دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 8 | فتاوی رضویہ جلد ۸

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۸

ای لایفسدھا ردالسلام بیدہ خلافہ لمن عزا الی ابی حنیفۃ انیہ مفسد فانہ لہم یعرف نقلہ من احد من اھل المذب وانما یذکرون عدم الفساد بلا حکایۃ خلاف بل صریح کلام الطحطاوی انہ قول ائمتنا الثلثۃ کذافی الحیلۃ وفی البحرالرائق ان الفساد ولیس بثابت فی المذھب ویدل لعدم الفسساد انہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فعلہ کما رواہ ابوداؤد وصححہ فی الترمذی وصرح فی المنیۃ بانہ مکروہ ای تنزیھا [1] اھ مختصرا                

یعنی ہاتھ کے ساتھ سلام کا جواب دینا نماز کے لئے فاسد نہیں بخلاف اس کے جس نے امام ابوحنیفہ کی طرف منسوب کیا ہے کہ یہ فاسد نماز ہے کیونکہ اس کا یہ کسی اہل مذہب سے منقول ہونا معروف نہیں علماء نے بغیر اختلاف ذکر کئے عدمِ فساد بیان کیا ہے بلکہ کلام طحطاوی میں تصریح ہے کہ یہ تینوں ائمہ کا قول ہے جیسا کہ حلیہ میں ہے ، اور بحرالرائق میں ہے کہ فساد مذہب میں ثابت نہیں اور اس کے عدمِ فساد پر نبی اکرم   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا عمل دلالت کرتا ہے جیسا کہ ابوداؤد میں ہے ، ترمذی نے اس کی تصحیح فرمائی اور منیہ میں اس کے مکروہ ( تنزیہی ) ہونے کی تصریح ہے اھ مختصرا (ت)

اسی ( درمختار )کے مکروہات میں ہے :

لاباس بتکلم المصلی واجابتہ براسہ کما لو طلب منہ شیئ اواری درھما قیل اجید فا وما بنعم اولا اوقیل کم صلیتم فاشاربیدہ انھم صلوا رکعتین [2]۔

نماز اگر سر کے اشارے کے ساتھ کلام یا جواب دے تو اس میں کوئی حرج نہیں ، مثلًا اس سے کوئی شے طلب کی گئی یا اس سے دراہم کے بارے دریافت کیا گیا کہ کیا یہ کھرا ہے ، ۔ تو اس نے اشارے سے ہاں یا نہ کہا ، یا یہ پوچھا گیا کہ تم نے کتنی رکعات پڑھی ہیں ، تو وہ ہاتھ کے اشارے سے بتلاتا ہے کہ اس نے دو رکعات ادا کی ہیں ۔ (ت)

ردالمحتار میں ہے :

قولہ واجبتہ برأسہ قال فی الامداد وبہ ورد الاثر عن عائشہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا وکذا فی تکلیم الرجل المصلی قال تعالٰی فنادتہ الملٰئکۃ وھو اقائم یصلی فی المحراب [3]۔

ماتن کا قول “ نماز کا سر کے اشارے سے جواب دینا “ اس بارے میں الامداد میں ہے کہ حضرت عائشہ   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  کا اس پر فرمان بھی منقول ہے اسی طرح کسی کا نمازی سے کلام کرنا ، تو اس سلسلہ میں اﷲ تعالٰی کا فرمان ہے ملائکہ نے انھیں آوازدی حالانکہ وہ محراب میں نماز ادا کررہے تھے۔ (ت)

انھیں عباراتِ ائمہ میں تصریح گزری کہ بحالتِ خطبہ چلنا حرام ہے یہاں تك کہ علمائے کرام فرماتے ہیں کہ اگر ایسے وقت آیا کہ خطبہ شروع ہوگیا مسجد میں جہاں تك پہنچا وہیں رُك جائے آگے نہ بڑھے کہ عمل ہوگا اور حالِ خطبہ میں کوئی عمل روا نہیں حالانکہ امام سے قرب شرعًا مطلوب اور حدیث وفقہ میں اُس کا فضل مکتوب اور وہیں بیٹھ جانے میں آئندہ آنے والوں کے لئے بھی جگہ کی تنگی ہے ان امور پر لحاظ نہ کریں گے اور آگے بڑھنے کی اجازت نہ دیں گے مگر پنکھا جھلتے پھرنا ضرور جائز بنا ہی لیا جائے گا ، خانیہ و ہندیہ وغیر ہما میں ہے :

ذکر الفقیہ ابو جعفر قالا اصحابنا رضی اﷲؤ تعالٰی عنھم انہ لا باس با لتخطی مالم یا خذ الامام فی الخطبتۃ ویکرہ اذا اخذ للمسلم ان

فقیہ ابوجعفر کہتے ہیں کہ ہمارے اصحاب   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم  کا فرمان ہے کہ جب تك امام نے خطبہ شروع نہیں کیا اس وقت تك چلنے میں کوئی حرج نہیں ، جب

یتقدم ویدنوامن المحراب اذالم یکن الامام فی الخطبۃ لیتسع المکان علی من یجی بعدہ وینال فضل القرب من الامام ،  فاذالم یفعل الاول فقد ضیع ذلك المکان من غیر عذر ،  فکان للذی جاء بعدہ ان یاخذ ذلك المکان  ،  وامامن جاء والامام یخطب ،  فعلیہ ان یستقرفی موضعہ من المسجد لان مشیہ فتقدمہ عمل فی حالۃ لخطبۃ [4]۔       

امام نے خطبہ شروع کردیا تو اب کراہت ہے کیونکہ امام خطبہ نہیں دے رہا تو مسلمان کو چاہئے کہ وہ محراب کے قریب ہوجائے تاکہ بعد میں آنے والے لوگوں کے لئے جگہ بن جائے اور اس کے ذریعے امام کی قربت کی فضیلت بھی حاصل ہوگی جب اس نے پہل نہ کی تو اس نے بغیر عذر وہ جگہ ضائع کردی ، اب بعد میں آنے والا شخص وہ جگہ حاصل کرسکتا ہے لیکن جو شخص اس وقت آیا جب امام خطبہ دے رہا تھا تو وہ مسجد میں اپنی جگہ پر ہی بیٹھ جائے کیونکہ اب اس کا چلنا اور آگے بڑھنا حالتِ خطبہ میں عمل ہوگا۔ (ت)

چلنا تو بڑی چیز ہے انھیں عبارات علماء میں تصریح گزری کہ خطبہ ہوتے میں ایك گھونٹ پانی پینا حرام ، کسی طرف گردن پھیر کر دیکھنا حرام ، تو وہ حرکت مذکورہ کس درجہ سخت حرام ہوگی ، انھیں وجوہ زاہرہ سے اس کے نیك کام اور یؤثرون علی انفسھم میں داخل ہونے کا جواب روشن ہوگیا ، نیکی وایثار تو جب دیکھیں کہ فعل وہاں جائز بھی ہو جب سرے سے نفسِ فعل حرام ، تو اس کے فضائل گننے کا کیا محل ، مسلمانوں کو پنکھا جھلنا تو جہاں جائز ہو وہاں غایت درجہ مستحب ہوگا ، جواب سلام دینا ، امر بالمعروف کرنا تو واجب تھے اور بحالت خطبہ حاضرین پر حرام ہوئے ، اب کیا یہاں ان کے فضائل ووجوب سے استدلال کی گنجائش ہے ، غنیہ میں ہے :

لایقال ردالسلام فرض فلا یمنع منہ لانا نقول ذلك اذاکان السلام فاذونا فیہ شرعا ولیس کذلك فی حالۃ الخطبۃ بل یرتکب فاعلہ اثما [5]۔

یہ اعتراض نہیں کیا جاسکتا کہ سلام کا جواب دینا فرض ہے لہذا اس سے منع نہ کیا جائے کیونکہ جوابًا کہیں گے فرض وہاں ہے یہاں شرعًا سلام کرنے کی اجازت ہو حالانکہ حالتِ خطبہ میں اس کی اجازت نہیں بلکہ ایسا عمل کرنے والا گنہگار ہوگا۔ (ت)

اوروں کے اطمینان کو آپ صریح بے اطمینانی وَ یُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ [6] ۔ ( وہ اپنی ذات پردوسروں کوترجیح دیتے ہیں ۔ ت) میں شمول نہیں  اَتَاۡمُرُوۡنَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنۡسَوْنَ اَنۡفُسَکُمْ[7]۔ ( تم لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو اور اپنے آپ کو بھول جاتے ہو ۔ ت)میں دخول ہے یعنی دیگراں رانصیحت وخود رافضیحت ( اوروں کو تو اچھے کام کی نصیحت کرنا اور خود برے کام کرنا۔ ت) علمائے کرام توایثار



[1]    ردالمحتار باب مایفسد الصلٰوۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /  ۴۵۵

[2]    درمختار باب مایفسد الصلٰوۃ الخ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ۱ /  ۹۱

[3]    ردالمحتار باب مایفسد الصلٰوۃ الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /  ۴۷۶

[4]    فتاوٰی ہندیہ الباب السادس عشر فی صلٰوۃ الجمعۃ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /  ٤٨۔ ١٤٧

[5]    غنیہ المستملی شرح منیہ المصلی فصل فی صلٰوۃ الجمعہ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص ۵۶۰

[6]    القرآن ٥٩ /  ٩

   [7] القرآن ۲ /  ۴۴

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن