دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 8 | فتاوی رضویہ جلد ۸

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۸

تصیر دارالاسلامی دارالحرب باجراء احکام الشرك واتصال بدارالحرب بحیث لایکون بینہما مصرللمسلمین [1] الخ

دارالاسلام اس وقت دارالحرب بن جاتا ہے جب وہاں احکام شرك جاری ہوجائیں اور اس کا اتصال کسی دارالحرب سے ایسا ہو کہ ان کے درمیان مسلمانوں کا کوئی شہر نہ ہو۔ (ت)

درمنتقی میں ہے : البحر المالح ملحق بدارالحرب [2]( نمکین سمندر دارالحرب کا حکم رکھتا ہے ۔ ت) ردالمحتار میں ہے :

یلحق بھا البحر الملح ونحوہ کمفارۃ لیس ورائھا بلاد اسلام نقلہ بعضھم عن ا لحمو وفی حاشیۃ ابی السعود عن شرح النظم الھاملی سطح البحرلہ حکم درالحرب ۔ [3]

نمکین سمندر دارالحرب کے ساتھ ملحق ہے ، اور ہر وہ جنگل بھی جس سے آگے مسلمانوں کا شہر نہ ہو ، یہ بات بعض نے حموی کے حوالے سے نقل کی ہے اور حاشیہ ابی سعود میں شرح النظم الہاملی کے حوالے سے ہے کہ سطح سمندر کا حکم دارالحرب کا ہے۔ (ت)

اس تحقیق سے تمام صورِ مستفسرہ کا حکم واضح ہوگیا جو آبادیاں پر گنہ ہے اور اُن میں کوئی کچہری ہے ( نہ فقط تھانہ یا ڈاك خانہ یا شفا خانہ فصلِ مقدمات کے لئے نہیں ہوتے) اور وہاں سلطنت اسلام ہے یا پہلے تھی اور جب سے غیر مسلم کا قبضہ ہو بعض شعائر اسلام بلامزاحمت اب تك جاری ہیں جیسے تمام بلاد ہندوستان وبنگالہ ایسے ہی ہیں وہ سب اسلامی شہر ہیں ان میں جمعہ فرض ہے اور جو آبادی پر گنہ ہیں اُس میں کوئی کچہری نہیں یا کچہریاں ہیں پرگنہ ہے مگر اُس میں سلطنت کبھی نہ ہوئی یاتھی مگر اس کے بعد کفار نے شعائر اسلام یکسر بند کردئے گوبعد کو پھر اجازت بھی دے دی ہو ، وہ سب یا گاؤں ہیں غیر اسلامی شہر ، اُن میں جمعہ وعیدین جائزنہیں ، پڑھنے سے گناہ ہوگا اور جمعہ سے ظہر کافرض ساقط نہ ہوگا ، اب فقط یہ سوال رہا کہ ایك آدمی کے چند حصے ہیں اور اُن میں باہم بوجہ زراعت فاصلہ ہے آیا وہ ایك ہی آبادی متصور ہوگی یا متعدد ؟ ظاہر ًا اس سوال سے سائل کا مقصود مردم شماری کا لحاظ ہے کہ ان سب کے ساکنین ملاکر اُس بستی کی مردم شماری سمجھی جائے گی یا جُداجُدا؟ جیسا کہ تمام سوال میں اس نے تعداد ساکنان کا ذکر کیاہے ، مگر تحقیق جواب سے واضح ہوگیا کہ مردم شماری وتعداد سکان پر اصلًا نظر نہیں ، جو بستی پر گنہ نہیں اُس میں فیصلہ مقدمات کا کوئی حاکم نہیں مطلقًا  گاؤں ہے اس کی مردم شماری کسی قدر ہو ، اور جو پرگنہ ہے اس میں کچہری مقرر ہے وہ شہر ہے اگر چہ مردم شماری میں کم ہو ، ہاں جو آبادی شرعًا شہر قرار پائے اور اس میں جمعہ فرض صحیح ٹھہرے اور اس کے گرد اور آبادیاں میل ڈیڑھ میل کی مسافت پر واقع ہوں بیچ میں زراعت ہوتی ہوں وہاں ایك یہ سوال متوجہ ہوتا ہے کہ اُن ساکنانِ حوالی پر بھی جمعہ فرض ، اور ان مواضع میں اس کی ادا صحیح ہے یا نہیں ؟ اس کا جواب قولِ محقق پر یہ ہے کہ شہرکے گردا گرد جہاں تك کوئی موضع مصالح شہر کے لئے معین کیا گیا ہو مثلًا کیمپ یا عیدگاہ یا شہر کا قبرستان ، وہاں وہ سب فنائے مصر ہے اس میں جمعہ صحیح اور اس کے اہل پر جمعہ فرض اگر چہ بیچ میں زراعت کا فاصلہ ہو اور اگر مصالح شہر سے اسے تعلق نہیں اور بیچ میں فصل ہے تو وہ توابع شہر سے نہیں نہ اُس میں جمعہ صحیح نہ اُس کے ساکنوں پر فرض۔ ردالمحتار میں ہے :

قدنص الائمۃ علی ان الفناء مااعد لدفن الموتٰی وحوائج المصرکرکض الخیل ولدواب وجمع العساکر والخروج للرمی وغیر ذلك  ،  وبہ ظھر صحتھا فی تکیۃ السلطان سلیم بمرجۃ دمشق وکذافی مسجدہ بصالحیۃ دمشق فانھا من فناء دمشق وان انفصلت عن                  

ائمہ نے تصریح کی ہے کہ فناء سے مراد وہ جگہ ہے جو اموات کی تدفین او رشہری ضروریات کے لئے بنائی گئی ہو مثلًا گھوڑے اور چارپایوں کے دوڑانے کی جگہ لشکر گاہ اور نشانہ بازی سیکھنے کے لئے جگہ وغیرہ۔ اس سے یہ ظاہر ہوگیا کہ مقام مرجہ دمشق میں سلطان سلیم کے تکیہ میں جمعہ صحیح ہے اس طرح مقام صالحیہ دمشق پر ان کی مسجد میں بھی کیونکہ وہ فنائے دمشق ہے اگرچہ

دمشق بمزارع [4]اھ مختصرا

دمشق سے کاشتی زمینوں کی وجہ سے الگ ہے ۔ اھ مختصرا (ت)

نیز دوسرا سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ وہ بستی شہر ہو یا نہ ہو جب اُس کا ساکن تین منزلہ کے ارادے سے سفر کو چلا تو آیا جب اپنی خاص آبادی سے نکل جائے گا اس وقت سے مسافر ٹھہرائے گا اور قصر کرے گا اگر چہ وہ دوسری آبادیاں ہنوز راہ میں آنے والی ہوں یا جب ان سب ابادیوں سے نکل جائے گا اس وقت سے مسافر ہوگا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جب بیچ میں فاصلہ ہے زراعتیں ہوتی ہیں تو ان سے گزرجانے کا لحاظ نہ ہوگا اگر چہ وہ مصالح شہر ہی کے لئے مقرر کی گئی ہوں ، جب اپنی آبادی سے نکل جائے گا مسافر ہوجائے گا ، ہاں جہاں تك آبادی متصل چلی گئی ہو وہ موضع واحد ہے اس سے تجاوز ضرور ہوگا ، دالمحتار میں ہے :

امام الفناء وھوالمکان المعد لمصالح البلد کرکض الدواب ودفن الموتی والقاء التراب فان اتصل بالمصرا عتبر مجاوزتہ وان انفصل بغلوۃ اومزرعۃ مجاوزتہ وان انفصل بغلوۃ اومزرعۃ فلا کما یاتی بخلاف الجمعۃ فتصح اقامتھا فی الفناء ولو منفصلا بمزارع [5] ۔                                 

فناء وہ جگہ ہے جو شہر کی ضروریات کے لئے بنائی گئی ہو مثلًا چوپایوں کے دوڑنے ، اموات کی تدفین اور مٹی وغیرہ پھینکنے کےلئے ہو اگر شہر کے ساتھ متصل ہو ، تو پھر مسافر کا اسی سے گزر جانا معتبر ہے اور اگر بمقدار غلوۃ( تیرمارنے کا انتہائی فاصلہ) یا مزرعہ ( کھیت) جدا ہے تواس کا گزرنا ضروری نہیں جیسا کہ آرہا ہے بخلاف جمعہ کے اس کا قیام فناء میں جائز ہوتا ہے خواہ وہ مزارع کی مقدار جدا ہو ۔ (ت)

نیز تیسرا سوال یہ نکلتا ہے کہ اگر کسی شخص نے قسم کھائی کہ فلاں آبادی میں نہ رہوں گا پھر اپنی خاص آبادی جس میں رہتا تھا چھوڑ کر گرد کی کسی آبادی میں سکونت اختیار کی تو آیا قسم سچی ہوئی یا نہیں ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جب اُن آبادیوں کے خاص خاص نام جدا ہیں اور سب ملاکر ایك جدا نام سے تعبیر کی جاتی ہیں تو اگر اس نے وہ نام لے کر قسم کھائی جو خاص اس کی آبادی کا تھا اور اُسے چھوڑ کر دوسری آبادی میں جارہا جس پر وہ نام اطلاق نہیں کیا جاتا اور اس کا ساکن عرف میں اُس آبادی کا ساکن نہیں ٹھہرتاتو قسم پُوری ہوئی اور اگر وہ نام لیا تھا جس میں یہ سب داخل ہیں جس ابادی میں اب آیا وہ اسی پہلی آبادی کا حصہ سمجھی جاتی ہے اور اس کے ساکن کو اُسی کا ساکن تصور کیا جاتا ہے تو قسم پوری نہ ہوئی کفارہ دے۔

 



[1]    دررالحکام فی شرح غررالحکام باب المستامن مطبوعہ مطبعۃ کامل الکاملیہ فی دارسعادت مصر ۱ /  ۲۹۵

[2]    درمنتقی علی ہامش مجمع الانہر فصل فی مابقی من احکام المستامن مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /  ۶۵۹

[3]    رد المحتار کتاب الجھاد باب استیلاء الکفار۔ ۔ الخ مطبوعہ دارالمعرفہ بیروت ۶ /  ۲۵۵

[4]    ردالمحتار باب الجمعۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /  ۵۹۱

[5]    ردالمحتار باب صلٰوۃ المسافر ۱ /  ٥٧٨

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن