30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بعید خطیب سے خطبہ سننے اور متوجہ ہونے میں قریبی کی طرح ہی ہوتا ہے۔ (ت)
تنویر و در میں ہے :
(البعید) عن الخطییب( والقریب سیان) فی افتراض الانصات [1]۔
متوجہ ہوکر سننے میں خطیب کا قریبی اور دُور والا برابر ہوتے ہیں ۔ (ت)
اُنھیں میں ہے :
یجب علیہ ون یستمع ویسکت( بلافرق بین قریب وبعید فی الاصح [2]۔
اصح قول کے مطابق خطبہ کا سننا اور خاموش رہنا لازم ہے بلاتفریق کہ وہ قریب ہے یا دور ۔ (ت)
کنزالدقائق و بحر الرائق میں ہے :
(النائی کا لقریب )ھو الاحوط۔ [3]
( دُور والا قریب کی طرح ہے) یہی احتیاط ہے (ت)
عبارات سابقہ سے تو واضح تھا ہی کہ سُننا جو فرض ہے اس کے یہ معنی نہیں کہ کان میں آواز پہنچے اگر چہ آپ دوسرے کام میں مشغول ہو ورنہ کھانا ، پینا ، چلنا ، گردن پھیر کر دیکھنا کیوں حرام ہوتا کہ ان میں کون سا کام کان میں آواز جانے کے منافی ہے بلکہ اس کے یہ معنی کہ ہمہ تن اُسی طرف متوجہ ہو اور دوسرے کسی کام میں مشغول نہ ہو ، مگر ان عبارات لاحقہ نے اور بھی تر کردیا کہ سراپا تمام اعضاء سے اُسی طرف متوجہ رہنا خود واجب ہے کہ بعید کے لئے تو کان میں آواز آنا بھی نہیں مگر قول صحیح ومعتمد ومفتی بہ یہی ہے کہ اُسے بھی اور اعمال میں مشغولی حرام ، تو یہ زعم کہ خطبہ بقدر سنت سُن کر باقی کو سنتا رہے اور ہو اکرے۔
اوّلًا صاف قول بالتنا فیین ہے اور استماع وانصات کے معنی نہ سمجھنے سے ناشیئ۔
ثانیًا یہ فعل مخل استماع ہے یا نہیں ، اگر ہے تو مطقًا حرام ہونا واجب نہ یہ کہ قدر سنت کے بعد اجازت ہو ، اور اگر نہیں تو مطلقًا جائز ہونا چا ئیے قدر سنت کا استثناء کس لئے ،
ثالثًا دونوں خطبے مسنون ہیں ، نہ کہ ہر خطبے یاصرف اولٰی سے اُس کا ایك جز ، تو قدر سنت سن چکنا بعد تمامی خطبتین صادق ہوگا اب کیا نماز پڑھتے میں پنکھا جھلتا پھرے گا شاید ادعا کیا جائے کہ اگر کوئی امام خطبہ کبیرہ طویلہ بطول فاحش مخالفِ سنت پڑھے تو قدرسنت کے بعد مقدار زیا دت میں یہ حرکت جائز ، اول تو اس کا ارادہ کلام قائل سے بعید و ہ مطلق ہے نہ کہ اس صورت نادرہ مکروہہ سے خاص اور ہو بھی تو یہ بھی غلط وباطل ہے ، مقدار میں بڑھا دینا درکنار خطبے میں ذکرو مدح ظالمین بھی ہو قطعًا خلافِ سنت کیا حرام شدید اور یقینا مقاصد خطبہ سے جدا وبعید ہے ، جب بھی صحیح یہی ہے کہ استماع وانصات واجب ، مجتبی شرح قدروی پھر نہرالفائق پھر فتح اﷲ المعین علامہ سید البوالسعود ازہری میں ہے
: استماع الخطبۃ من اولھا الٰی اٰخرھا واجب وان کان فیھا ذکر الولاۃ وھوالاصح[4]۔
خطبہ کا اوّل تا آخر سُننا لازم ہے اگر چہ اس میں امراء کا ذکر ہو ، یہی اصح ہے (ت)
محیط برہانی پھر عالمگیریہ میں ہے :
واللفظ لھا الذی علیہ عامۃ مشائخنا ان علی القوم ان یسمعوا الخطبۃ من اولھا الی اٰخرھا والدنومن الامام افضل من التباعد عنہ وھو الصحیح من الجواب مشائخنا رحمہم اﷲ تعالٰی [5]۔
وہ الفاظ جن پر اکثر مشائخ ہیں وہ یہ ہے کہ قوم پر اول تا آکر خطبے کا سُننا لا زم ہے ، امام کا قُرب دوری سے افضل ہے اور مشائخ کے جواب میں سے یہی صحیح ہے ۔ (ت)
تنویر الابصار و درمختار میں ہے :
(لاصلٰوۃ ولا کلام الی تمامھا) وان کان فیھا ذکر الظلمۃ فی الاصح [6]۔
(خطبہ مکمل ہونے تك کوئی نماز اور کوئی کلام نہیں ) اگر چہ اس میں ظالم حکمرانوں کا ذکر ہو ، یہی اصح ہے ۔ (ت)
علامہ حموی کا کوئی فتاوی مسموع نہیں ، نہ ان کی کسی کتاب سے حرکت مذکورہ کا جواز مستفاد ، ملاحظہ معنی جس طرح خطبے میں مقصود یوں ہی نماز میں ، کیا نماز میں بھی اسی نیك نیت سے پنکھا جھلتے پھرنے کی اجازت ہوگی ، جنت میں اُس ہواکی یہ غایت تاکہ باطمینان دیدار سے مشرف ہوں ، سخت ابعدو واجب الرد ہے ، جنت میں معاذ اﷲ گرمی و حبس کا کون سا وقت ہوگا جس کے ازالے کو ہوا کی حاجت ہو ، اہل جنت کے لئے معاذاﷲ بے اطمینانی کا سامان کس وقت ہوگا کہ تحصیل اطمینان کی ضرورت ہو ، وہاں کے جتنے امور ہیں سب محض لذت وزیادت نعمت ہیں ، ولہذا محققین فرماتے ہیں دنیا میں حقیقۃً کوئی لذت نہیں جسے لذت گمان کیا جاتا ہے ، واقع میں دفع الم ہے ، پانی یاشربت کیسا ہی سر دوشریں وخوشبو وخوشگوار ہو پیاس نہیں تو کچھ لذت نہیں دیتا ، کھانا کیسا ہی لذیذ وعمدہ و خوشبو وخوش مزہ ہو بھوك نہیں تو کچھ لطف نہیں آتا ، تو حقیقۃً بھوك پیاس کا الم دفع ہوتا ہے ، نہ لذت خالصہ وعلی ہذا القیاس باقی تمام ملاذ بخلاف بہشت کہ وہاں اصلًا نہیں ، نہ بھوك ، نہ پیاس ، نہ گرمی ، نہ احتباس تو وہاں جو کچھ ہے خالص و حقیقی لذت ہے۔
رزقنا اﷲ تعالٰی بمنہ وکرمہ فضل رحمتہ بصالحی عبادہ اٰمین بجاہ محمد نبی الرحمۃشفیع الامۃ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم و علیحم اجمعین اٰمین۔
[1] درمختار فصل ویجہر الامام الخ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ١ / ٨١
[2] درمختار ، فصل ویجہر الامام الخ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ۱ / ۱۱۳
[3] البحرالرائق باب صلٰوۃ الجمعۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۱۵۵
[4] فتح المعین باب صلٰوۃ الجمعۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۲۱
[5] فتاوٰی ہندیۃ الباب السادس عشر فی صلٰوۃ الجمعۃ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۴۷
[6] د رمختار باب الجمعۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ۱ / ۱۱۳
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع