دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 8 | فتاوی رضویہ جلد ۸

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۸

قربت میں کلام رکھتے ہیں نہ کہ اوروں کی قربت کے لئے خود حرام کا ارتکاب ، یہ ایثار نہیں صراحتہً اپنے دین کو اضرار ہے کما لا یخفی ( جیسا کہ مخفی نہیں ۔ ت) یہیں سے واضح کہ ممانعت کو صرف فعل عبث وبے فائدہ سے خاص کرنا محض غلط ہے بلکہ اس قسم کا ہر عمل اگر چہ کیسا ہی مفید ہووقت خطبہ شرعًا لغو میں داخل اور اُس کے فائدے پر نظر باطل بلکہ نفع درکنار اُس سے ضرر حاصل ، آخر دیکھا کہ شرع مطہر نے اس وقت امر بالمعروف کو کہ اعلٰی درجہ کی مفید و مہم چیز ہے حرام ٹھہرایا ، اور دو حرف (چُپ ) کہنے کو لغو میں داخل فرمایا ، صحاح ستہّ میں ابوہریرہ   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے ہے رسول اﷲ   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  فرماتے ہیں ،

اذا قلت لصاحبك یوم الجمعۃ انصت والامام یخطب فقد لغوت [1]۔

جب روزِ جمعہ خطبہ امام کے وقت تو دوسرے سے کہے چُب ، تو تُو نے خود لغو کیا ،

مسندِ احمد سُنن ابی داؤد میں امیر المومنین مولٰی علی کرم اﷲ وجہہ سے ہے رسول اﷲ   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  فرماتے ہیں :

من قال لصاحبہ یوم الجمعۃ صہ فقدلغاومن لغا فلیس فی جمعتہ تلك شیئ [2]۔

جو جمعہ کے دن اپنے ساتھی سے چُپ کہے اُس نے لغو کیا اور جس نے لغو کیا اُس کے لئے اس جمعہ میں کچھ اجر نہیں ۔

امام احمد حضرت عبداﷲ بن عباس   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا   سے راوی رسول اﷲ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  فرماتے ہیں :

من یتکلم یوم الجمعۃ والامام یخطب فھو کمثل الحمار یحمل اسفارا والذی یقول لہ انصت لیس لہ جمعۃ [3]۔

جمعہ کے دن جب امام خطبہ میں ہو بولنے والا ایسا ہے جیسے گدھا جس پر کتابیں لدی ہوں اور جو اُس سے چپ کہے اُس کا جمعہ نہیں ،

یہیں سے منجلی ہوا کہ حدیث استسقائے مذکور صحیحین سے استدلال صحیح نہیں اُس سے اگر ثابت ہوگا تو وقت خطبہ امام جوازِ کلام اور اس کی حرمت پرائمہ مذہب کا اجماع اور احادیث صریحہ صحیحہ جن کی بعض مذکور ہوئیں مثبت تحریم قاطع نزاع فان الحاظر مقدم وتمام الکلام فی الفتح وغیرہ ( کیونکہ منع کرنے والی مقدم ہے اور اس پر تفصیلی گفتگو فتح وغیرہ میں ہے ۔ ت) باقی رہا یہ کہ حاضرین نے کہا بارش کی دعا کیجئے اور یہ کہ تمام حاضرین نے بھی ہاتھ اٹھائے اور یہ کہ آئندہ جمعہ کو تمام حاضرین نے کہا یہ سب غلط دعوے ہیں اور صحیحین میں ان کا کہیں پتا نہیں ، رہی فرع کتابت مذکورہ علمگیریہ۔

اولاجو بعض اُسے جائز رکھتے ہیں وہ بھی اُس کے لئے جو امام سے اس قدر دور ہو کہ خطبے کی آواز اُس تك نہ جاتی ہو تو قریب کے لئے جو از باد کشی پر اُس سے استدلال کہ سنتا رہے اور حاضرین کو ہوا کرے استدلال بالمخالف ہے ، غنیہ و بزازیہ و شرنبلالیہ میں ہے :

واللفظ للحلبی الختلف المتاخرون فی البعید عن الامام فمحمدبن سلمۃ اختار السکوت فی حقہ ایضا ونصیر بن یحیی اجازا القرأۃ ونحوھا وعن ابی یوسف اختیارالسکوت و حکی عنہ انہ کان ینظر فی کتابہ ویصلحہ بالقلم [4]۔                         

حلبی کی عبارت یہ ہے امام سے دور شخص کے بارے میں متاخرین کا اختلاف ہے محمد بن سلمہ کے ہاں اس کے حق میں بھی سکوت ہے ، نصیر بن یحٰی قرائت وغیرہ کی اجازت دیتے ہیں ، امام ابویوسف سے سکوت کامختار ہونا منقول ہے اور آپ ہی کے بارے میں منقول ہے کہ وہ اس حالت میں اپنی کتاب پڑھ رہے تھے اور قلم سے اس کی اصلاح فرمارہے تھے۔ (ت)

خانیہ و خزانۃ المفتین میں ہے :

اما درسہ الفقہ والنظر فی کتب الفقہ وکتابتہ من اصحابنا رحمھم اﷲ من کرہ ذلك ومنھم من قال لاباس بہ اذاکان لایسمع صوت الخطیب ( زادہ فی الخانیۃ) وھکذا روی عن ابی یوسف رحمہ اﷲ تعالٰی [5]۔

فقہ کی تدریس ، کتب فقہ کا مطالعہ اور کتابت ہمارے بعض علماء کے نزدیك مکروہ ہے اور بعض اس تك امام کی آواز نہ پہنچ رہی ہو ( خانیہ میں یہ اضافہ ہے ) اور امام ابو یوسف   رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  سے اسی طرح مروی ہے ۔ (ت)

مراقی الفلاح میں ہے :

فی الینا بیع یکرہ التسبیح وفرائۃ القراٰن اذاکان یسمع الخطبۃ وروی عن نصیر بن یحیی انکان

ینابیع میں ہے کہ امام کا خطبہ سُنتے وقت تسبیح او رقرأت قرآن مکروہ ہے ، نصیر بن یحیٰی سے مروی ہے کہ اگر

بعید امن الامام یقرأ القراٰن فمن فعل مثلہ ولایشغل غیرہ بسماع تلاوتہ لاباس بہ کالنظر فی الکتابۃ وفیہ خلاف وعن ابی یوسف لاباس بہ والحکم بن زھیر کان یجلس مع ابی یوسف و ینظر فی کتابہ ویصحح بالقلم وقت الخطبہ وقال الکمال یحرم الاکل والشرب والکتابۃ انتھی یعنی اذا کان یسمع لما قد مناہ ان کتابۃ من لایسمع الخطبۃ غیر ممتنعہ[6]انتھی ملتقطا۔                             

 



[1]    صحیح البخاری باب الانصاف یوم الجمعۃ الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ١ /  ١٢٨

[2]    سنن ابوداؤد باب فضل الجمعۃ مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /  ۱۵۱

[3]    مسند احمد بن حنبل مروی از عبداﷲ بن عباس   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  مطبوعہ دارالفکر بیروت ۱ /  ٢٣٠

[4]    غنیہ المستملی شرح منیہ المصلی فصل فی صلٰوۃ الجمعۃ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص ٥٦١

[5]    فتاوٰی قاضی خاں باب صلٰوۃ الجمعۃ مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ١ /  ٨٧

[6]    مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی باب الجمعہ مطبوعہ نور محمد کُتب خانہ کراچی ص ٢٨٣

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن