دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 8 | فتاوی رضویہ جلد ۸

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۸

درغیر مسجد درشہر یا فنائےشہر ادا کنند نیز روا باشد زیراکہ مسجد شرط جمعہ نیست واگر نیا بند فرض ست کہ ظہر ادا کنند و روا نسیت کہ جماعت نمایند بلکہ فرادی خوانند کل ذلك مصرح بہ فی کتاب المذہب و قد بیناہ فی فتاوٰنا وآنکہ شخص مذکور تحدید فصل ذرعان کرد اصلے ندارد۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔

جمعہ وعیدین کی امامت ہر کوئی نہیں کرواسکتا بلکہ واجب ہے کہ وہ سلطانِ اسلام یا اس طرف سے مامورہو ، البتہ ضرورت کے پیش نظر مسلمان امامِ جمعہ مقرر کرسکتے ہیں اور اس میں کوئی شك نہیں کہ ایك مسجد میں ایك جمعہ کی اقامت کے لئے دوامام نہیں ہوسکتے لہذا ایك مسجد میں دوبار جمعہ نہیں ہوسکتا جب کچھ لوگ اس مسجد میں جمعہ نہ پاسکتیں تو وہ دوسری مسجد میں چلے جائیں کیونکہ مفتی بہ مذہب کے مطابق شہر میں متعدد جگہ جمعہ ہوسکتا ہے ، اسی طرح اگر مقرر امامِ جمعہ کو شہر یا فنائے شہر میں مسجد کے علاوہ پالیتے ہیں تو وہاں بھی جمعہ جائز ہوگا کیونکہ جمعہ کے لئے مسجد شرط نہیں اور اگر ایسی کوئی صورت نہیں تو ظہر کی ادائیگی فرض ہوگی لیکن جماعت جائز نہ ہوگی بلکہ الگ الگ ادا کریں یہ تمام کتب مذہب میں صراحۃً موجود ہے اور ہم نے اپنے فتاوٰی میں اسے بیان کیا ہے اور مذکور شخص نے جوگزوں کی مقدار کا تعیّن کیا ہے اس کی کوئی اصل نہیں واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم

مسئلہ ١٣١٩ :       از شاہی علاقہ رامپور مرسلہ نادر شاہ خاں وانعام اﷲ خاں                     ۶ جمادی الآخرہ ١٣١٩ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اس قصبہ شاہی میں صرف ایك مسجد وہی جامع مسجد ہے قدیم الایام سے اُس میں نماز جمعہ ہوتی ہے اور ایك عیدگاہ قریب آبادی کے ہے اس میں نماز عید پڑھی جاتی ہے فی الحال بوجہ کثرت نمازیا گنجائش سب نمازیوں کی نہیں اس لئے عیدگاہ میں جمعہ پڑھتے ہیں اُس روز جامع مسجد نماز جمعہ سےبالکل خالی رہتی ہے ایسی حالت میں کوئی بازپرس تو اہل قصبہ سے خداوند کریم بوجہ خالی رہنے مسجد کے بروزِ حساب نہ فرمائے گا اور پڑھنے نماز جمعہ سے عیدگاہ میں کچھ نقصان عنداﷲ وعند الرسول ہے یا نہیں ؟ بینوا توجروا

الجواب :

جائز ہے ۔ کچھ نقصان نہیں ، نہ کوئی مواخذہ ۔ واﷲ تعالٰی اعلم

مسئلہ١٣٢٠ :      از نبگالہ ضلع میمن سنگھ موضع مرزا پور مرسلہ منشی آدم غرہ      ربیع الاول ١٣۲٠ھ

ماتقولون یا ارباب العقول فی تبلیغ احکام الرسول فی ھذا الباب ھل یجب علی المصلین ان یصلوا اٰخرالظھر مع الجمعۃ ام لا وان صلوا فماذا ینوونھا فریضۃ ام نافلۃ بینوا بالدلیل تو جروا اجرا جزیلا۔

تعلیمات رسول اﷲ   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی تبلیغ کرنے والے اہل فہم کی اس بارے میں کیا رائے ہے کہ جمعہ کے ساتھ نمازیوں پر ظہر ادا کرنا لازم ہے یا نہ؟ اگر وہ ادا کرتے ہیں تو کس نیت سے فرض یا نفل ؟ دلیل کے ساتھ واضح فرمائیں ، اﷲ تعالٰی آپ کو اجر عظیم عطا فرمائے ۔ (ت)

الجواب :

ان وقع الشك فی صحۃ الجمعۃ لوقوع الشبھۃ فی شرط کالمصریۃ اوکون الدار دارالاسلام فالظاھر الوجوب وان کان ھناك تو ھم لاجل خلاف ضعیف فالندب ویفتی بہ الخواص لا العوام وعلی کل ینوی الفریضۃ ای اٰخرفرض ظھر ادرکتہ ولم اود لان النفل یتأدی بنیۃ الفرض ولاعکس فلا یحصل الاحتیاط الابنیۃ الفریضۃ کما لا یخفی قال فی ردالمحتار فی                       

اگر شرائطِ جمعہ میں اشتباہ کی وجہ سے صحتِ جمعہ میں شك ہوجائے تو ظاہر یہی ہے کہ وہاں ظہر کا ادا کرنا لازم ہے اور اگر وہاں صحتِ جمعہ وہم ہے تو ضعیف اختلاف کی وجہ سے ظہر کی ادائیگی مستحب ہوگی البتہ اس کے ساتھ خواص کے لئے فتوٰی ہے عوام کے لئے نہیں ، ہر صورت میں فرض کی نیت ہوگی یعنی وہ آخری ظہر جسے میں پایا مگر ادا نہ کی کیونکہ نوافل فرض کی نیت سے ادا ہوجاتے ہیں مگر فرض نفل کی نیت سے ادا نہیں ہوتے ، تو احتیاط نیتِ فرض میں ہی ہے جیساکہ مخفی

القنیۃ لما ابتلی اھل مروباقامۃ الجمعتین فیھا مع اختلاف العلماء فی جوازھما امر أئمتھم بالا ربع بعدھا حتما احتیاطا اھ ونقلہ کثیر من شراح الھدایۃ وغیرھا وتداولہ ،  ثم نقل المقدسی عن الفتح انہ ینبغی ان یصلی اربعا ینوی بھا اٰخر فرض ادرکت وقتہ ولم أ ؤدہ ان تردد فی کونہ مصرا اوتعددت الجمعۃ ،  قال و فائدتہ الخروج عن الخلاف المتوھم اوالمحقق وذکر فی النھرانہ لاینبغی التردد فی ندبھا علی القول بجواز التعدد خروجا عن الخلاف اھ قال المقدسی ذکر ابن الشحنۃ عن جدہ التصریح بالندب وبحث فیہ بانہ ینبغی ان یکون عند مجرد التوھم ،  اماعند قیام الشك والاشتباہ فی صحۃ الجمعۃ فالظاھر الوجوب ونقل عن شیخہ ابن الھمام مایفیدہ [1] اھ مختصرا واﷲ تعالٰی اعلم۔                                               

نہیں ، ردالمحتار میں فرمایا کہ قنیہ میں ہے کہ جب اہل مرو کو دو جمعوں کا قیام پیش آیا علماء نے متعدد جمعہ میں ختلاف کیا تو ائمہ نے لوگو پر جمعہ کے بعد احتیاطًا چار رکعات ظہر ادا کرنا لازمی قرار دے دیا اھ اکثر شارحین ہدایہ وغیرہ نے اسے نقل کیا اور اسے ہی متد اول قرادیا ، پھر مقدسی نے فتح سے نقل کیا کہ اگر شہر ہونے میں تردد ہو یا جمعہ کے متعدد ہونے کی وجہ سے تردّد ہو تو جمعہ کے بعد چار رکعات اس نیت سے ادا کی جائیں کہ میں نے آخری ظہر کا وقت پایا اسے ادا نہ کیا تھا اور فرمایا فائدہ اس کا یہ ہے کہ خلافِ متوہم یا متحقق سے خروج ہوجائے گا ، نہر میں مذکور ہے کہ اختلاف سے بچنے کی خاطر جوازِ تعدد جمعہ کے قول پر بھی ظہر کی ادائیگی کے مستحب ہونے میں تردد نہیں کرنا چاہئے اھ مقدسی کہتے ہیں کہ ابن شحنہ نے اپنے دادا سے ندب پر یہ تصریح نقل کرکے اس میں بحث کرتے ہوئے کہا کہ یہ اس وقت ہے جہاں محض وہم ہو لیکن جب صحت جمعہ میں شك واشتباہ ہوتو ظہر کا وجوب ظاہر اور اس پر اپنے شیخ ابن ہمام کی وہ عبارت نقل کی جو اسے مفید ہے اھ اختصارًا (ت) واﷲ تعالٰی اعلم

مسئلہ ١٣٢١ :       از ضلع کمرلہ موضع پانسیر مرسلہ مولوی عبدالغفور صاحب غرہ ربیع الاول ١٣٢٠ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بعد نماز جمعہ انحرافِ قبلہ یعنی جانب ایمن وایسر کو پھر کر مناجات کرنا جائز ہے یا نہیں باوجود یکہ فقہ کی کتابوں میں بھی یہ ہے کہ جس نماز کے بعد سنتِ موکدہ ہو نہ پھرے بالدلائل تحریر فامائیے۔ بینوا توجروا

الجواب :

 



[1]    ردالمحتار باب الجمعۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ا /  ۵۹۶

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن