30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
امام کا بعد سلام قبلہ سے انحراف تو مطلقًا سنت ہے اور اس کا ترك یعنی بعد سلام رو بقبلہ بیٹھا رہنا امام کے لئے بالاجماع مکروہ ہے ، جمعہ وغیرہ سب نمازیں اس حکم میں برابر ہیں اور بعد سلام دعا ومناجات بھی بالاجماع جائز ہے مگر جس نماز کے بعد سنت ہے یعنی ظہر وجمعہ ومغرب وعشاء ، اس کے بعد تاخیر طویل کسی کو بہتر نہیں اور اگر کرے تو منع بھی نہیں مگر اس قدر نہ ہو کہ مقتدیوں پر گراں گزرے ، عادت مسلمین یوں جاری ہے کہ امام بعد سلام جب تك دعا سے فارغ نہ ہو مقتدی شریك دعا رہتے ہیں اور اس سے قبل اُسے چھوڑ کر نہیں اٹھتے اوریہ اگر چہ شرعا واجب نہیں مگر حُسن ادب سے ہے۔
اقول : ویمکن الاستناس لہ بقولہ عزوجل “ واذاکانوا معہ علی امرجامع لم یذھبوا حتی یسأذنوہ “ فان فراغہ من الدعاء یعد اذنامنہ دلالۃ بذلك العرف جار۔
اقول : اس پر اﷲ تعالٰی کے اس ارشاد گرامی سے استدلال ممکن ہے “ اور جب وہ حضورعلیہ السلام کے ساتھ کسی معاملہ میں جمع ہوتے ہیں تو آپ کی اجازت کے بغیر جاتے نہیں “ کیونکہ دُعا سے فراغت اذن ہی تصور ہوتا ہے اور اس پر عرف جاری ہے ۔ (ت)
تو ایسی حالت میں اتنی دعائے طویل کہ بعض مقتدیوں پر ثقیل ہو مطلقًا نہ کرنی چاہئے اگر چہ اس کے بعد سنت نہ ہو جیسے فجر وعصر۔
ھذا ماظہرلی تفقھا وارجو ان یکون صوابا ان شاء اﷲ تعالٰی واذا امر الامام بالتخفیف فی الصلوۃ ای عدم الزیادہ علی القدر المسنون اجمعوا علی انہ لا یمکث فی مکانہ مستقبل القبلۃ سائر الصلوات فی ذلك علی السواء۔
غور وفکر میں یہ مجھ پر واضح ہوا اور میں امید کرتا ہوں کہ یہ ان شاء اﷲ درست ہوگا اور جب امام کو نماز میں تخفیف کا حکم ہے یعنی قدرمسنون پر اضافہ کرے تو اس پر اجماع ہے کہ امام اپنی جگہ پر قبلہ رُخ ہو کر نہ ٹہرے تمام نمازیں اس حکم میں برابر ہیں ، (ت)
حلیہ میں ہے :
وقد صرح غیر واحد بانہ یکرہ لہ ذلك [1]۔
متعدد علماء نے اس کے مکروہ ہونے کی تصریح کی ہے ۔ (ت)
درمختار میں ہے :
یکرہ تاخیر السنۃ الابقدر اللھم انت السلام الخ سنتوں میں تاخیر اللھم انت السلام الخ کی مقدار سے
قال الحلوانی لاباس بالفصل بالاوراد واختار ہ الکمال ، قال الحلبی ان ارید باالکراھۃ التنزیھیۃ ارتفع الخلاف قلت فی حفظی حملہ علی القلیلۃ [2]اھ
زیادہ مکروہ ہے ، حلوانی نے فرمایا اذکار کے ساتھ فرائض وسنن میں فاصلے میں کوئی حرج نہیں ، کمال نے اسی کو اختیار کیا ہے ، حلبی کہتے ہیں کہ اگر کراہت سے کراہت تنزیہی ہے تو اختلاف ختم ہوجاتا ہے قلت اور مجھے یہاں تك یاد ہے کہ یہ ( تنزیہی) قلیل فصل پر محمول ہے اھ (ت)
حلیہ میں ہے :
تحمل الکراھۃ علی التنزیھیۃ بعد دلیل التحریمیۃ [3]۔
جب تحریمی پر دلیل نہ ہو تو مکروہ کو تنزیہی پر محمول کیا جاتا ہے۔ (ت)
غنیہ میں ہے :
قول عائشہ رضی اﷲ تعالٰی عنھا مقدار مایقول الھم انت السلا الخ یفید ان لیس المراد انہ کان یقول ذلك بعینہ بل کان یقعد زمانا یسع ذلك المقدار ونحوہ من القول تقریبا فلا ینافی ماروی مسلم وغیرہ عن عبداﷲ بن الزبیر رضی اﷲ تعالٰی عنہما کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اذا سلم من صلٰوتہ قال بصوتہ الا علی لاالہ الا اﷲ وحدہ لاشریك لہ لہ الملك ولہ الحمد وھو علی کل شیئ قدیر ولا حول ولا قوۃ الاّ باﷲ ولا نعبد ولہ الثناء الحسن ، لا الہٰ الا اﷲ مخلصین لہ الدین ولوکرہ لاالکفرون ، لان
حضرت عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا یہ فرمان کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللھم انت السلام الخ کی مقدار پڑھتے ، فائدہ دے رہاہے کہ ان کی مراد بعینہٖ یہی الفاظ نہیں بلکہ اتنی دیر بیٹھنا جس میں یہ یا اس کی مقدار تقریبًا پڑھا جائے ۔ لہذا یہ روایت مسلم وغیرہ کی اس روایت کے منافی نہیں جو حضرت عبداﷲ بن زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم جب نماز سے سلام پھیرتے تو بلند آواز سے کہتے “ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں ، اس کا کوئی شریك نہیں ، ملك اسی کا ہے ، اسی کی حمد ہے ، اور وہ ہر شیئ پر قادر ہے ، برائی سے پھرنے اور نیکی کی طرف آنے کی طاقت وتوفیق اﷲ تعالٰی ہی عطا فرماتاہے ہم اسی کی عبادت کرتے ہیں ، نعمت اسی کی ہے اور اُسی کا فضل
المقدار المذکور من حیث التقریب دون التحدید ، قدیسع کلو احد من نحو ھذہ الاذکار لعدم التفات الکثیر بینھا [4] اھ مختصرا۔
١ہے ، اعلٰی تعریف اسی کی ہے۔ اﷲ تعالٰی کے سوا کوئی معبود نہیں ، ہماری تابعداری اسی کے لئے خالص ہے ، اگر چہ کافر اسے ناپسند کریں “ کیونکہ مقدار مذکور تقریبًا ہے تحدیدًا نہیں وہ وقت ان تمام اذکار کی گنجائش رکھتا ہے کیونکہ ان میں بہت زیادہ تفاوت نہیں ہے اھ مختصرا (ت)
بلکہ شیخ محقق مولنٰا عبدالحق قدس سرہ اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ شریف میں فرماتے ہیں :
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع