دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 8 | فتاوی رضویہ جلد ۸

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۸

اور ظاہر کہ معنی متعارف میں شہر و مصر ومدینہ اُسی آبادی کو کہتے ہیں جس میں متعدد کوچے ، محلے متعدد ودائمی بازار ہوتے ہیں ، وہ پرگنہ ہوتا ہے اُس کے متعلق دیہات گنے جاتے ہیں ، عادۃً اس میں کوئی حاکم مقرر ہوتا ہے کہ فیصلہ مقدمات کرے ، اپنی شوکت کے سبب مظلوم کا انصاف ظالم سے لے سکے۔ اور جو بستیاں ایسی نہیں وہ قریہ و دِہ وموضع وگاؤں کہلاتی ہیں ، شرعًا بھی یہی معنی متعارفہ مراد ومدار احکام جمعہ وغیرہا ہیں ، ولہذا ہمارے امام اعظم وہمام اقدم   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے شہر کی یہی تعریف ارشاد فرمائی ، علامہ ابراہیم حلبی غنیہ شرح منیہ میں فرماتے ہیں :

فی تحفۃ الفقہاء عن ابی حنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ انہ بلدۃ کبیرۃ فیھا سکك واسواق ولھا رساتیق وفیھا وال یقدر علی انصاف المظلوم من الظالم بحشمتہ وعلمہ او علم غیرہ یرجع الناس الیہ فیما تقع

تحفہ میں امام ابو حنیفہ   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے مروی ہے شہر وہ ہوگا جو بڑا ہو اس میں سڑکیں ، بازار ، سرائے ہوں وہاں کوئی ایسا والی ہو جو اپنے دبدبہ ، اپنے علم یا غیر کے علم کی وجہ سے ظالم سے مظلوم کو انصاف دلاسکیں ، حوادثات میں لوگ

من الحوادث وھذا ھو الاصح [1]۔

اس کی طرف رجوع کریں اور یہی اصح ہے ۔ (ت)

ہاں اتنا ضرور ہے کہ جمعہ اسلامی حکم ہے اس کے لئے اسلامی شہر کا ہو نا ضروری ہے ولہذا دارالحرب میں اصلًا جمعہ نہیں اگر چہ کتنے ہی بڑے امصار عظام کبار ہوں جس میں دس دس لاکھ آدمیوں کی آبادی ہو ، نہ اس وجہ سے کہ وہ شرعًا شہر نہیں ، اصطلاحِ شرع میں وہ گاؤں ہیں ، حاشایہ محض غلط ہے قیامت تك کوئی ثبوت نہیں دے سکتا کہ شرع مطہر نے کفار کے امصار کبار کو مصر و مدینہ سے خارج اور دِہ گاؤں بتایا ہو اس بنا پرکہ وہاں اقامتِ حدود وتنفیذِ احکام شرع نہیں ، رسول اﷲ   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی جب بیثت ہوئی مکمہ معظمہ بلکہ تمام دنیا میں جیسا کہ کفر و کا فرین کا تسلط وغلبہ تھا ظاہر وعیاں ہے اور اکثر مرسلین کرام اصحاب شرائع جدیدہ علیہم الصلٰوۃ والسلام ایسے ہی شہروں میں پیدا ہوتے ہیں اور وہیں کے ساکن ہوکر انھیں پر مبعوث ہوتے اب کیا معاذ اﷲ یہ کہا جائے گا کہ شرعًا ی مرسلین صلوات اﷲ تعالٰی وسلامہ علیہم اجمعین دیہاتی تھے حالانکہ اﷲ عزوجل فرماتا ہے : وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ مِّنْ اَهْلِ الْقُرٰىؕ-[2]۔ ہم نےتم سے پہلے جتنے رسول بھیجے وہ سب مرد اور شہر ی ہی تہے۔ ان میں کوئی عورت نہ تھی نہ کو ئی گنوار بھی خود حضور   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   کو جس وقت غلبہ کفار کے سبب مکہ معظمہ سے ہجرت کی ضرورت ہوئی اس وقت بھی قرآن عظیم نے مکہ مکرمہ کو شہر ہی فرمایا وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ هِیَ اَشَدُّ قُوَّةً مِّنْ قَرْیَتِكَ الَّتِیْۤ اَخْرَجَتْكَۚ-اَهْلَكْنٰهُمْ فَلَا نَاصِرَ لَهُمْ(۱۳)[3]۔ بہتیرےشہرکو تمھارے اس شہر سے جس نے تم کو نکالا زیادہ قوت والے تھے ہم نے ہلاك کردئے تو ان کا کوئی مدد گار نہیں ، بلکہ وجہ صرف یہ ہے کہ دارالحرب کے شہر کفر کے شہر ہیں اور اقامت جمعہ کو اسلامیہ شہر درکار ، اسی طرف نظرکرم فرماکر کلام قدماء میں جبکہ اسلام کا دوردورہ تھا اور اسلامی شہر اسلامی احکام کے پابند تھے لہ امیر وقاض ینفذ الاحکام ویقیم الحدود ( وہاں کوئی امیر یا قاضی ہو جو احکام نافذ اور جاری کر سکے۔ ت) واقع ہو اس سے مقصود وہی تھا کہ اسلامی شہر کہ اُس وقت اسلامی شہر ایسے ہی ہوتے تھے ، یہ معنی نہ تھے کہ تنفیذ احکام واقامت حدود سنخ حقیقت شہر میں داخل ہے ، یہ نہ ہو شہرشرعًا شہر ہی نہ رہے گا گاؤں ہو جائے گا حالانکہ فتنہ بلوائیان مصر میں خاص زمانہ خلافت راشدہ میں چند روز تنفید احکام نہ ہوئی کیا اُس وقت مدینہ طیبہ گاؤں ہوگیا تھا اور اس میں جمعہ پڑھنا حرام باطل ہوا تھا؟ حاشا ہر گز ایسا نہیں ، خودیہی علماء تصریح فرماتے ہیں کہ ایام فتنہ میں اقامت جمعہ ہوگی اور شہر شہریت سے خارج نہ ہوگا ، ولہذا رد المحتار میں ہے :

لومات الوالی اولم یحضر الفتنۃ ولم یوجد احد ممن لہ حق اقامۃ الجمعۃ نصب العامۃ لھم خطیبا للضرورۃ کما سیأتی مع انہ لا امیر والا قاضٰ ثمہ اصلا ،  وبھذا ظھر جھل من یقول لاتصح الجمعۃ فی ایام الفتنۃ مع انھا تصح فی البلاد التی استولی علیہا الکفار کما سنذکرہ فتامل[4]۔

اگروالی فوت ہوگیا یا فتنہ کی وجہ سے آنہیں سکتا اور وہاں کوئی ایسا شخص بھی نہ ہو جو جمعہ کی امامت کا حقدار ہے تو پھر ضرورت کی وجہ سے خطیب مقرر کرسکتے ہیں جیسا کہ عنقریب آرہا ہے ، ا س کے ساتھ ساتھ کہ وہاں کبھی قاضی یا امیر نہ ہو ، اس سے اس شخص کی جہالت بھی واضح ہوگئی جو کہتاہے کہ فتتہ کے دنوں میں جمعہ صحیح نہیں حالانکہ جمعہ ان شہروں میں درست ہے جن پر کفار کی ولایت ہو جیسا کہ ہم عنقریب بیان کریں گے پس غور کیجئے ۔ (ت)

اس تعریف میں الفاظ ینفذ ویقیم ( نافذ کرے اور قائم کرے ۔ ت) موہم فعلیت تھے جس سے بعض کبراء کو دھوکا ہو جسے امام اعظم   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کے ارشاد یقدر علی الانصاف ( وہ انصاف پر قادرہو۔ ت)نے زائل کردیا کما بینہ فی الغنیۃ وردالمحتار وغیرھما من الاسفار ( جیسے کہ یہ بات غنیہ اور ردلمحتار وغیرہ جیسی کتب میں ہے ۔ ت) اورحقیقۃ غور کیجئے تو ارشاد امام میں علمہ اوعلم غیرہ ( اپنے یاغیر کے علم کی بناء پر ۔ ت )کہ مفید تقیید اسلام والی ہے یہ بھی اُس زمانے کی حالت کے مطابق تھا اس وقت میں اور اس کے بعد صدہا سال تك اس کی نظیر قائم نہ ہوئی تھی کہ شہر دارالاسلام ہو اور حاکم کافر ولہذا نظر بحالت موجودہ اسلامیت شہر واسلام شہریار میں تلازم تھا ان بندگان خدا کے خواب میں بھی یہ خیال نہ گزرتا ہوگا جو آج آنکھوں کے سامنے ہے کہ شہر دارالاسلام اور اس پر کفار حکام ورنہ حقیقۃً صرف اُسی قدر درکا ہے کہ اسلامی شہر ہو اگر چہ والی کافرہی ہو ، ولہذا جامع الرموز میں زیر قول ماتن شرط الادئھا المصر والسلطان ( ادائے جمعہ کے لئے شہر او سلطان کاہونا شرط ہے ۔ ت) فرمایا :

الاطلاق مشعر بان الاسلام لیس بشرط[5]۔

اطلاق بتاتاہے کہ اسلام شرط نہیں ۔ (ت)

مبسوط ومعراج الدرایہ وجامع الفصولین وہندیہ وردالمحتار وغیرہا میں ہے :

فلو الولاۃ کفارا یجوز للمسلمین اقامۃ الجمعۃ ۔

 



[1]   غنیۃ المستملی شرح منیۃ الصلی فصل فی صلٰوۃ الجمعۃ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص ۵۵۰

[2]    القرآن ۱۲ /  ۱۰۹

[3]    القرآن ۴۷ /  ۱۳

[4]    ردالمحتار باب الجمعۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ /  ٥۹٠

[5]    جامع الرموز فصل فی صلٰوۃ الجمعۃ مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ١ /  ٢٦٣

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن