30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ترك درود تو سخت تر ہے ، درود خطبہ میں اگر نامِ اقدس نہ لیا ضمیر پر اکتفا کی مثلًا صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم تو امام مذکور نےبطلان خطبہ ونماز ثابت کیا ، اسی طرح ان کے شیخ الاسلام زکریا انصاری قدس سرہ ، نے شرح بہجہ وشرح روض وشرح منہج میں فرمایا : کما ہو مذکور کلہ فی فتاواہ الکبری( جیسا کہ یہ تمام ان کے فتاوٰی الکبرٰی میں مذکور ہے ۔ ت) آدمی کہ تنہا نماز پڑھے اسے بالاجماع مستحب ہے کہ جملہ ائمہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے مذاہب کی حتی الامکان رعایت رکھے اور حتی الامکان کے یہ معنی کہ جہاں تك اس کی رعایت میں اپنے مذہب کا مکروہ لازم نہ آئے کما نص علیہ فی غیر ماموضع فی ردالمحتار وفی المسلك المتقسط للملا علی القاری وغیرھما (جیسے کہ اس پر ردالمحتار اور المسلك المتقسط للملاعلی قاری وغیرہ میں متعدد مقامات پر تصریح ہے ۔ ت) نہ کہ وہ امور جو اپنے مذہب میں مسنون اور دوسرے مذہب ائمہ حق میں فرض ہوں کہ ا ب تواس کی ترك سخت جہالت ، نہ کہ امام کہ دوسرے مذہب کے اہل سنت بھی اس کے مقتدی ہوں اسے تو حتی الوسع اس مذہب کی رعایت کمال مہم ومؤکدہے ۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ١٣٣٥ : از بریلی محلہ بہاری پور مسئولہ جناب نواب مولوی سلطان خاں صاحب ٤ صفر المظفر ١٣٣٠ھ
جمعہ کے دن چند آدمیوں نے مل کر مسجد میں جمعہ کی نماز ادا کی بعدہ ، اور دس بارہ آدمی آگئے انھوں نے بھی اذان و اقامت خطبہ کے ساتھ اسی مسجد میں نماز جمعہ ادا کی پھر دس بارہ آدمی آگئے انھوں نے بھی ایسا کیا ، تو دوسری تیسری جماعت والوں کا جمعہ ادا ہولیا یانہیں ، فقط ، بینوا توجروا
الجواب :
نماز جمعہ و عیدین مثل عام نمازوں کے نہیں کہ جسے امام کر دیا نماز ہوگئی ان کے لئے ضرور ہے کہ اما خود سلطان اسلام ہو یا اس کا مقرر کردہ ، اور یہ نہ ہوں تو بضرورت وہا ں کے عام مسلمانو ں نے جسے امامت جمعہ کے لئیے معین ومقرر ہو ، توان تینوں جماعتوں میں جس کا امام امامِ معین ومقرر کردہ جمعہ تھا اس کی اور اس کے مقتدیوں کی نماز ہوگئی باقیوں کی نہیں ، اور اگر کسی کا امام ایسا نہ تھا تو کسی کی نہ ہوئی مثلًا سر راہ مسجد ہے دس بارہ راہگیر گزرے ایك نے آگے ہوکر نماز جمعہ پڑھائی پھر کچھ اور آئے انھوں نے بھی ایسا ہی کیا یوں ہی دس بیس جماعتیں ہوئیں جمعہ ایك کا بھی نہ ہوا اور فرض ظہر سب کے ذمہ رہا ، درمختار میں ہے :
الجمعۃ یشترط لصحتھا السلطان اومامورہ باقامتھا ونصب العامۃ غیر معتبر مع وجود من ذکر اما مع عدمہ فیجوز للضرورۃ [1]اھ ملتقطا واﷲ تعالٰی اعلم
صحت جمعہ کے لئے سلطان یا اس کا مقرر کردہ برائے اقامت جمعہ کا ہونا ضروری ہے ، مذکورہ افراد کے ہوتے ہوئے عوام کا مقرر کرنا معتبر نہیں اور اگر مذکور اشخاص نہیں تو ضرورت کے لئے عوام کا تقرر جائز ہوگا اھ مختصرًا ۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ١٣٣٦ : از گنور تحصیل سونی تپ ضلع رہتك مرسلہ حافظ احمد حسین صاحب امام مسجد ٢٣ ذی الحجہ ١٣٣٠ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جمعہ کے روز امام اول کا خطبہ پڑھ کے جلسہ کرنا ہے اس جلسہ میں ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا مذہب حنفی میں جائز ہے یا نہیں ؟ اور اگر ناجائز ہے تو کس درجہ کا ، مکروہ تنزیہی یا مکروہ تحریمی؟ زید درمیان خطبین کے ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا بدعت او رحرام بتاتا ہے۔ یہ عقیدہ زید کا موافق شرع شریف کے ہے یا نہیں ؟
الجواب :
زید کا قول باطل ہے ، دونوں خطبوں کے بیچ میں امام کو دعا مانگنا تو بالاتفاق جائز ہے بلکہ خود عین خطبہ میں حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا مینہ کے لئے دونوں دستِ انور بلند فرما کر دعا مانگنا کتب صحاح میں موجود ہے ، مقتدیوں کے بارہ میں مذہب حنفی میں اختلاف ہے ، امام ابو یوسف وامام محمد رحمہ اﷲ تعالی علیہما بلا شبہ ان کے لئے بھی جائز فرماتے ہیں ، اور امام اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے دو روایتیں آئیں ، ایك مطابق قول صاحبین کے امام کے نزدیك بھی مقتدیوں کو بین الخطبتین دعا مانگنا جائز ہے امام سغناقی نے نہایہ وامام اکمل الدین بابرتی نے عنایہ شروح ہدایہ میں فرمایا : ھوالصحیح یہی صحیح ہے۔
سنتھاخمسۃ عشرۃ رابعتھا التعوذ فی نفسہ قیل الخطبۃ سادستھا البدایۃ بحمد اﷲ تعالٰی[2] الخ ملخصًا
اس کی پندرہ سنتیں ہیں چوتھی یہ کہ خطبہ سے پہلے دل میں تعوذ کا پڑھنا ، چٹھی یہ کہ اﷲ تعالٰی کی حمد وثنا سے ابتداء کرنا الخ ملخصًا (ت)
پھر یہ کوئی ایسا امر نہیں جس پر تشدد ضروری ہو ، بہ نرمی سمجھایا جائے اگر نہ مانے تو گروہ بندی واثارت فتنہ کی حاجت نہیں والفتنۃ اکبر من القتل(فتنہ قتل سے بڑا ہے ۔ ت) واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ١٣٣٧ : از جیل کان پور مرسلہ کلن خاں جمعدار ١٢ شوال ١٣٣١ھ
حضرت اقدس مدظلہ العالی بعد عرض تسلیم بصد تعظیم گزارش ہے کہ جیل میں جہاں پانچ چھ سو آدمی قیدی و حوالاتی اور ملازمین رہتے ہیں نمازِ جمعہ ادا کی جاسکتی ہے یا نہیں ؟ جہاں پرصوم صلٰوۃ کی جماعت کو عام اجازت ہے اس میں روك ٹوك نہیں مگر باہر کے لوگ بغیر اجازت اندر نہیں آسکتے نہ اندر کے باہر جاسکتے ہیں ، پس جو مسلمان اندر جیل کے ہیں اور جن کی تعداد سو سے زائد ہے جمعہ کے روز جماعت سے نماز جمعہ ادا کریں یا نماز ظہر کی ، امید کہ بواپسی ڈاك جواب سے سرفرازی بخشی جائے ، زیادہ حد آداب!
الجواب :
جمعہ کی ایك شرط اذن عام ہے ، جیل میں کوئی نہیں جاسکتا توا س میں نماز جمعہ ناممکن وباطل ہے اور ظہر کی جماعت بھی ان کو جمعہ کے دن جائز نہیں ، جبکہ جیل حدود شہر میں ہو ، بلکہ ہر شخص تنہا ظہر پڑھے ملازم ہو یا ماخوذ ، ہاں جیل بیرونِ شہر ہو تو ظہر بجماعت پڑھیں ، تنویر الابصار میں ہے :
یشترط لصحتھا الاذن العام فلو دخل امیر حصنا واغلق بابہ وصلی باصحابہ لم تنعقد[3]۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع