30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جو مدینہ منورہ میں مقیم ہیں ان کی تعداد جمعہ کے لئے مذکورہ ضرورت کو پورا نہیں کرتی تمام اہل مدینہ کے اجتماع کے باوجود مسجد نبوی شریف کی اطراف کو خالی دیکھا جاتا ہے ، ریاض الجنۃ اور اس کے آس پاس کی جگہ پر لوگوں کا ازدحام اس لئے ہوتا ہے کہ اس سے مصطفٰی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا قرب اور مزید فضل نصیب ہوتا ہے ، اسی طرح شرح میں ہے ، (ت)
غنیہ میں ہے :
الفصل فی ذلك ان مکۃ والمدینۃ مصر ان تقام بھما الجمع من زمنہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الی الیوم فکل موضع کان مثل احدھما فھو مصر وکل تفسیر لا یصدق علی احدھما فھو غیر معتبر حتی التعریف الذی اختارہ جماعۃ من المتأ خرین کصاحب المختار روالو قایۃ وغیرھما وھو مالو اجتمع اھلہ فی اکبر مساجدہ لایسعھم فانہ منقوض بھما اذا مسجد کل منھما یسع اھلہ وزیادۃ [1]۔
فیصلہ اس میں یہ ہے کہ مکۃ المکرمہ اور مدینہ طیبہ میں حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ظاہر ی حیات سے لے کرآج تك جمعہ ادا کیا جاتا ہے تو ہر وہ مقام جوان دونوں میں سے کسی ایك کی طرح ہوگا وہ شہر کہلائے گا اور جو تعریف شہر ان دونوں میں سے کسی ایك پر صادق نہ آئے گی وہ غیر معتبر ہوگی حتی کہ وہ تعریف جیسے متاخرین کی ایك جماعت مثلًا صاحب مختار او رصاحب وقایہ وغیرہ نے اختیار کی کہ ( ہر مقام شہر ہوگا) “ اگر وہاں کی سب سے بڑی مسجد میں وہاں کے لوگ جمع ہوجائیں او رمسجد میں ان کے لئے گنجائش نہ رہے “ ان دونوں مکہ ومدینہ کی وجہ سے محل اعتراض ہیں کیونکہ ان کی مساجد وہاں کے مقیم بلکہ اس سے زائد لوگوں کی گنجائش رکھتی ہیں ۔ (ت)
لاجرم علمانے تصریح کی فرمائی کہ یہ تعریف محققین کے نزدیك صحیح نہیں ۔ ملتقی الابحر میں ہے :
وقیل مالواجتمع اھلہ فی اکبر مساجدہ لایسعھم [2]۔
بعض نے شہر کی یہ تعریف ہے کہ وہاں کے تمام لوگ اگر جمع ہوں تو وہاں کی سب سے بڑی مسجد ان کے لئے کافی نہیں ۔ (ت)
مجمع الانہر میں ہے :
انما اورد بصیغۃ التمریض لانھم قالوا ان ھذا الحد غیر صحیح عند المحققین [3]۔
“ قیل “ لایا گیا ہے اس لئے کہ فقہاء نے فرمایا کہ یہ تعریف محققین کے ہاں صحیح نہیں ۔ (ت)
اسی طرح شرح نقایہ وغیرہ میں ہے معہذا معلوم ہے او رخود اس تعریف کے اختیار کرنے والوں کو اقرار ہے کہ وہ روایت نادرہ خلاف ظاہر الروایۃ ہے اور علما تصریح فرماتے ہیں کہ جو کچھ ظاہرا لروایہ کے خلاف ہے وہ ہمارے ائمہ کا قول نہیں وہ سب مرجوع عنہ اور متروك ہے ، بحر الرائق میں ہے :
ماخرج عن ظاھر الرویۃ فھو مرجوع عنہ والمرجوع عنہ لم یبق قولا لہ [4] ۔ ملخصا۔
جو ظاہرالروایہ سے نکل جائے وہ مرجوع عنہ ہے اور مرجوع عنہ امام کا قول نہیں رہے گا ۔ ملخصًا (ت)
فتاوٰی خیریہ میں ہے :
صرحوابہ ان ماخرج عن ظاھرالروایۃ لیس مذھبا لابی حنیفۃ ولا قولا لہ [5]۔
فقہا ءنے تصریح کی ہے کہ جو ظاہرالروایہ سے نکل جائے وہ نہ امام صاحب کا مذہب ہوتا ہے اور نہ قول (ت)
ردالمحتارمیں ہے :
ما خلف ظاھر الروایۃ لیس مذھبا لاصحابنا [6]۔
جو ظاہر الروایہ کے خلاف ہو وہ ہمارے اصحاب ( احناف) کا مذہب نہیں ہوتا ۔ (ت)
تو ظاہر الروایہ مصح معتمد معمول علیہ مختار جمہور مؤید ومنصور کے خلاف ایك روایت نادرہ پر عمل وفتوی کیونکر روا۔ درمختار میں ہے :
الحکم والفتیا بالقول المرجوح جھل و خرق للاجماع [7]۔
جو قول مرجوح ہو اس پر حکم وفتوی جاری کرنا جہالت اور اجماع کی مخالفت ہے۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
کقول محمد مع وجود قول ابی یوسف اذالم یصحح اویقو وجہہ واولی من ھذا بالبطلان الافتاء بخلاف ظاھر الروایۃ اذالم یصحح والافتاء بالقول الموجوع عنہ انتھی [8]۔
جیسا کہ امام ابویوسف کے قول کے موجودگی میں امام محمد کے اس قول پرفتوی جائز نہیں جس کی تصحیح نہ ہوئی ہو یا اس قول کی وجہ قوی نہ ہو اور اس کی نسبت ظاہر روایت کے خلاف فتوٰی دینا اور بھی باطل ہے جبکہ اس خلاف کی تصحیح نہ ہو اور یوں ہی اس قول پرجس سے رجوع کرلیا گیا ہو فتوٰی ناجائز ہے انتہٰی ، ح ۔ (ت)
[1] غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی صلٰوۃ الجمعہ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص ۵۵۰
[2] ملتقی الابحر باب الجمعۃ مطبوعہ مؤسستہ الرسالہ بیروت ١ / ١٤٣
[3] مجمع الانہر شرح ملتقی لابحر ، باب الجمعۃ ، مطبوعہ مؤسستہ الرسالہ بیروت ١ / ١٤٣
[4] بحرالرائق ، فصل یجوز تقلید من شاء الخ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶ / ۲۷۰
[5] فتاوٰی خیریۃ ، کتاب الطلاق مطبوعہ دار المعرفۃ بیروت ، ١ / ٥٢
[6] ردالمحتار ، کتاب احیاء الموات ، مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ / ۲۷۸
[7] درمختار مقدمۃ الکتاب مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۵
[8] ردالمحتار ، مطلب فی حکم التقلید مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۵۵
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع