دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 8 | فتاوی رضویہ جلد ۸

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۸

اس موضع میں پندرہ بیس آدمی او ر کبھی کم بھی ہوا کرتی ہے اب بعض معترض ہیں کہ جمعہ دیہات میں نزدامام ابو حنیفہ صاحب جائز نہیں ہے پڑھنا بھی نہ چاہئے مخدومنا پڑھا کروں یا ترك کردوں ، حضور کے نزدیك جو جائز ہو مطع فرمائیں تا مطابق اس کے کار بند ہوں اور نمازِ عیدین بھی دیہات میں ہویا نہ ہو؟ شہر صاحب گنج یہاں سے ١٢ کوس پر ہے۔ زیادہ حد نیاز۔ احقر رضی الدین حسین عفی عنہ

الجواب :

جناب مکرم ذی المجد والکرم اکرمکم اﷲ تعالٰی السلام علیکم وحمۃ اﷲ وبرکاتہ ، فی الواقع دیہات میں جمعہ وعیدین باتفاق ائمہ حنفیہ   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم  ممنوع وناجائز ہے کہ جونماز شرعا صحیح نہیں اس سے اشتغال روا نہیں ،

فی الدرالمختار وفی القنیۃ صلٰوۃ العید فی القری تکرہ تحریما ای لانہ اشتغال بما لایصح [1] اھ فی ردالمحتار ومثلہ الجمعۃ[2]ح ۔

درمختار میں ہے کہ قنیہ میں ہے دیہاتوں میں عید کی نماز مکروہ تحریمی ہے یعنی یہ ایسے کا م میں مشغول ہونا ہے جو درست نہیں اھ ردالمحتار میں ہے اور اسی کی مثل جمعہ ہے ، ح ۔ (ت)

جمعہ میں اس کے سوا اور بھی عدمِ جواز کی وجہ ہے کما بیناہ فی فتاوٰنا( جیسا کہ ہم نے اسے اپنے فتاوٰی میں بیان کیا ہے ۔ ت) ہاں ایك روایت نادرہ امام ابویوسف   رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  سے یہ آئی ہےکہ جس آبادی میں اتنے مسلمان مرد عاقل بالغ ایسے تندرست جن پر جمعہ فرض ہوسکے آباد ہوں کہ اگر وہ وہاں کی بڑی سے بڑی مسجد میں جمع ہوں تو نہ سما سکیں یہاں تك کہ انھیں جمعہ کے لئے مسجد جامع بنانی پڑے وہ صحتِ جمعہ کےلئے شہر سمجھی جائے گی ، امام اکمل الدین بابرتی عنایہ شرح ہدایہ میں فرماتے ہیں :

(وعنہ) ای عن ابی یوسف ( انھم اذا اجتمعوا) ای اجتمع من تجب علیھم الجمعۃ لاکل من یسکن فی ذلك الموضع من الصبیان والنساء والعید لان من تجب علیھم مجتمعون فیہ عادۃ قال ابن شجاع احسن ماقیل فیہ اذاکان اھلھا ،  بحیث لو اجتمعوا ( فی اکبر مساجد لم یسعھم ذلك)حتی احتاجوا الی بناء مسجد آخر للجمعۃ [3] الخ                  

( اور ان سے ) یعنی امام ابویوسف سے ہے ( جب وہ جمع ہوں ) یعنی وہ لوگ جن پر جمعہ لازم ہے نہ کہ تمام وہ لوگ جو وہاں سکونت پذیر ہیں مثلًا بچے ، خواتین اور غلام ، ابنِ شجاع نے کہا کہ اس بارے میں سب سے بہتر قول یہ ہے کہ جب جمعہ کے اہل وہاں جمع ہوں ( سب سے بڑی مسجد میں ، اور اس میں ان کی گنجائش نہ ہو) حتی کہ وہ جمعہ کے لئے ایك اور مسجد بنانے پر مجبور ہوں الخ (ت)

جس گاؤں میں یہ حالت پائی جائے اس میں اس روایت نوادر کی بنا پر جمعہ وعیدین ہو سکتے ہیں اگر چہ اصل مذہب کے خلاف ہے مگر اسے بھی ایك جماعتِ متاخرین نے اختیار فرمایا اور جہاں یہ بھی نہیں وہاں ہر گز جمعہ خواہ عید مذہب حنفی میں جائز نہیں ہو سکتا بلکہ گناہ ہے ، واﷲ یقول الحق وھویھدی السبیل واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔

اﷲ تعالٰی کا فرمان حق ہے اور وہی راستہ کی ہدایت دیتا ہے اور اﷲکی ذات پاك ، بلند اور خوب جاننے والی ہے ۔ (ت)

مسئلہ۱۳۱۱تا۱۳۱۵ :         از کٹرہ ڈاکخانہ اوبرہ ضلع گیا مرسلہ سیّد عبدالمجید صاحب قادری            ۲ جمادی الآخرہ۱۳۱۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں :

(۱) ہندوستان میں جمعہ جائز ہے یانہیں ؟

(۲) جائز ہے تو کیوں ؟ اور اس کے دلائل کیا ہیں ؟

(۳) جمعہ شہر ہی میں جائز ہے یا دیہات میں بھی؟

(٤) تعریف شہر اور قصبہ اوردیہات کی کیاہے ؟

(٥) دیہات سے نیچے بھی کوئی حد بستی کی ہے کیونکہ دیہات دو قسم کے ہوتے ہیں : ایك محض کوردہ ، دوسرا وہ جس میں اشیاءِ اشد ضروری جیسے معمولی کپڑے ملتے ہوں اوردرزی اور لوہار اور بڑھیئ اور بنیا اور بقال وغیرہم ہوں اور ساکنان اُسی کے ہندو مع مسلمان قریب بارہ سو١٢٠٠ مردمع عورت کے ہوں اور غالب درجہ مسلمان زمیندارہوں اور مسلمانوں کی تعداد قریب پانچ سو عوتوں کے ہو اور مسجد قدیم سے ہو اور جب سے مسجد بنی ہمیشہ سے برابر جمعہ ہوتا رہا ہو تو ان دونوں قسموں میں دیہات کے جمعہ جائز ہوگا یا صرف قسمِ اخیر میں یا کسی میں نہیں اور ہم قسم اخیر کے دیہات کے رہنے والے ہیں ، اب بعض لوگ کہتے ہیں کہ دیہات میں جمعہ جائز نہیں ، تو  آیا ہم لوگ پڑھیں یا نہیں ؟بہت صاف جواب بالتفصیل تحریر ہو۔

الجواب :

ہندوستان اصلح اﷲ حالہا بحمد اﷲ تعالٰی ہنوز دارالاسلام ہے :

کما حققناہ فی رسالتنا اعلام الاعلام بان ھندوستان دارالاسلام۔

جیسا کہ ہم نے اپنے رسالہ “ اعلام الاعلام بان ہندوستان دارالاسلام “ میں اس کی تحقیق کی ہے ۔ (ت)

اُس میں اقامتِ جعہ وعیدین مسلمانوں کو ضرور جائز ۔ جامع الفصولین میں ہے :

قال ح ( ای الامام الاعظم ابو حنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ) لا تصیر دارلاحرب الاباجراء احکام الشرك فیھا واتصالھا بدارالحرب بان لایکون بینھا وبین دارالحرب مصر للمسلمین وان لایبقی فیھا مسلم اوذمی اٰمنا علٰی نفسہ بالامان الاول ای لایبقی اٰمنا الابامان المشرکین ان الحکم اذاثبت بعلۃ فما بقی شیئ من العلۃ یبقی الحکم ببقائہ فلما صارت البلدۃ دارالاسلام باجراء احکامہ فما بقی شیئ من احکامہ واٰثارہ تبقی دارالاسلام وکل مصرفیہ وال مسلم من جھۃ الکفارتجوز فیہ اقامۃ الجمع والاعیاد                                      

 



[1]    درمختار باب العیدین مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /  ۱۱۴

[2]    ردالمحتار باب العیدین مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /  ۶۱۱

[3]     عنایہ شرح ہدایہ علی ہامش فتح القدیر باب صلٰوۃالجمعۃ مطبوعہ نوریہ رضوریہ سکھر ٢ /  ٢٤

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن