دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 8 | فتاوی رضویہ جلد ۸

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۸

خطیب کو ( عوام کا مقرر کرنا) ( معتبر نہیں بشرطیکہ جب مذکورہ لوگ ہوں ) لیکن اس صورت میں جب یہ لوگ نہ ہوں تو ضرورت کے لئے امام کا تقرر درست ہوگا (ت)

اُنھیں کے باب العیدین میں ہے :

( تجب صلٰوتھما علی من تجب علیہ الجمعۃ بشرائطھا) فانھا سنۃ بعدھا وفی القنیۃ صلٰوۃ العید فی القری تکرہ تحریما ای لانہ اشتغال بما لایصح لان المصر شرط الصحۃ [1] ملخصًا ۔  واﷲ تعالٰی اعلم

( عیدین کی نماز شرائط جمعہ کے ساتھ ہر اس شخص پر واجب ہے جس پر جمعہ واجب ہے) کیونکہ نماز عید ان شرائط کے بعد سنت ہے ۔ قنیہ میں ہے کہ دیہاتوں میں عید مکروہ تحریمی ہے یعنی یہ ایسے کام مشغول ہونا ہے جو صحیح نہیں کیونکہ شہر ہونا صحت کے لئے شرط ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم (ت)

مسئلہ ١٣٢٣ : از ملك بنگالہ ضلع میمن سنگھ قصبہ بنیازان ڈاك خانہ لکھی گنج مرسلہ منشی طالب حسین خاں ۲۳ صفر۱۳۲۲ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك قصبہ میں ایك مسجد ہے جہاں لوگ بہت دنوں سے جمعہ پڑھا کرتے ہیں اگرامام مع چند لوگوں کے نماز جمعہ پڑھ لے تو بعدہ ، دوسرے لوگوں کو تکرارِ نمازِ جمعہ جائز ہے یانہیں ؟ اور اگر پڑھ لیا تو نماز اُن کی ہوگئی یا نہیں ؟ بینوا توجروا۔

الجواب :

ایك مسجد میں تکرارِ نماز جمعہ ہرگز جائز نہیں ۔

وقد اخطأ بعض العصریین من لکھنؤ فی تجویز ذلك مغترا بجواز التعدد کما بیناہ فی فتاوٰنا۔

بعض معاصرین لکھنؤ نے اسے جائز کہہ کر غلطی کی ہے انھیں تعدد جمعہ کے جواز سے دھوکا ہوا ہے جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوٰی میں بیان کردیا ۔ (ت)

جمعہ وعیدین کی امامت مثل نماز پنجگانہ نہیں کہ جسے چاہئے امام کردیجئے بلکہ اُس کے لئے شرط لازم ہے کہ امام ماذون من جہتہ سلطان الاسلام ہو بلاوسطہ یا بالواسطہ کہ ماذون کا ماذون ہو یا ماذون الماذون کا ماذون ہو۔

وھلم جرابضرورۃ اوبدونھا ایضا علی اختلاف القیلین مع شرط المعلوم المبین فی کلمات العلماء الکرام۔

اور اسی طرح آگے ضرورت کی وجہ سے یااس کے بغیر بھی اختلاف قولین کی بناپر باوجود یکہ علماء کرام کی عبارات میں شرط معلوم اور واضح ہے ۔ (ت)

یہاں تك کہ اگر بغیر اُس کی اجازت کے دوسرا شخص امامتِ جمعہ کرے نماز نہ ہوگی ، سراجیہ میں ہے :

لوصلی احد بغیر اذن الخطیب لایجوز الا اذااقتدی بہ من لہ ولایۃ الجمعۃ [2] اھ اقول ولااستثناء فان الاذن یعم الاذن دلالۃ۔

اگر خطیب کی اجازت کے بغیر نماز پڑھائی تو جائز نہیں البتہ اس صورت میں جب اس کی اقتداء کسی ایسے شخص نے کی جو جمعہ قائم کرسکتا تھا اھ اقول : یہاں استثناء کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ اجازت اس اجازت کو بھی شامل ہے جو دلالۃً ہو ۔ (ت)

درمختار میں ہے : واقرہ شیخ الاسلام( اسے شیخ الاسلام نے ثابت رکھا ہے ۔ ت) ہاں جہاں ماذونِ سلطان نہ باقی ہو وہاں بضرورت اقامت شعار اجتماع مسلمین کو قائم اذن سلطان قراردیا ہے۔

یعنی مسلمان متفق ہوکر جسے امام جمعہ مقرر کرلیں وہ مثل امام ماذون من السلطان ہو جائے گا۔ درمختار میں ہے :

نصب العامۃ الخطیب غیر معتبر مع وجود من ذکر امامع عد مھم فیجوز للضرورۃ [3]۔

مذکورہ اشخاص کے ہوتے ہوئے عوام کا خطیب مقرر کرنا معتبر نہیں ، البتہ اگر مذکورہ افراد نہ ہو تو ضرورت کی وجہ سے جائز ہوگا۔ (ت)

اور شك نہیں کہ جو امر ضرورۃً جائزرکھا گیا وہ حدضرورت سے تجاوز نہیں کرسکتا۔

لما عرف من القاعدۃ المطردۃ الفقھیۃ بل والعقلیۃ ان ماکان بضرورۃ فقدر بقدرھا

کیونکہ فقہ بلکہ عقلًا قاعدہ مسلمہ ہے کہ جو کچھ ضرورت کی وجہ سے ہوتا ہے وہ ضرورت کی مقدار کے برابر ہی ہوتا ہے ۔ (ت)

اور مسجد واحد کے لئے وقتِ واحد میں دو امام کی ہرگز ضرورت نہیں ، تو جب پہلا امام معیّن جمعہ ہے دوسرا ضرور اُس کی لیاقت سے دور ومہجور تو اُس کے پیچھے نماز جمعہ باطل ومحذور ، البتہ اگر امام معین نے براہ شرارت خواہ اپنی کسی خاص حاجت کے سبب جلدی کی اور وقت معہود سے پہلے معدودے چند کے ساتھ نماز پڑھ لی عامہ جماعت مسلمین وقت معین پر حاضر ہوئی تو اب ظاہرًا مقتضائے نظر فقہی یہ ہے کہ انھیں جائز ہو کہ دوسرے شخص کو باتفاق عام مسلمین امام مقرر کریں اور نماز جمعہ پڑھیں ۔

لحصول الضرورۃ بالضرورۃ ولم تند فع بما فعل الامام بل لم یحصل من فعلہ ماکان نصبہ فما نصب الاللعامۃ لالعدۃ نفر کما لایخفی ولیحرر۔  واﷲ تعالٰی اعلم۔

واضح ضرورت پائے جانے کی وجہ سے اور یہ ضرورت امام کے فعل سے پوری نہیں ہوئی بلکہ جس مقصد کے لئے اس کا تقرر ہواوہ حاصل نہ ہوا وہ تو عام لوگوں کے لئے مقرر تھا نہ کہ چند لوگوں کے لئے جیسا کہ مخفی نہیں ، اسے واضح کرلینا چاہئے۔ واﷲ تعالٰی اعلم (ت)

مسئلہ١٣٢٤ :                  مرسلہ ظہور احمد از بیتھو ڈاك خانہ چاکند ضلع گیا

 



[1]    درمختار باب العیدین ، مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /  ۱۱۴

[2]    فتاوٰی سراجیہ باب الجمعۃ نولکشور لکھنؤ ص ۱۷

[3]    درمختار باب الجمعۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ /  ١١٠

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن