی دوسرے شخص ہندو وغیرہ کی دیواریں ہیں کہ ان دیواروں پر میذنہ نہیں بنایا جاسکتا اسی صورت میں کیا کیا جائے ؟ بینوا توجروا
الجواب :
اللھم ھدایۃ الحق والصواب (اے اﷲ!حق اور صواب کی ہدایت عطا فرما ۔ ت) یہاں دو سنتیں ہیں ، ایك محاذات خطیب ، دوسرے اذان کا مسجد سے باہر ہونا ، جب ان میں تعارض ہو اور جمع ناممکن ہو تو ارجح کو اختیار کیا جائے گا کما ھوا لضابطۃ المستتمرۃ الغیر المنخرمۃ( جیسا کہ دائمی اور نہ ٹوٹنے والا ضابطہ ہے ۔ ت) یہاں ارجح واقوی سنت ثانیہ بوجوہ اولاّ مسجد میں اذان سے نہی ہے ، قاضی خاں وخلاصہ وخزانۃ المفتین وفتح القدیر وبحرالرائق وبرجندی وعلمگیری میں ہے : لایؤ ذن فی المسجد [2]۔ (مسجدمیں اذن نہ دی جائے ۔ ت)نیز فتح القدیر ونظم وطحطاوی علی المراقی وغیرہا میں مسجد کے اندر اذان مکروہ ہونے کی تصریح ہے اور ہر مکروہ منہی عنہ ہے ، ردالمحتار میں قبیل احکام مسجد ہے :
لا یلزم منہ ان یکون مکروہا الابنہی خاص لان الکراھۃ حکم شرعی فلا بدلہ من دلیل[3]۔
اس سے مکروہ ہونا لازم نہیں آتا مگر یہ کہ نہی خاص وارد ہو کیونکہ کراہت حکم شرعی ہے ، لہذا اس کے لئے دلیل کا ہونا ضروری ہے (ت)
اور اجتنابِ ممنوع ، ایتان مطوب سے اہم واعظم ہے ، اشباہ میں ہے :
اعتناء الشرع بالمنھیات اشد من اعتنائہ بالمامورات ، ولذا قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اذا امرتکم یشیئ فاتوا منہ مااستطعتم وان نھیتکم عن شیئ فاجتنبوہ وروی فی الکشف حدیثا لترك ذرۃ مما نھی اﷲتعالٰی عنہ افضل من عبادۃ الثقلین ومن ثم جاز ترك الواجب دفعا للمشقۃ ولم یسامح فی الاقدام علی المنھیات[4]۔
شریعت کے ممنوعات کا اہتمام اس کے مامورات سے زیادہ ہے اسی لئے نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : جب کسی شیئ کا حکم دوں تو اس کو استطاعت کے مطابق بجالاؤ او ر اگر میں تمھیں کسی شیئ سے منع کرو ں تو اس سے بچو۔ الکشف میں یہ حدیث منقول سے ایك ذرہ کے برابر اس کام سے رك جانا جس سے اﷲ تعالٰی نے منع فرمایا جِن وانس کی عبادت سے بہتر ہوتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ رفع مشقت کے لئے واجب کا ترك جائز ہوتا ہے لیکن ممنوعات پر عمل کی اجازت نہیں ۔ (ت)
ثانیًا محاذاتِ خطیب ایك مصلحت ہے ، اور مسجد کے اندر اذان کہنا مفسدت اور جلبِ مصلحت سے سلبِ مفسدت اہم ہے ۔ اشباہ میں ہے :
درء المفاسد اولٰی من جلب المصالح [5]۔
مفاسد کا دفع کرنا مصالح کے حصول سے بہتر ہے ۔ (ت)
وجہ مفسدت ظاہر ہے کہ دربار ملك الملوك جل جلالہ کی بے ادبی ہے شاہد اس کا شاہد ہے دربارشاہی میں اگر چوب دارعین مکانِ اجلاس میں کھڑا ہوا چلاّئے کہ درباریو چلو سلام کو حاضر ہو ، ضرور گستاخی بے ادب ٹھہرے گا ، جس نے شاہی دربار نہ دیکھے ہوں وہ انھیں کچہریوں کو دیکھ لے کہ مدعی مدعا علیہ گواہوں کی حاضری کمرہ سے باہر پکاری جاتی ہے چپراسی خود کمرۂ کچہری میں کھڑا ہوکر چلاّئے او رحاضریاں پکارے تو ضرور مستحق سزا ہو اور ایسے امور ادب میں شرعًا عرف معہود فی الشاہدہی کا لحاظ ہوتا ہے محقق علی الاطلاق فتح القدیر میں فرماتے ہیں :
یحال علی المعھود من وضعھا حال قصد التعظیم فی القیام والمعھود فی الشاھد منہ تحت السرۃ [6]۔
حالتِ قیام میں بقصد تعظیم جو معروف ہو اس کے مطابق ہاتھ باندھے جائیں گے اور جس معروف کا مشاہدہ ہے وہ یہی ہے کہ ناف کے نیچے ہاتھ باندھنا ہے ۔ (ت)
اسی بناء پر علماء نے تصریح فرمائی کہ مسجد میں جوتا پہنے جانا بے ادبی ہے حالانکہ صدرِ اول میں یہ حکم نہ تھا ، فتاوٰی سراجیہ و فتاوی عالمگیری میں ہے : دخول المسجد متنعلا مکروہ [7]( مسجد میں جوتا پہن کر داخل ہونا مکروہ ہے ۔ ت) عمدۃ المفتین و ردالمحتار میں ہے : دخول المسجد متنعلا من سوء الادب [8]( مسجد میں جوتا پہن کر داخل ہونا بے اد بی ہے۔ ت) مسئلہ اولٰی یعنی ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے میں
[1] درمختار باب الجمعۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١١٠
[2] فتاوٰی ہندیۃ فصل فی کلمات الاذان والاقامۃ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ١ / ٥٥
[3] ردالمحتار باب مایفسد الصلٰوۃ وما یکرہ فیہا مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ / ٤٨٣
[4] الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ الخامسۃ مطبوعہ ا دارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ١ / ١٢٥
[5] الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ الخامسۃ مطبوعہ ا دارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ١ / ١٢٥
[6] فتح القدیر باب صفۃ الصلٰوۃ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ١ / ٢٤٩
[7] فتاوٰی سراجیہ باب المسجد ازکتاب الکراہیۃ مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ص ۷۱
[8] ردالمحتار مطلب فی احکام المساجد مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ / ٤٨٦
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع