30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(قیل کثیرا مایوجد عدول فی غیر الائمۃ علم من عادتھم انھم لایروون الاعن عدل) فارسالھم ایضا یقتضی تعدیل من روواعنہم فیکون حجۃ کارساکل الائمۃ فلا فوق اقول لانسلم وجود العدول بالصفۃ المذکورۃ فی غیرالائمہ ، بل العدول من غیرھم لایبالون عمن أخذ وا و رووا ألاتری) ان الشیخ علاء الدولۃ السمنانی قدس سرہ
(کہا گیا ہے کہ غیر ائمہ میں جو اکثر عادل پائے جاتے تو ان کے معمول سے معلوم ہے کہ وہ کسی عادل ہی سے روایت کرتے ہیں ) لہذا ان کا ارسال بھی ا س کا مقتضی ہے کہ جن سے انھوں نے روایت کی ہے وہ عادل ہیں لہذا ان کی روایت مرسلہ ، ائمہ کے ارسال کی طرح ہی حجت ہوگی اور ان میں کوئی فرق نہ ہوگا (اقول) ہم غیر ائمہ میں صفت مذکورہ کے ساتھ عدل تسلیم نہیں کرسکتے بلکہ غیر ائمہ میں جو عادل ہیں وہ اس بات کی پرواہ نہیں
کیف اعتمد علی الرتن الھندی وأی رجل یکون مثلہ فی العدالۃ ( ولو سلم فذلك بزعمھم وکثیرامایخطؤن) فیظنون غیر العدل عدلا [1] (ملخصًا)
کرتے کہ وہ کس سے روایت لے رہے ہیں ، کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ شیخ علاؤالدولہ سمنانی قدس سرہ نے رتن ہندی پر کیسے اعتماد کرلیا ، حالانکہ ان کی مثل عدالت میں کون ہے؟ ( اور اگر یہ تسلیم کرلیا جائے تو یہ ان کے زعم کے مطابق ہے حالانکہ عام طور پر وہ خطا کرتے ہیں ) پس وہ غیر عادل گمان کرلیتے ہیں (ملخصا)(ت)
مخاطبہ ذکر فرمایا بحمد اﷲ ہم غلامانِ بارگاہِ اولیاء ان میں نہیں کہ کشف والہام باطل یا نا معتبر ٹھہرائیں احتمال خطا کشف مبتدین واوساط میں ہوتا ہے اکا برواصلین نفعنا اﷲ تعالٰی ببر کاتہم فی الدنیا والآخرۃ والدین کاکشفِ متین والہام مبین حق وصحیح ہوتا ہے ، مولٰی بحر العلوم ملك العلماء قدس سرہ ، فواتح میں فرماتے ہیں :
ان تاملت فی مقامات الاولیاء وموجیدھم واذوا قھم کمقامات الشیخ محی الدین وقطب الوقت السیدمحی الملۃ والدین الیسد عبدالقادر الجیلانی الذی قدمہ علی رکا ب کل ولی والشیخ سھل بن عبداﷲ التستری والشیخ ابن مدین المغربی و الشیخ ابی یزید البسطامی وسید الطائفۃ جنید البغدادی والشیخ ابی بکر الشبلی والشیخ عبداﷲ الانصاری والشیخ احمد التامقی الجامی وغیرھم قدس اسرارھم علمت ان ما یلھمون بہ لا یتطرق الیہ احتمال وشبہۃ بل ھوحق حق حق مطابق لما فی نفس الا مرویکون مع علی خلق علم ضروری انہ من اﷲ تعالٰی لکن لاینالون
اگر آپ اولیاء کے مقامات ، وجدان اور اذواق میں غورو فکر کریں مثلًا مقاماتِ شیخ محی الدین ، قطب وقت السید محی الملۃ والدین السید عبدالقادر جیلانی جن کا مبارك قدم ہر ولی کی گردن پر ہے ، شیخ سہل بن عبداﷲ تستری ، شیخ ابومدین المغربی ، شیخ ابویزید بسطامی ، سید الطائفہ جنید بغدادی ، شیخ ابوبکر شبلی ، شیخ عبداﷲ انصاری اور شیخ احمدا لنامقی الجامی وغیرہ تو آپ بالیقین جان لیں گے کہ جو کچھ انھیں الہام کیا جاتا ہے اس میں کسی قسم کا احتمال وشبہ راہ نہیں پاسکتا بلکہ وہ حق حق حق اور نفس الامر کے مطابق ہوتا ہے ، اور اس میں انھیں اس بات کا بھی علم یقینی ہوتا کہ یہ اﷲ تعالٰی ہی کی طرف سے ہے اور وہ یہ علمی مقام حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی مدد وتائید سے پاتے ہیں بغیر واسطہ اور وسیلہ کے
ھذا لوعاء من العلم الابالمدد المحمدی و تأییدہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لا بالذات من غیر وسیلۃ اصلا [2]الی اٰخرما افاد و اجاد علیہ رحمۃ الملك الجواد۔
نہیں پاتے الٰی آخرہٖ جیسا کہ انھوں نے خوب بیان کیا اور ان پر مالك وجواد اﷲ کی رحمت ہو ۔ (ت)
اب یہ مخاطبہ ان مقامات رازونیاز سے ہوگا مولٰی وعبد ومحبوب میں ہوتے ہیں جن میں دوسرے کو دخل دینا حرام ، انھیں نقل مجلس بنانا حرام بلکہ بحال فسادنیت کفر صریح بلاکلام ، بھلا یہ تو ایك مخاطئہ کشفیہ ہوگا ، امیر المؤمنین ایك شخص کو کہ سورہ عبس شریف کی تلاوت بکثرت کرتا زجر شدید فرمایا ، امام ابن الحاج مکی مدخل میں فرماتے ہیں :
قدقال علمائنا رحمۃ اﷲ تعالٰی علیھم ان من قال عن نبی من الانبیا علیہم الصلٰوۃ والسلام فی غیر التلاوۃ والحدیث انہ عص اوخالف فقد کفر نعوذ باﷲ من ذلک[3] ، وقد قال الامام ابوعبداﷲ القرطبی رحمہ اﷲ تعالٰی فی کتاب التفسیر لہ حین تکلم علی قولہ وطفقا یخصفان علیھا من ورق الجنۃ الاٰیۃ فی سورۃ طٰہٰ ، قال القاضٰ ابوبکر ابن العربی رضی اﷲ تعالٰی عنہ لایجوز لاحدمنا الیوم ان یخبر بذلك عن اٰدم علیہ الصلاۃ والسلام الا اذا ذکرناہ فی اثناء قولہ تعالٰی عنہ اوقول نبیہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فاما ان نبتدی ذلك من نفسنا فلیس بجائز لنا فی اٰبائنا
ہمارے علماء رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی نے فرمایا : ہر وہ شخص جو تلاوت قرآن وحدیث رسول پڑھنے کے علاوہ کہے کہ فلاں نبی نے نافرمانی کی یا شریعت کی مخالفت کی وہ کافر ہوجائے گا ، ہم اس سے اﷲ کی پناہ چاہتے ہیں ، امام ابو عبداﷲ قرطبی نے اپنی تفسیر میں سورہ طٰہٰ میں “ وہ دونوں اپنے اوپر جنت کے پتّے چپکانے لگے “ کے تحت لکھا کہ قاضی ابوبکر ابن العربی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا : ہم میں سے کسی کو اجازت نہیں کہ آج وہ حضرت آدم علیہ الصلٰوۃ والسلام کے بارے میں ایسی بات کی اطلاع دے البتہ اس صورت میں جب وہ اﷲ تعالٰی کا یہ فرمان پڑھ رہا ہو یا نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی حدیث مبارک ، ہم اپنی طرف سے ایسے واقعات کو بیان کرنا شروع کردیں تو یہ ہم اپنے قریب اپنی مثل پہلے آباء کے بارے میں نہیں کہہ سکتے
الادنین الیناالمماثلین لنا فکیف بابیناالاقدم الاعظم الاکبر النبی المقدم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وعلٰی جمیع الانبیاء والمرسلین [4] انتہی
اس ہستی کے بارے میں یہ کیسے جائز ہوگا جو ہمارے باپ سب سے اقدم ، اعظم ، اکبر اور مقدم نبی ہیں صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم وعلٰی جمیع الانبیاء والمرسلین انتہی (ت)
علامہ شہاب خفاجی نسیم الریاض شرح شفائے قاضی عیاض میں فرماتے ہیں :
الدعا بھا ( ای بالمغفرۃ) لہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من امتہ لاینبغی لا یھامہ القصور من المدعو لہ کالدعاء لہ بالرحمۃ واماقول اﷲ تعالٰی لیغفرلك اﷲ ماتقدم من ذنبك وماتأخرو دعاؤہ لنفسہ بالمغفرۃ فلا یقاس علیہ [5]۔
[1] فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت بذیل المستصفی ، مسئلہ فی الکلام علی المرسل مطبوعہ مطبعۃ امیر قم ایران ٢ / ۱۷۵
[2] فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت بزیل المستصفی ھل کان یجوزلہ علیہ السلام الاجتہاد الخ مطبوعہ مطبعۃ امیر قم ایران ٢ / ٣٧٢
[3] المدخل لابن الحاج فصل فی مولد النبی مطبوعہ دارالکتاب العربی بیروت ۲ / ۱۵
[4] المدخل لابن الحاج فصل فی مولدالنبی مطبوعہ دارالکتاب العربی بیروت ٣ / ١٦
[5] نسیم الریاض شرح الشفاء فصل فی کیفیۃ الصلٰوۃ علیہ مطبوعہ دارالفکر بیروت ٣ / ٤٨٥
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع