30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وذلك لان مبنی الایمان علی المعنی المتفاھم فی العرف فعلیہ یدارالحکم ۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم ۔
یہ اس لئے ہے کہ اقسام کا مدار اس معنی پر ہوتا ہے جو عرفی ہولہذا حکم کا مدرار اسی پر ہوگا ۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم ۔ (ت)
مسئلہ۱۳۲۹ : از گوالیار ضلع مندسور قصبہ جادو مرسلہ عبدالملك خاں ۷ ربیع الاول شریف۱۳۲۳ ھ
کیا حکم ہے شرع شریف کا اس مسئلہ میں کہ جادو ایك قصبہ ہے جہاں تین مسجدیں اباد ایك ہی محلہ میں قریب قریب واقع ہیں جمعہ کے روز ہر مسجد والے اپنی اپنی مسجد میں مانند صلٰوۃ خمسہ کے جمعہ پڑھا کر تے ہیں ایك مولوی صاحب کہتے ہیں کہ اس طرح جمعہ پڑھنا صحیح نہیں کیونکہ جمعہ کی شرائط سے حضور سلطان ہے یا نائب یا ماذون باقامۃ جمعہ تو یہ شرط یہاں پر مفقود ہے اور ایسے مقام پر مسلمانوں کو چاہئے کہ ایك شخص کو اپنا قاضی و سردار بنا کر اس کے پیچھے جمعہ پڑھا کریں ، دوسرے مولوی صاحب فرماتے ہیں کہ جمعہ کی اقامت کے واسطے سلطان یا اس کے نائب مامور کا ہونا شرط نہیں ، اگر ان سے ایك بھی نہ ہو تو بھی جمعہ صحیح ہے اور مسلمانوں کو قاضی بنانا اور اُس کے پیچھے نماز پڑھنے کی کچھ ضرورت نہیں اسی طرح اپنی اپنی مسجدوں میں بھی جمعہ پڑھنا کچھ حرج نہیں بلکہ ایك جگہ جمع ہونے میں حرج ہے امید وار قولِ فیصل ہوں ، بینوا توجروا۔
الجواب :
فی الواقع ادائے جمعہ کے لئے سلطان یا اس کا نائب یا ماذون یا ماذون الماذون وھلم جرا ( اسی طرح اگے چلے چلو۔ ت) کا اقامت کرنا باتفاق ائمہ حنفیہ شرط ہے کتب المذھب طافحۃ بذلك ( کب مذہب اس سے مامور ہیں ۔ ت) مگر یہ ان شرائط سے ہے کہ محلِ ضرورت میں بخلفیت بدل ساقط ہوجاتی ہیں جیسے صحت نماز کے لئے وضو شرط ہے اور پانی پر قدرت نہ ہو تو تیمم اس کا خلیفہ وبدل ہے اور اس سے واضح ترا ستقبالِ خطبہ ہے کہ قطعًا شرط ہے اور بحال تعذر جہت تحری اس کی نائب ، یوں ہی اقامت سلطان بمعنی مذکور ضرور شرط جمعہ ہے اور یہاں بوجہ تعین مسلمین قائم مقام تعین سلطان ہے تو اسے شرط نہ کہنا بھی غلط اور اس کے نہ ہونے کے سبب یہاں جمعہ صحیح نہ ماننا اس سے زیادہ باطل وغلط اورمذہب صحیح ومعتمد ومفتی بہ میں تعددِ جمعہ مطلقًا جائز ہے ۔ کما نص فی غیر ماکتاب واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم بالصواب ۔
مسئلہ۱۳۳۰ : از پیلی بھیت مولانا وصی احمد صاحب محدث سورتی
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ امامت پنجگانہ وامامت جمعہ وعیدین کا ایك ہی حکم ہے کیا ؟ فقط
الجواب :
جمعہ وعیدین وکسوف امامت نماز پنجگانہ سے بہت تنگ تر ہے ، پنجگانہ میں ہر شخص صحیح الایمان صحیح القرائۃ صحیح الطہارۃ مرد عاقل بالغ غیر معذور امامت کرسکتا ہے یعنی اس کے پیچھے نماز ہوجائے گی اگر چہ بوجہ فسق وغیرہ مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہو تجوز الصلٰوۃ خلف کل بروفاجر( ہر نیك وبد کے پیچھے نماز جائز ہے۔ ت) کے یہی معنی ہیں مگر جمعہ وعیدین وکسوف میں کوئی امامت نہیں کرسکتا اگر چہ حافظ قاری متقی وغیرہ وغیرہ فضائل کا جامع ہو مگر وہ جو بحکم شرع عام مسلمانوں کا خود امام ہوکہ بالعموم ان پر استحقاقِ امامت رکھتا ہو یا ایسے امام کا ماذون ومقرر کردہ ہو اور یہ استحقاق علی الترتیب صرف تین طور پر ثابت ہوتا ہے :
اوّلًا : وہ سلطانِ اسلام ہو۔
ثانیًا : جہاں سلطنتِ اسلام نہیں وہاں یہ امامتِ عامہ اس شہر کے اعلم علمائے دین کو ہے۔
ثالثًا : جہاں یہ بھی نہ ہو وہاں بمجبوری عام مسلمان جسے مقرر کرلیں ، بغیر ان صورتوں کے جو شخص نہ خود ایسا امام نہ ایسے امام کا نائب وماذون ومقرر کردہ اس کی امامت ان نمازوں میں اصلًا صحیح نہیں ، اگر امامت کرے گا نماز باطل محض ہوگی ، جمعہ کا فرض سرپر رہ جائے گا ، ان شہروں میں کہ سلطان اسلام موجود نہیں اور تمام ملك کا ایك عالم پر اتفاق دشوار ہے ، اعلم علمائے بلد کہ اُس شہر کے سنی عالموں میں سب سے زیادہ فقیہ ہو نماز کے مثل مسلمانوں کے کاموں میں ان کا امام عام ہے اور بحکم قرآن اُن پر اس کی طرف رجوع اور اس کے ارشاد پر عمل فرض ہے جمعہ وعیدین وکسوف کی امامت وہ خود کرے یا جسے مناسب جانے مقرر کرے ، اُس کے خلاف پر عوام بطورِ خود اگر کسی کو امام بنالیں گے صحیح نہ ہوگا کہ عوام کا تقرر بمجبوری اُس حالت میں روارکھا گیا ہے جب امام عام موجود نہ ہو اُس کے ہوتے ہوئے ان کی اقرار داد کوئی چیز نہیں ، تنویر الابصار و درمختار باب الجمعہ میں ہے :
یشترط لصحتھا سبعۃ اشیاء الاول المصر وفناء والثانی السلطان اومامورہ باقامتھا [1]۔
صحت ِجمعہ کے لئے سات چیزیں شرط ہیں : ایك یہ شہر اور فناء شہر ، دوسری سلطان یا اقامت جمعہ پر اس کی طرف سے کوئی مامور ہو(ت)
فتاوٰی امام عتابی پھر حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ مطبوعہ مصر جلد اول صفحہ ۲۴۰میں ہے :
اذاخلا الزمان من سلطان ذی کفایۃ فالامور موکلۃ الی العلماء ویلزم الامۃ الرجوع الیھم و یصیرون ولاۃ فاذا عسر جمعھم علی واحد استقل کل قطر
جب کامل سلطان سے زمانہ خالی ہو تو معاملات علماء کے سپرد ہوں گے اور امت پر لازم ہے کہ وہ علماء کی طرف رجوع کرے اور اس وقت علماء ہی والی ہوجائیں گے اور جب ان کا کسی معاملہ پر
باتباع علمائہ فان کثروا فالمتبع اعلمھم فان استووا اقرع بینھم ۔ [2]
جمع ہونا مشکل ہوجائے تو ہر علاقہ کے لوگ اپنی طرف کے علماء کی اتباع کرلیں ، اور اگر اس علاقہ میں علماء زیادہ ہوں تو ان میں زیادہ علم والے کی اتباع کریں اور اگر وہ برابر ہوں توقرعہ ڈال لیا جائے (ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع