دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 8 | فتاوی رضویہ جلد ۸

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۸

(۱) بعد نماز جمعہ احتیاطًا ظُہر پڑھنا کیسا ہے ، چاہئے یا نہیں ؟

(۲) خطبہ جمعہ میں جب نام پاك محمد   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا آوے اُس وقت سامعین کو درود شریف پڑھنا کیسا ہے ، چاہئے یا نہیں ؟ بینوا توجروا

الجواب :

( ۱) احتیاطی ظہر کی عام لوگوں کو حاجت نہیں ۔

(٢) خطبے میں حضور اقدس   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا نام پاك سن کر دل میں درود پڑھیں ، زبان سے سکوت فرض ہے ۔ واﷲ تعالٰی اعلم

مسئلہ ١٣٢٧ :         از بنگالہ ضلع ڈھاکہ ڈاك خانہ بلابو قصبہ نیلو کھیا مرسلہ محمد نیاز حسین     ١٢ محرم الحرام ١٣٢٣ھ

اگر قری میں جہاں مسلمان کثرت سے ہوں اور مکانات آپس میں متصل بلا فاصلہ ہیں اگر ہے تو پندرہ یا بیس گز اور نماز پنجگانہ کے لئے مقرر ہے اذان و جماعت ہوتی ہے وہاں کے لوگ متفق ہو کر ایك شخص کوامام جمعہ مقرر کرکے نماز جمعہ ادا کرلیں تو علیہ ماوجب لہ ( جوان پر لازم ہے ۔ ت) سے بری ہوں گے یا نہیں ، اور موافق مذہب امام اعظم وحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ صحیح ہوگا یا نہیں ، اور بعد نماز جمعہ ظہر احتیاطی پڑھنا کیسا ہے او روہ لوگ بسبب اس جمعہ پڑھنے کے مستحق ثواب یا اثم ، اور اگر اثم ہے تو کیسا؟ بینوا بالتفصیل مع الدلیل توجروا یوم الاخر والحساب اٰمین یا رب العٰلمین ( تفصیلا دلائل کے ساتھ بیان فرمادیجئے اﷲ تعالٰی آخرت میں آپ کو اجر عطا فرمائے۔ اے رب العٰلمین ! دعا قبول فرما ۔ ت) صحتِ جمعہ کے لئے مصر شرط ہے پس مصر کی تعریف صحیح موافق مذہب امام اعظم   رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کہا ہے اور تعریف قری جس میں جمعہ واجب نہیں اور نہ وہاں جمعہ پڑھنا جائز کیا ہے ، قری اور دیہات میں فرق ہے یا نہیں ، اگر فرق ہے تو کس میں جمعہ جائز اور کس میں ناجائز ؟

الجواب :

مذہب حنفی میں فرضیت جمعہ وصحت جمعہ وجوازِ جمعہ سب کے لئے مصر شرط ہے دیہات میں نہ جمعہ فرض نہ وہاں اس کی ادا جائز و صحیح ، اگر پڑھیں گے ایك نفل نماز ہوگی کہ برخلاف شرح جماعت سے پڑھی ظہر کا فرض سرسے نہ اُترے گا پڑھنے والے متعدد گناہ کے مرتکب ہوں گے ،

للاشتغال بما لایصح [1] کما فی الدرالمختار وللتنفل بجماعۃ بالتداعی ولترك جماعۃ الظھر وان ترکوا الظھر فاشنع واخنع۔

یہ ایسے کام میں مشغول ہونا ہے جو صحیح نہیں ، جیسا کہ درمختار میں ہے۔ اور تداعی کے ساتھ نوافل کا جماعت کے ساتھ اداکرنا اور جماعت ظہر کا ترك لازم آتا ہے اور اگر وہ ظہر ترك کردیتے ہیں تو یہ نہایت ہی برا و قبیح عمل ہے۔ (ت)

قریہ زبانِ عرب میں شہر کوبھی کہتے ہیں ،

قال تعالٰی  وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ مِّنْ اَهْلِ الْقُرٰىؕ-[2]  ،  ای الامصار لعلمھم وحلمھم دون البوادی لغلظھم وجفائھم وقال تعالٰی عَلٰى رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٍ(۳۱) [3] ، ای مکۃ و الطائف وقال تعالٰی مِّنْ قَرْیَتِكَ الَّتِیْۤ اَخْرَجَتْكَۚ-[4]۔           

اﷲ تعالٰی کا فرمان ہے “ اور ہم نے نہیں بھیجا آپ سے پہلے مگر مردوں کو جن پر ہم نے وحی کی اہل قری میں سے “ یعنی شہروں سے کیونکہ شہر ی لوگ صاحب علم وحلم ہوتے ہیں ۔ ( دوسرے مقام پر ) اﷲ تعالٰی کا ارشاد ہے “ ان دو قریوں میں سے بڑے آدمی پر “ یعنی مکہ وطائف ۔ ( تیسرے مقام پر) اﷲ تعالٰی نے فرمایا “ تیرے اس قریہ سے جس سے تجھے نکالا “ (ت)

اور جب اُسے مصر کے مقابل بولیں تو اس میں اور دِہ میں کچھ فرق نہیں ثم اقول : وبہ التوفیق( پھر میں اﷲ تعالٰی کی توفیق سے کہتا ہوں ۔ ت) حق ناصع یہ ہے کہ مصر وقریہ کوئی منقولات شرعیہ مثل صلٰوۃ وزکوٰۃ نہیں  جس کو شرع مطہر نے معنی متعارف سے جدا  فرماکر اپنی وضع خاص میں کسی نئے معنی کے لئے مقرر کیا ہو ورنہ شارع   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  سے اس میں نقل ضرور تھی کہ وضع شارع بے بیان شارع معلوم نہیں ہوسکتی اور شك نہیں کہ یہاں شارع   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  سے اصلًا کوئی نقل ثابت ومنقول نہیں تو ضرور عرف شرع میں دِہ اُنھیں معانی معروفہ متعارفہ پر باقی ہیں اور ان سے پھیر کر کسی دوسرے معنی کے لئے قرار دینا دِہ قرار دہندہ کی اپنی اصطلاح خاص ہوگی جو مناط ومدار احکام ومقصود ومراد شرع نہیں ہوسکتی۔ محقق علی الاطلاق   رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  فتح القدیر میں فرماتے ہیں :

واعلم ان من الشارحین من یعبر عن ھذا بتفسیرہ شرعا ویجب ان یراد عرف اھل الشرع وھو معنی الاصطلاح الذی عبرنابہ لاان الشارع صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نقلہ فانہ لم یثبت وانما تکلم بہ الشارع علی وفق اللغۃ[5]۔                                      

واضح رہے کہ بعض شارحین نے اس تفسیر کو شرعی کہا ہے اور اس سے اہل شرع کا عرف مراد لینا واجب ہے اور اس اصطلاح کایہی معنی ہے جس کے ساتھ ہم نے اسے تعبیر کیا اس کایہ معنی نہیں کہ شارع   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے نقل کیا ہے کیونکہ یہ ثابت نہیں شارع نے اس میں لغت کے مطابق تکلم فرمایا ہے ۔ (ت)

 



[1]    درمختار باب العیدین مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /  ۱۱۴

[2]    القرآن ١٢ /  ١٠٩

[3]    القرآن ٤٣ /  ٣١

[4]    القرآن ٤٧ /  ١٣

[5]    فتح القدیر باب الجمعۃ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ٢ / 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن