30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صحت جمعہ کے لئے اذن عام شرط ہے ، اگر کسی امیر نے قلعہ میں داخل ہوکر دوازہ بند کرلیا اور اپنے ساتھیوں کو جمعہ پڑھا یا تو یہ جمعہ منعقد نہ ہوگا۔ (ت)
درمختار میں ہے :
کرہ تحریما لمعذور ومسجون ومسافر اداء ظہر بجماعتہ فی مصر قبل الجعۃ وبعدھا [1]۔ وھو سبحٰنہ وتعالٰی اعلم
شہر میں معذور ، قیدی اور مسافر کے لئے جمعہ سے پہلے اور بعد نماز ظہر جماعت کے ساتھ ادا کرنا مکروہ تحریمی ہے ۔ وہو سبحٰنہ وتعالٰی اعلم (ت)
مسئلہ ١٣٣٨ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جہاں پر حکم مصر رکھتا ہے اور بنا بر قول معتبر کے وہاں جمعہ ہوتا ہو ان میں احتیاط ظہر پڑھنا چاہئے یا نہیں ؟ اور جو لوگ اس کو نہیں پڑھتے ہیں جمعہ پڑھنے سے ظہر ساقط ہوتے ہیں یا نہیں ؟ اور اگر اس کا ثبوت شرع میں ہو تو اس کو کس نیت سے پڑھنا چاہئے اور جو اس کا مانع ہو ازروئے شرع شریف کے کیا حکم ہے؟ بینوا بالدلائل الشرعیۃ وتوجروا بالبراھین العقلیۃ (دلائل شرعیہ سے بیان کرو اور براہینِ عقلیہ سے اجر پاؤ ، ت)
الجواب :
بلاشبہ جو اسلامی مصر ہو اور وہاں ایك ہی جگہ جمعہ ہوتا ہو اور امام میں کوئی شبہہ نا جوازیِ امامت کا نہ ہو وہاں احتیاطی ظہر پڑھنا ممنوع وبدعت ہے مگر یہ بات آج عامہ بلاد میں کہیں نہیں سوا حرمین شریفین وغیرہما ، بعض بلاد کے ، یونہی جہاں جمعہ متعدد جگہ ہوتا ہو جس نے سب سے اول جماعت میں پڑھا اسے احتیاطی ظہر کی اجازت نہیں ، اور جہاں مصریت میں شبہہ ہو یا امام یا اس کی ماذونیت میں یا جمعہ متعدد جگہ ہوتا ہو اور اپنی جماعت سب سے پہلے ہو نا معلوم نہیں وہاں اگر شبہہ ضعیف ہے احتیاطی ظہر مستحب ہے اور قوی ہے تو واجب ، مگر اس کا حکم خواص کے لئے ہے عوام کو حاجت نہیں تحملا للضرر الادنی مخافۃ الاقوی( بڑے ضرر سے ڈرتے ہوئے ادنٰی ضرر کو برداشت کرتے ہوئے ۔ ت) خواص یہ نیت کریں کہ پچھلی وہ ظہر جو میں نے پائی اور ادا نہ کی اور یہ خطرہ بھی نہ آنے پائے کہ جمعہ ہوگیا تو یہ میرے نفل ہیں ، ورنہ فرض ، نہ جمعہ کی نیت کے وقت تردد ہو کہ تردد منافی نیت ہے ، جو منع کی جگہ منع کرتا ہے حرج نہیں اور جو استحباب کی جگہ منع کرتا ہے احمق ہے اور وجوب کے محل پرمنع کرتا ہے تو گنہگار ہے وتفصیل المسألۃ فی فتاوٰنا وباﷲ التوفیق( مسئلہ کی تفصیل ہمارے فتاوی میں ہے اور یہ اﷲ تعالٰی کی توفیق سے ہے۔ ت) واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم
مسئلہ ١٣٣٩ : نیٹھور ضلع بجنور مرسلہ محمد عبدالحی سوداگر جفت ٢٩ محرم ١٣٣٢ھ
جس جامع مسجدمیں ایسا امام نماز پڑھاتا ہو جو صاحب جائداد ہے اور دوسری جائداد سودی روپیہ لے کر خریدی اور اس کے بدلنے کو چند اشخاص اہل شہر جن کا زور زیادہ ہے پسند نہیں کرتے بلکہ اگر کوئی اس بابت ذکر بھی کرے توخوف فتنہ کا ہے ایسی صورت میں شہر میں سے کسی محلہ کے آدمیوں کو متفق ہو کر کسی دوسری مسجد میں جمعہ کا ادا کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ بینوا توجروا
الجواب :
اگر اس امام کے بدلنے پر قدرت نہ ہو تو شہر میں دوسری جگہ جہاں کوئی امام صالح امامت جمعہ پڑھاتا ہو وہاں جاناواجب ہے اور اگر شہر میں دوسری جگہ جمعہ ہوتا ہی نہ ہو یا اور امام بھی ایسا ناقابل امامت ہوں تو نیا امام سُنّی صحیح العقیدہ ، صحیح خواں ، صحیح الطہارۃ ، مسائل داں کہ فاسق معلن نہ ہو مقرر کریں اور اس کے پیچھے جمعہ وعیدین پڑھیں ، واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ١٣٤٠ : از حیدر آباددکن محلہ سلطان پورہ مکان نمبر ٦ / ٢٩٥٤ مرسلہ مولوی محمد عبدالجلیل صاحب نعمانی مہتمم امور مذہبی ٢٠صفر ١٣٣٢ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ خطبہ جمعہ وعیدین عربی عوام نہیں سمجھ سکتے ہیں کیا ان کے لحاظ سے اردو زبان ہی میں پڑھا جاسکتا ہے ؟ بینوا توجروا ان اجر کم علی اﷲ تعالٰی( بیان کرکے اجر پاؤ کہ تمھارا اجر اﷲ تعالٰی کے پاس ہے ۔ ت)
الجواب :
زمان برکت نشان حضور پر نور سید الانس والجان علیہ علی الہٖ افضل الصلٰوۃ والسلام سے عہد صحابہ کرام و تابعین عظام وائمہ اعلام تك تمام قرون وطبقات میں جمعہ وعیدین کے خطبے ہمیشہ خالص زبان عربی میں مذکور وماثور اور بآنکہ صحابہ ومن بعدہم من ائمۃا لکرام کے زمانوں میں ہزارہا بلاد عجم فتح ہوئے ہزارہا جوامع بنیں ، ہزارہا منبر نصب ہوئے ، عامہ حاضرین اہل عجم ہوئے ، اور ان حضرات میں بہت وہ تھے کہ مفتوحین کی زبان جانتے اس میں ان سے کلام فرماتے باانیہمہ کبھی مروی نہ ہوا کہ خطبہ غیر عربی زبان میں فرمایا یا دونوں زبانوں کا ملایا ہو کما ذکرہ الشاہ ولی اﷲ الدھلوی فی شرح الموطا ( جیسا کہ شاہ ولی اﷲ دہلوی نے شرح موطا میں ذکر کیا ہے۔ ت) سنتِ متوارثہ کا خلاف ناپسند ہے ،
فی الدرلمختار ان لمسلمین توارثوہ فوجب اتباعھم [2] اھ ای ثبت وتاکد ،
درمختار میں ہے کہ یہ مسلمانوں میں توارث کے ساتھ ثابت ہے لہذا ان کی اتباع واجب ہے اھ یعنی ثابت اور مؤکد ہے ۔ (ت)
نہ کہ ایسی سنت جہاں باوصف تحقق حاجت ، جانب خلاف رخ نہ فرمایا ہو کہ اب تو اس کا خلاف ضرور مکروہ واساءت ہوگا ۔
اقول : وتحقیقہ ان التذکیر بالعجمیۃ کان المقتضی لہ بعینہ موجودا والمانع مفقودا ثم لم یفعلوہ فکان ذلك کفامنھم لاترکا والکف فعل والفعل یجری فیہ التوارث بخلاف الترك اذا لامعنی لتوارثہ ولامساغ للتأسی فیہ لانہ غیرمفعول ولا مقدور کما نص علیہ الاکابرا لصدور قال فی الاشباہ والنظائر التروك لا یتقرب بھا الااذاصار الترك کفا وہو فعل وہ المکلف بہ فی النھی لا الترك بمعنی العدم لانہ لیس داخلا تحت القدرۃ للعبد کما فی التحریر [3] اھ ای تحریر الاصول للامام المحقق حیث اطلق رحمہ اﷲ تعالٰی اتقن ھذا فانہ من اجل المھمات۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع