30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اقول : اس کی تفصیل یہ ہے کہ عجمی زبان میں وعظ و نصیحت کا تقاضا بعینہ موجود تھا اور مانع بھی کوئی نہیں تھا پھر انھوں نے ایسا نہیں کیا تو یہ ان کا رکنا ہے ترك نہیں اور رکنا فعل ہے اور فعل میں توارث جاری ہوتا ہے بخلاف ترك کے ، کیونکہ اس کے نقل ہونے کامعنی نہیں اور نہ ہی اس میں اقتداء جائز ہے کیونکہ وہ معمول سے نہیں اور نہ ہی قدرت میں ، جیسے کہ اس پرہمارے اسلاف اکابر نے تصریح کی ہے ، الاشباہ والنظائر میں ہے کہ تروك کے ساتھ تقرب نہیں ہوسکتا مگر اس صورت میں جب ترك کف کی صورت میں ہو اور وہ فعل ہوگا اور نہی میں یہی مکلف بہ ہے نہ کہ ترك بمعنی عدم کیونکہ معدوم قدرت عبد کے تحت نہیں ہوتا جیسا کہ تحریر میں ہے اھ۔ اس سے مراد تحریر الاصول للامام المحقق المطلق نے ذکر کیا ہے اسے اچھی طرح یاد کرلو کیونکہ یہ نہایت اہم معاملہ میں سے ہے۔ (ت)
اذان ضرور بلانے اور ان لوگوں کو اطلاع وقت دینے کے لئے ہے مگر غیر عربی میں ہو تو ہرگز اذان ہی نہ ہوگی اگرچہ مقصود اعلام حاصل ہوجائے کہ اذان صرف سنت تھی جب فی نفسہٖ برخلاف سنت ہوئی راسا فوت ہوگئی ، تنویر میں ہے :
الاذان علامہ مخصوص علی وجہ مخصوص بالفاظ کذلك [1]۔
اذان ، الفاظِ مخصوص میں بطریق مخصوص اطلاع دینا ہے۔ (ت)
ردالمحتا ر میں ہے :
اشار الی انہ لا یصح بالفارسیۃ وان علم انہ اذان وھو الاظھر والاصح کما فی السراج [2]۔
اس میں اشارہ ہے کہ یہ فارسی میں جائز نہیں ، اگر یہ معروف یہ کہ اذان ہے اور یہی اظہر واصح ہے جیساکہ سراج میں ہے ۔ (ت)
خطبہ ضرور وعظ وتذکیر کے لئے ہے جیسے نماز کہ ذکر کے لئے ہے خطبہ ضرور وعظ وتذکیر کے لئے ہے جیسے نماز کہ ذکر کے لئے ہے قال اﷲ تعالٰی اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِیْ(۱۴) [3](اﷲ تعالٰی کا ارشاد ہے میری یاد کے لئے نماز قائم کرو۔ ت) اور خود قرآن عظیم کہ اس کا تو نام ہی ذکر حکیم ہے اور اس کے نہ سمجھنے پر سخت انکار فرماتا ہے ، اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰى قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا(۲۴) [4] (کیا وہ قرآن میں تدبر نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر تالے پڑے ہیں ۔ ت) پھر جس کی سمجھ میں عربی نہ آئے نہ اس کے لئے نماز و قرآن اردو یا بنگلہ یا انگریزی کردئے جائیں گے نہ خطبہ واذان ، یہ اس کا اپنا قصور ہے اس کا دین عربی ، نبی عربی ، کتاب عربی ، پھر عربی اتنی بھی نہ سیکھی کہ اپنا دین سمجھ سکتا.انگریزی کی حالت دیکھئے اس پر کیسے اندھے باولے ہو کر گرتے ہیں کہ دوپیسے کمانے کی امید ہے اور عربی جس میں دین ہے ایمان ہے اس سے کچھ غرض نہیں اﷲ تعالٰی توفیق دے و ہدایت بخشے ، اٰمین واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ١٣٤١ تا ۱۳۴۳ : ازپیلی بھیت محلہ بھورے خاں مرسلہ حاجی عزیز احمد صاحب ٧ صفر ١٣٣٢ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ :
(١) اذان ثانی جمعہ کے دن امام کے قریب اندر مسجد کے جو مروج ہے اس میں کراہت یعنی کراہت تحریمی ہے یا تنزیہی ؟
(٢)فصیل حوض خارج مسجد ہیے یا داخل مسجد؟
(٣) ابوداؤد کی حدیث میں جو حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم اور شیخین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے وقت میں باب مسجد پر اذان کاذکر ہے اُس وقت تك اذان اول شروع تھی یا نہیں ؟اگر ا س وقت میں صرف ایك اذان تھی تو جب سے دوسری اذان شروع ہوئی اُس وقت بھی بقیہ خلفائے راشدین کے وقت میں اذانِ ثانی باب مسجد پر ہوتی تھی یا امام کے متصل منبر کے پاس ؟ بینواتوجروا
الجواب :
(١) علمائے کرام نے کراہت لکھی اور اسے مطلق رکھا اور مطلق کراہت غالبًا کراہت تحریم پر محمول ہوتی ہے ، سید عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے زمانۂ اقدس میں اذان دروازۂ مسجد پر ہُوا کی ، اور کبھی نہ حضور سے منقول نہ خلفائے رشدین سے کہ مسجد کے اندر اذان کہلوائی ہو ، اور عادت کریمہ تھی کہ مکروہ تزیہی کو بیان جواز کے لئے کبھی اختیار فرماتے پھر اس میں ترك ادب بارگاہ الہٰی ہے والعلم بالحق عند اﷲ۔
(٢) حوض قدیم کی فصیل فنائے مسجد ہے نہ عین مسجد ، ورنہ اس پر وضو ناجائز ہوتا اور فنائے مسجد میں اذان جائز ہے ۔ واﷲ تعالٰی اعلم
(٣) صدر خلافت امیر المومنین عثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ تك وہی ایك اذان خطبہ تھی انھوں نے اذانِ اول زائد فرمائی مگر اذانِ خطبہ میں کوئی تبدیلی نہ کی ، نہ کسی خلیفۂ راشد سے اس میں کوئی تغییر منقول ، ہاں امام ابن الحاج مکی نے مدخل میں ہشام بن عبدالملك بادشاہ مروانی کی نسبت لکھا کہ اس نے سنت کو بدلا اس کا زمانہ امیر المومنین عثمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے اسی ٨٠ برس بعد ہوا ۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ١٣٤٤ : مسئولہ مولوی فضل الرحمان صاحب از چھاؤ نی صدر بازار فیروز پور پنجاب ١٩ صفر ١٣٣٢ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ مرقومۃ الذیل میں کہ ایك قلعہ میں جہاں عام لوگوں کو جانے کی اجازت نہیں اور نہ ملازمان کو باہر بجز وقت معینہ کے منجملہ پانچ صد مرد مان مسلمان ملازمان کے ایك جماعت وہاں نماز جمعہ باجازت مشتہرہ گورنمنٹ قائم کرتی ہے وہاں بنائے مسجد نہیں ہے نیز متصل قلعہ مذکور کے شہر اور چھاؤنی صدر بازار میں چند جگہ دیگر مساجد میں جمعہ پڑھا جاتا ہے کیا اس جماعت کا جمعہ ادا ہوجاتا ہے بعض علمائے دین نے بحوالۂ فتاوی علمگیری ودرمختار بباعث عدم اذن عام او جماعت مذکور کو محبوسین وغیرہ کا مقیس علیہ قرار دے کر عدمِ جوازاور نادرست ہونے نماز جمعہ کا فتوٰی دیا ہے اور بعض نے بحوالۂ عبارت شامی کہ
قلت وینبغی ان یکون محل النزاع ما اذا کانت لاتقام الافی محل واحد اما لو تعددت فلا لانہ لایتحقق التفویت کما افادہ التعلیل تامل۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع