دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 8 | فتاوی رضویہ جلد ۸

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۸

ہاں جب سوال کیا جائے تو جواب میں وہی کہا جائے گا جوا پنا مذہب ہے وﷲ الحمدیہ عوام کالانعام کے لئے ہے البتہ وہ عالم کہلانے والے کہ مذہب امام بلکہ مذہب جملہ ائمہ حنفیہ کو پس پشت ڈالتے تصحیحات جماہیر ائمہ ترجیح وفتوی کو پیٹھ دیتے اور ایك روایت نادرہ مرجوعہ عنہا غیر صحیح کی بنا پر ان جہال کوردہ میں جمعہ قائم کرنے کا فتوی دیتے ہیں یہ ضرور مخالفتِ مذہب کے مرتکب او ران جہلا ءکے گناہ کے ذمہ دار ہیں نسأل اﷲ العفووالعافیۃ ( ہم اﷲ تعالٰی سے عفو وعافیت کا سوال کرتے ہیں ۔ ت) واﷲ تعالٰی اعلم

مسئلہ ۱۳۲۸ :              از مدرسہ اسلامیہ امروہہ مرسلہ مولوی عبدالشکور صاحب ارکانی                     ۱۳محرم ۱۳۲۳ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك بستی میں قریب تین چار سو مسلمان مرد مکلف اور اُس کے قریب قریب بھی اتنے مرد مقیم ہیں اُس بستی میں منصفی تھانہ ڈاك خانہ شفاخانہ بازار بھی ہیں اب یہ مصر ہے یا قریہ؟ اس بستی والے پر جمعہ واجب ہے یا نہیں ؟ اگر واجب نہیں تو یہاں جمعہ ادا کرنے سے صلٰوۃظہر ذمہ سے ساقط ہوگی یا نہیں ؟ ہمارے ملك برہما کی آبادی میں کہیں کہیں تومسلمان مرد مکلف ہزار دوہزار تلك مقیم ہیں ایسی بستی کم ہے اور ادنٰی درجے میں بعض بستیوں میں دس بیس مرد مسلمان مکلف مقیم ہیں البتہ جن بستیوں میں سو دوسو چار پانچ سو مرد مکلف ہیں بہت ساری ہیں بعض بسیتوں میں سات آٹھ سو مکلف مقیم ہیں ، اب ان آبادیوں میں سے کوئی شہر کہلا سکتی ہے یا نہیں ؟ اور اگر سب کو گاؤں مانیں گے تو کوئی بڑے گاؤں میں بھی جمعہ اورعیدین فرض یا واجب ہے یا نہیں ؟ اور اگر واجب نہیں تو ان بستیوں میں سے کسی میں جمعہ ادا کرے تو صلٰوۃ ظہرذمہ سے ساقط ہوگی یا نہیں ؟ اگر آپ بڑے گاؤں میں جمعہ درست بتائیں تو ان بستیوں میں کون سی بستی بڑی کہلائے گی؟ اس کی تشریح فرمادیں ، جن آبادیوں میں کئی ایك حصے ہیں فقط زراعت وغیرہ کی میل ڈیڑھ میل کے فاصلے پر ایك دوسرے سے بسا ہے ہر ایك کانام بھی آپس میں جداگانہ ہے مگر اطراف میں ایك ہی نام مشہور ہے اب کیا سب کو ملا کر ایك بڑی بستی ماننا پڑے گی یا ہر ایك کا حکم جداگانہ ہے حتی الامکان جواب مفصل اور مدلّل سے ہم نابیناؤں کو ہدایت فرمائیں ۔ 

الجواب :

فرضیت وصحت وجوازِ جمعہ سب کے لئے اسلامی شہر ہونا شرط ہے ، جوجگہ بستی نہیں جیسے بَن سمندر یا پہاڑ ، یا بستی ہے مگر شہر نہیں جیسے دیہات ، یا شہر ہے مگر اسلامی نہیں جیسے روس فرانس کے بلاد ، اُن میں جمعہ فرض ہے نہ صحیح نہ جائز بلکہ ممنوع وباطل وگناہ ہے اس کے پڑھنے سے فرض ظہر ذمہ سے ساقط نہ ہوگا ، شہر ہونے کے لئے یہ چاہئے کہ اس میں متعدد کوچے متعدد دائمی بازار ہوں ، وہ پرگنہ ہو کہ اس کے متعلق دیہات گنے جاتے ہوں کہ موضع فلاں فلاں وفلاں پرگنہ شہر فلاں اور اُس میں کوئی حاکم یا فیصلہ مقدمات کا اختیار من جانب سلطنت رکھتا ہو دونوں باتیں عادۃً متلازم ہیں سلطنت جسے پر گنہ قرار دیتی ہے ضرور اس میں کوئی حاکم لااقل منصف یا تحصیلدار رکھتی ہے اور جہاں سلطنت کوئی کچہری قائم کرتی ہے اسے ضرور ضلع یا کم از کم پرگنہ بتاتی ہے اور عادۃً پہلی دو باتیں بھی ان دو کو لازم ہیں ، جو پر گنہ ہوتا ہے جہاں کچہری مقرر ہوتی ہے وہاں ضرور متعدد بازار متعدد کوچے ہوتے ہیں ،

ولاعکس فقد تتعدد ولاحاکم ولا رساتیق فذکر الاولین لایغنی عن الاخیرین بخلاف الاخیرین ففیھما الکفایۃ ولذا انما بنی الامر علیھما فی اقرب الاقاویل الی الصواب۔

اس کا عکس نہیں ( یعنی جہاں بازار ہوں وہاں کچہری کا ہونا ضروری نہیں ) اور کبھی کوچے بازار متعدد ہوتے ہیں مگر حاکم اور متعلقہ دیہات نہیں ہوتے تو پہلے دو کاذکرآخری دو کے ذکر سے کفایت نہیں کرتا برخلاف آخری دونوں کا ذکر وہ کفایت کرتا ہے اسی لئے صحت کے قریب ترین قول میں معاملہ کی بنا ان دونوں پر کی گئی ہے ۔ (ت)

فتاوٰی غیاثیہ پھر غنیہ شرح منیہ میں ہے :

لوصلی الجمعۃ فی قریۃ بغیر مسجد جامع و القریۃ کبیرۃ لھا قری وفیھا وال حاکم جازت الجمعۃ بنواالمسجد اولم یبنوا و ھوقول ابی القاسم الصفار وھذا اقرب الاقاویل الی الصواب [1]۔

اگر جمعہ بغیر جامع مسجد کے قریہ میں پڑھ لیا حالانکہ وہ قریہ بڑا تھا او راس کے اردگرد متعدد دیہات تھے اور وہاں والی وحاکم بھی تھا تو جمعہ جائز ہے خواہ وہ مسجد بنائیں یا نہ بنائیں ، شیخ ابوالقاسم الصفا ر کا یہی قول ہے اور یہ تمام اقوال میں سے صواب کے زیادہ قریب ہے ۔ (ت)

غنیہ میں اسے نقل کرکے فرمایا :

وھو لیس ببعید مماقبلہ والمسجد الجامع لیس بشرط [2] انتھی واراد بما قبلہ ما قدم عن تحفۃ الفقھاء للامام علاء الدین السمرقندی عن الامام الاعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ انہ بلدۃ کبیرۃ فیھا سکك واسواق ولھا رساتیق وفیھا وال قال فی التحفۃ ھذا ھو الاصح[3] اھ  وانما لم یکن بعیدامنہ لما قدمنا ان السکك والا سواق تلزم عادۃ للامرین المذکورین کما قال فی الغنیۃ ایضا بعد نقل مافی التحفۃ  ،  الاان صاحب الھدایۃ ترك ذکر السکك والرسایتق بناء علی الغالب ان الامیر والقاضی شانہ القدرۃ علی تنفیذ الاحکام واقامۃ الحدود ولایکون الا فی بلد                                

یہ قول اپنے ماقبل قول سے دور نہیں اور مسجد جامع ہونا جمعہ کے لئے شرط نہیں انتہی اور ماقبل قول سے وہی مراد ہے جو امام علاء الدین سمرقندی نے تحفۃا لفقہاء میں امام اعظم   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کے حوالے سے لکھا کہ وہ مقام شہر ہے جو نہایت بڑا ہو ، اس میں کوچے بازار ہوں او راس سے متعلقہ دیہات ہوں او راس میں کوئی والی ہو ، تحفہ میں کہا یہی اصح ہے اھ  اس قول کی ماقبل قول سے بعید نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ عادۃً کوچے اوربازار مذکورہ دونوں امور کو لازم ہوتے ہیں جیسا کہ غنیہ میں بھی قنیہ کی عبارت نقل کرنے کے بعد کہا البتہ صاحب ہدایہ نے کوچے اور دیہات کے ذکرکو ترك کردیا اس بناء پر کہ اکثر یہی ہوتا ہے کہ وہ امیر اور قاضی جو احکام کے نفاذ اور اقامتِ حدود کی شان

کذلك قال فالحاصل ان اصح الحدود ماذکر فی التحفۃ لصدقہ علی مکۃ والمدینۃ و ھما الاصل فی اعتبار المصریۃ[4]اھ

رکھتے ہیں وہ اسی طرح کے شہر میں ہی ہوتے ہیں پھر کہا اصح تعریف وہی ہے جو تحفہ میں ہے کیونکہ مکۃ المکرمہ اورمدینہ طیبہ میں سے ہر ایك پر صادق آرہی ہے اور وہ دونوں شہر کے حوالے سے اصل کا درجہ رکھتے ہیں اھ (ت)

 



[1]    غنیہ المستملی فصل فی صلٰوۃ الجمعۃ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۵۵۱

[2]    غنیہ المستملی فصل فی صلٰوۃ الجمعۃ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۵۵۱

[3]    غنیہ المستملی فصل فی صلٰوۃ الجمعۃ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۵۵۰

[4]    غنیۃ المستملی فصل فی صلوۃ الجمعۃ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ، ص۵۵۱

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن