دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 8 | فتاوی رضویہ جلد ۸

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۸

حضور   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   کا ارشاد گرامی ہے : اور جس نے سنگریزے کو مس کیا اس نے لغو کام کیا ، اس فرمان میں سنگریزے وغیرہ کومس کرنا جیسے کاموں سے حالت خطبہ میں آپ نے منع فرمایا ہے اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ دل اور اعضاء کو خطبہ کی طرف لگا یا جائے۔ (ت)

لُب اور خلاصہ عبارات متذکرہ بالا کا یہ ہے کہ اثنائے خطبہ میں بادکشی وغیرہ لغو افعال جو مانع استماع خطبہ وتوجہ قلب اور اعضائے انسانی کے ہیں ناجائز ہیں اور فاعل اس کا بجائے اس کے کہ مستحق ثواب کا ہو مرتکب گناہ کا ہوگا۔ المجیب محمد فضل الرحمن ساکن صدر بازار کیمپ فیروز پنجاب۔

الجواب :

تحریر ثانی صحیح ہے اور رائے نجیح فی الواقع فعل مذکور گناہ وحرام ، او راس کا فاعل مرتکب آثار ، اور اُس میں ثواب طمع خام ، او رتحریر اول سراسر اوہام ، خلاصہ وبزازیہ وخزانۃ المفتین و مجتبی وجلابی وحلیہ و جامع الرموز وبحرالرائق ونہر الفائق ومراقی الفلاح وتنویر الابصار ودرمختار وطحطاوی علی المراقی ومنحۃ و ہندیہ ومنحۃ الخالق وغیرہا عامہ کتب مذہیب میں صاف تصریح ہے کہ جو فعل نماز میں حرام ہے خطبہ ہونے کی حالت میں بھی حرام ہے ، خلاصہ و علمگیریہ ومتن و شرح تنویر کی عبارات کلام مجیب میں گزریں اورعبارت خزانۃ المفتین بعینہا عبارت خلاصہ ہے اور اُسی سے بحر و حاشیہ البحر للعلامۃ الشامی میں بہ نقل نہر ماثور۔ وجیز امام کردری میں ہے :

مایحرم فی الصلٰوۃ یحرم فی الخطبۃ کالا کل والشرب حال الخطبۃ [1]۔

جو کچھ نماز میں حرام ہے خطبہ میں بھی حرام ہے مثلًا خطبہ کے دوران کھانا پینا۔ (ت)

شرح منیہ امام محمد محمد ابن امیر الحاج حلبی میں ہے :

کما یکرہ الکلام بانواعہ یکرہ مایجراہ من کتابۃ ونحوھا مما یشغل عن ساعھا حتی ان فی شرح الزاھدی ویکرہ لمستمع لخطبۃ مایکرہ فی الصلٰوۃ کالا کل والشوب والعبث والا لتفات [2]۔

جیسے ہر طرح کی گفتگو منع ہے ویسے ہی اس کے قائم مقام مثلًا کتابت وغیرہ جو خطبہ کے سماع میں خلل ڈالے حتی کہ شرح الزاہدی میں ہے کہ خطبہ کے سامع کے لئے ہو وہ شیئ مکروہ ہے جو نماز میں مکروہ ہے مثلًا کھانا پینا ، عبث فعل اور کسی طرف متوجہ ہونا وغیرہ (ت)

اسی طرح علامہ سید احمد مصری نے حاشیہ شرح نورالایضاح میں بحوالہ شرح الکنزللعلامۃ عمر بن نجیم وشرح القدوری لمختار بن محمود سے نقل کیا ۔ شرح نقایا علامہ محمد قہستانی میں ہے :

کما منع الکلام منع الاکل والشرب العبث والالتفات والتخطی وغیرھا مما منع فی الصلٰوۃ کما فی جلابی [3]۔

جس طرح گفتگو منع ہے اسی طرح کھانا پینا عبث کام ، کسی اور طرف متوجہ ہونا اور خط وغیرہ کھینچنا جو کہ نماز میں ممنوع ہیں منع ہیں جیسا کہ جلابی میں ہے ۔ (ت)

متن وشرح علامہ حسن شرنبلالی میں ہے :

(کرھہ لحاضر الخطبۃ الاکل والشرب)وقال الکمال یحرم ( والعبث والالتفات) فیجتنب ما یحتنبہ فی الصلٰوۃ [4] اھ باختصار۔

(خطبہ میں حاضر شخص کے لئے کھانا پینا مکروہ ہے ) کمال نے کہا حرام ہے ( بے فائدہ کام کسی اور طرف متوجہ ہونا) پس ہر شے سے اجتناب کرنا چاہئے جس سے نماز میں اجتناب کیا جاتا ہے اھ اختصارًا (ت)

غنیہ شرح منیہ للعلام ابراہیم الحلبی میں ہے :

الاستماع والانصات واجب عندنا وعند الجمہور حتی انہ یکرہ قراء ۃ القراٰن ونحوھا وردالسلام تشمیت العاطس وکذاالاکل والشرب وکل عمل[5]۔

خطبہ سننا اور اُس کی طرف متوجہ ہونا ہمارے اور جمہور کے نزدیك واجب ہے حتی کہ اس کے دوران قراءتِ قران وغیرہ ، سلام کا جواب ، چھینك کا جواب مکروہ ہے اور اسی طرح کھانا پینا اور ہر عمل کا یہی حکم ہے (ت)

کیا کوئی عاقل کہہ سکتا ہے کہ بادکشی مذکور نمازی کو بحالت نماز حلال ہے حاشا قطعًا حرام ہے تو حسب تصریحات متوافرہ ائمہ وعلمائے معتمدین بحالت خطبہ بھی حرام وموجب آثام ہے یہیں سے اُس روایت اشارہ بچشم وسرو دست کا بھی جواب ظاہر ہوگیا کہاں کسی منکر یا اور کسی حاجت کے لئے ایك اشارہ کردینا اور کہاں حالتِ خطبہ میں حاضرین کو پنکھا جھلتے پھرنا ، یہ قیاس فاسد اگر صحیح ہو تو یہ حرکت نماز میں بھی جائز ٹھہرے کہ ایسا اشارہ تو عین نماز میں بھی حرام نہیں ، مثلًا کوئی شخص نمازی کو سلام کرے یا نمازی سر یا ہاتھ کے اشارے سے جواب دے دے یا کوئی کچھ مانگے یہ ہاں یا نہ کا اشارہ کردے ، یا کوئی پوچھے کَے رکعتیں ہوئیں ، یہ انگلیوں کے اشارہ سے بتادے یا کوئی روپیہ دکھا کر کھوٹا کھرا پوچھے یہ ایما سے جواب دے دے تو یہ سب صورتیں اگر چہ مکروہ ہیں مگر حرام و مفسدِ نماز نہیں ، درمختار باب مفسدات الصلٰوۃ میں ہے :

( وردالسلام ) ولو سھوا ( بلسانہ ) لا بیدہ بل یکرہ علی المعتمد [6]۔

( سلام کا جواب دینا) اگر چہ بھول کر ہو ( زبان کے ساتھ) نہ کہ ہاتھ کے ساتھ ، بلکہ یہ معتمد قول کے مطابق مکروہ ہے ۔ (ت)

ردالمحتار میں ہے :

 



[1]    فتاوی بزازیہ علٰی ہامش الفتاوٰی الہندیہ الثالث والعشرون فی الجمعۃ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ٤ /  ٧٤

[2]    حاشیہ الطحطاوی علی مراقی الفلاح بحوالہ النہر عن البدائع مفہومًا باب الجمعہ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۲۸۲

[3]    جانع الرموز فصل فی صلٰوۃ جمعہ مطبوعہ گنبدقاموس ایران ۱ /  ۲۶۸

[4]    مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص ٢٨٣

[5]    غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی صلٰوۃ الجمعہ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص ٥٦٠

[6]    درمختار باب مایفسد الصلٰوۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی بھارت ۱ /  ۸۹

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن