دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 8 | فتاوی رضویہ جلد ۸

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۸

امام اعظم ابوحنیفہ   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے فرمایا دارالحرب کے لئے ضروری ہے کہ وہاں احکامِ شرك کا اجراء ہو اور اس ملك کا اتصال دارالحرب سے طرح ہوکہ اس ملك اوردارالحر ب کے درمیان کوئی مسلمان یاذمی امان اول کی وجہ سے امان میں نہ ہو یعنی اب مشرکین کی امان کے بغیر ا من والا نہ ہو کیونکہ جب حکم کسی علت سے ثابت ہے تو جب تك وہ علت باقی ہے حکم بھی باقی ہو گا ، جب کوئی علاقہ اجرا احکام اسلامی کی وجہ سے دارالاسلام بنتاہے تو جب تك وہاں کچھ احکام وآثار باقی ہوں گے وہ دارالاسلام ہی ہوگا ، اور ہر وہ شہر جس کا کفار کی طرف سے کوئی مسلمان والی ہو وہاں جمعہ وعیدین کی اقامت ،

واخذ الخراج وتقلید القضاء وتزویج الایامٰی لا ستیّلاء المسلم علیھم وامافی بلاد علیھا ولاۃ کفار فیجوز للمسلمین اقامۃ الجمعۃ والا عیاد[1] اھ مختصرا۔

خراج لینا ، قضاءِ اسلامی کی پابندی اور بیوگان کا نکاح کروانا جائز ہے کیونکہ وہاں مسلمان غالب ہیں لیکن وہ علاقے جہاں کا فروالی ہیں وہاں مسلمانوں کے لئے جمعہ اور عیدین کا قیام جائز ہے اھ اختصارًا (ت)

ردالمحتار میں ہے :

فی معراج الدرایۃ عن المبسوط البلاد التی فی ایدی الکفار بلاد الاسلام لا بلادالحرب وکل مصر فیہ وال من جھتھم یجوزلہ اقامۃ الجمعۃ والاعیاد فلوالو لاۃ کفارایجوز للمسلمین اقامۃ الجمعۃ  [2] اھ ملخصا

معراج الدرایہ میں مبسوط سے ہے وہ علاقہ جات جو کفار کے قبضہ میں ہیں وہ بلادِ اسلام ہی ہیں بلاد حرب نہیں اور ہر وہ شہر جس میں کفار کی طرف سے والی ہو تو وہ جمعہ اور عیدین کا قیام کرسکتا ہے اور اگر والی کافرہوں تو بھی مسلمانوں کے جمعہ کا قیام جائز ہے اھ تلخیصا (ت)

جمعہ وعیدین کے نہ فقط مامور بہ بلکہ خود جائز وصحیح ہونے کے لئے بھی باجماع ائمہ مذہب   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم  مصر شرط ہے کتب المذہب عن اٰخرھا طافحۃ بذلک( تمام کتب مذہب اس سے پر ہیں ۔ ت) گاؤں میں جمعہ وعیدین نہ صحیح نہ جائز بلکہ گناہ ہے

کما نص علیہ فی الدرالمختار عن القنیۃ وفی جامع الرموز عن جامع المضمرات وقد بیناہ فی فتاوٰنا۔

جیسا کہ اس پر درمختار میں قنیہ اور جامع الرموز میں جامع المضمرات کے حوالے سے تصریح ہے اور اسے ہم نے اپنے فتاوٰی میں بیان کیا ہے ۔ (ت)

دیہات سے بھی کم درجہ بستی جنگلوں ، میدانوں ، پہاڑوں میں اہل خیمہ کے مقام ہیں جن میں مکانات کچّے پّکے اصلًا نہیں ہوتے ، انھوں نے جہاں آب ومرغزار دیکھے ڈیرے ڈال دئے ، خیمے تان دئیے ، وہیں اقامت کرلی ، یہ بستیاں نظرِ شرع میں بھی دیہات سے ادنٰی ہیں ، امصار وعمرانات کے سکان اگر گاؤں میں پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت کریں مقیم ہوجائیں گے قصر نہ کریں گے اور اُن خیمہ گاہوں میں اُنھیں اہل خیمہ کی نیت اقامت صحیح ہے جن کی طرز تعّیش ہی یہ ہے عمرانات والے بعد تحقق سفر وطے مراحل اگر چہ وہاں پندرہ دن قیام کا قصد کریں مقیم نہ ہوں گے ھوالاصح فی الفصلین( دونوں فصلوں میں یہی اصح ہے ۔ ت) درمختار میں ہے :

اھل اخبیۃ کترکمان نووھافی المفازۃ فانھا تصح فی الاصح وبہ یفتی اذاکان عندھم من الماء والکلاء مایکفیھم مدتھا ولونوی غیرھم الاقامۃ معھم لم یصح فی الاصح[3] اھ مختصرا۔

خانہ بدوش مثلًا ترکمان قوم اگر جنگل میں اقامت کی نیت کرلیں تو یہ اصح قول کے مطابق صحیح ہے اور اسی پر فتوٰی ہے بشرطیکہ وہاں ان کے لئے اتنی مدت کیلئے پانی اور چارہ ہو اور ان کے علاوہ کسی نے ان کے ساتھ نیت کرلی تو یہ اصح قول کے مطابق درست نہیں اھ مختصرًا (ت)

قصبہ عرفًا مصرو دِہ میں متوسط ہے چھوٹے شہر کو کہتے ہیں جس میں آبادی کم ، مرافق قلیل ہوں بازارو پختہ عمارات ہوں نہ مثل امصار ، دِہ پر گنہ ہوتاہے ضلع نہیں ، اُس میں چھوٹے چھوٹے حکام ہوتے ہیں جن کی سماعت ایك حد تك محدود ، بڑے حکام کوکہ ہر گونہ مقدمات دیوانی وجرائم فیصل کرسکیں نہیں ہوتے ، اس عرف حادث پر قسمیں تین ۳ ہوتی ہیں مگر زبان عربی میں وہ دو ہی چیزیں ہیں : مصر یا قریہ قصبہ ، ان سے باہر کوئی شے ثالث نہیں ، قاموس ومصباح المنیر وغیرہما میں قصبۃ البلاد مدینتھا وقصبۃ القریۃ وسطھا ( شہری قصبہ ، شہر ہوتا ہے اور دیہاتی قصبہ دیہات اور شہرکادرمیان ہوتا ہے۔ ت) یونہی شرع مطہرنے قصبات کو کسی حکم خاص سے مخصوص نہ فرمایا مصروقریہ کی تقسیم حاضر ہے آبادی پر ، حدمصرصادق ہوتو مصر ہے ورنہ قریہ لا ثالث لھما ( ان دونوں کے لئے تیسرا نہیں ۔ ت) اب تعریف مصرمیں ہمارے علماء سے اقوال کثیرہ آئے جن میں مصحح ومختار ومعتمد ائمہ کبار دو ٢ ہیں :

اول ظاہر الروایہ واصل مذہب وارشاد امام مذہب سید نا امام اعظم   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کہ شہر وہ آبادی عمارت والی ہے جس میں متعدد کوچے ہوں ، دوامی بازار ہوں ، وہ ضلع یا پرگندہ ہو کہ اس کے متعلق دیہات ہوں ، اس میں کوئی حاکم مقدماتِ رعایا فصیل کرنے پر مقرر ہو ، جس کے یہاں قضا یا پیش ہوتے ہوں اور اس کی شوکت وحشمت مظلوم کا انصاف ظالم سے لینے کے قابل ہو اگرچہ کبھی نہ لیا جائے ، پہ تعریف کتبِ کثیرہ میں با لفظ عدیدہ ومعانی متقاربہ ادا کی گئی ۔

مسئلہ ۱۳۱۶ : از عظیم آباد پٹنہ شاہ کی املی متصل مسجد تراہہ مطب حکیم صاحب مرسلہ مولوی نورالہدی صاحب ٦ ربیع الآخر شریف ١٣١٨ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایسے قریہ میں جس پرکسی طرح حدِ مصر صادق نہیں اگر وہاں کے حنفی المذہب بخیال شوکتِ اسلامی نماز جمعہ مع ظہر احتیا طی وصلٰوۃ العیدین پڑھتے ہوں تو گنہگار ہوں گے یا نہیں ؟ اور اگر گنہگار ہوں تو اس کی وجہ کیا ہے ؟ بینوا توجروا

الجواب :

ایسی جگہ جمعہ یا عیدین پڑھنا مذہب حنفی میں گناہ ہے ۔ نہ ایك گناہ بلکہ چند گناہ :

اولا جب نماز جمعہ وعیدین وہاں صحیح نہیں تو یہ امر غیر صحیح میں مشغول ہوئی اور وہ ناجائز ہے ،

فی الدرالمختار تکرہ تحریما ای لانہ اشتغال بمالایصح لان المصر شرط الصحۃ [4]۔

 



[1]    جامع الفصولین الفصل الاول فی القضاء وما یتصل بہ مطبوعہ اسلامی کتب خانہ کرچی ١ /  ۱۳و۱۴

[2]    ردالمحتار ، باب الجمعہ  ، مطبوعہ مصطفی البابی مصر ، ١ /  ٥٩٥

[3]    درمختار باب صلٰوۃ المسافر مطبوعہ مجتبائی دہلی ١ /  ۷-٨

[4]    درمختار باب العیدین مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ /  ۱۱۴

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن