30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لاباس بہ اما دراسۃ الفقہ وکتابتہ عند البعض مکروہ وقال البعض لاباس [1] بہ ( ملخصا تقدمًا وتاخرًا ) انتھی۔
اشارہ کیا تو صحیح یہی ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں لیکن فقہ کی تدریس وکتابت بعض کے ہاں مکروہ ہے اور بعض کے نزدیك اس میں کوئی حرج نہیں انتہی (ت)
پس ان سب روایتوں کے استدلال سے جو کوئی خطبہ اولٰی بقدر سنت سن کے باقی کو سنتا رہے اور حاضرین کو جوگرمی میں ہوا کی حاجت وضرورت ہوتی ہے سب کو ہوا کرنے لگے تاکہ اطمینان سے خطبہ سنیں لا باس بہ ( اس میں کوئی حرج نہیں ۔ ت) بیشك یہ شخص ثوابِ جمعہ سے محروم نہ رہے گا۔
اذا المقصود من الانصات ملا حظۃ معنی الخطبۃ واشتغال قلوب السامعین بالحر یفوت ذلك کذا یستفاد من فتاوی حموی۔
کیونکہ خطبہ کی طرف کان لگانے سے مقصود یہی ہے کہ معانی خطبہ سے اگاہی ہو ، لیکن سامعین کے دلوں کا گرمی کی وجہ سے پریشان ہونا اسے فوت کرنے کا ذریعہ ہے فتاوٰی حموی سے یہی مستفاد ہے ۔ (ت)
دیکھو جنت میں بروز جمعہ سب مومنوں کو ایك مکان میں جمع کرکے باری تعالٰی بھی ہوا شمالی چلائے گا تاکہ باطمینان دیدار حق سبحانہ تعالٰی سے مشرف ہواکریں گے ، اس ہو اکا نام میثرہ ہے کہ کستوری کی خوشبوئی کا اثر رکھتی ہوگی کما فی مسلم(جیساکہ مسلم شریف میں ہے۔ ت)
ثانیًا اس ہواکنندہ قوم کو بخطبہ جمعہ گرمی کے مارے خود ہوا کی سخت حاجت وضرورت ہوتی ہے تو اُس نے اپنی اس راحت پر راحت کو مقدم کیا وَ یُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ ﳴ[2]( وہ اپنی ذاتوں پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں اگر چہ وہ خود بھوکے ہوتے ہیں ۔ ت)کے گرد میں داخل ہوکے درجہ مفلحون کا پایا ، یہ آیت سورہ حشر کی بخاری و اشباہ وفتاوٰی حموی میں موجود ہے اور کتاب وسنت کا حکم عام ہے۔
لان العبرۃ لعموم اللفظ لالخصوص المورد کما قرر فی الاصول۔
کیونکہ اعتبار عموم لفظ کا ہو تا ہے مخصوص واقعہ کا اعتبار نہیں کیا جاتا جیسا کہ اصول میں مسلمہ ہے ۔ (ت)
خطبہ جمعہ بقدر ایك تسبیح کے فرض اور تین آیات قصیرہ یا ایك آیت طویلہ پڑھنا وشہادتین و درود پڑھنا اور پند و نصیحت قوم کو کرنا خطیب پر سنت اور خطبہ ثانیہ نیز سنت ہے اور بعضوں کے نزدیك خطبہ اولٰی بقدر تمام التحیات کے فرض ہے فتدبر۔ راقم دعاگوخیر خواہ فقیر غلام البنی عنہ باسمہ سبحٰنہ وتعالٰی شانہ ، ۔
الجواب :
ھو الموفق بالحق والصواب ( وہ حق اور درستی کے ساتھ توفیق دینے والا ہے ۔ ت) برضمائر اربابِ صدق و صفاد اصحاب فطنت وذکا مخفی ومحتجب نہ رہے کہ جو افعال اثنائے نماز میں حرام ہیں وہی خطبہ میں بحالتِ استماع خطبہ گفتگو کرنا یابادکشی کرنا جو مضر اور مخالف استماع خطبہ ہے ممنوع اور غیر مشروع ہے ہرگز درست نہیں مرتکب اس کا خاطی وسخت گناہ گار ہے ، علمگیریہ میں ہے :
ویحرم فی الخطبۃ مایحرم فی الصلٰوۃ حتی لا ینبغی ان یاکل او یشرب والامام فی الخطبۃ ھکذا فی الخلاصۃ [3] ص ۵۳۔
خطبہ کے دوران ہر وہ شیئ حرام ہے جو نماز میں حرام حتی کہ امام کے خطبہ کے وقت کھانا وپینا مناسب نہیں اسی طرح خلاص ص ۵۳ میں ہے ۔ (ت)
درمختار میں ہے :
(وکل ماحرم فی الصلٰوۃ حرم فیھا) ای فی الخطبۃ خلاصۃ وغیرھا فیحرم اکل وشرب وکلام ولو تسبیحا اوردسلام او امرا بمعروف بل یجب علیہ ان یستمع ویسکت [4]۔
( جو کچھ نماز میں حرام ہے اس ( خطبہ ) کے دوران بھی حرام ہے) خلاصہ وغیرہ ، پس کھانا پینا ، کلام کرنا اگر چہ سبحان اﷲ کہنا ، سلام کا جواب دینا یا نیکی کا حکم ہو اس دوران ناجائز ہے بلکہ واجب ہے کہ خطبہ سنا جائے اور خاموشی اختیار کی جائے ۔ (ت)
شامی میں ہے :
قولہ بل یجب علیہ ان یستمع ظاھرہ انہ یکرہ الاشتعال بما یفوت السماع وان لم یکن کلاما وبہ صرح القھستانی حیث قال اذا الاستماع فرض کما فی المحیط اوواجب کما فی صلٰوۃ المسعودیۃ اوسنۃ [5] الخ۔
قولہ “ بلکہ خطبہ کا سننا واجب ہے “ کا ظاہر واضح کررہا ہے ہر وہی شیئ پڑھنا جس سے سماع خطبہ فوت ہو وہ مکروہ ہے اگر چہ وہ کلام نہ ہو ، اسی کی تصریح کرتے ہوئے قہستانی نے کہا کیونکہ خطبہ کا سننا فرض ہے جیسا کہ محیط میں یا واجب ہے جیسے کہ صلٰوۃ المسعودیہ میں یا سنت ہے الخ (ت)
شرح وقایہ میں ہے :
واذا خرج الامام محرم الصلٰوۃ والکلام حتی یتم خطبتہ [6]۔
جب امام (خطبہ کے لئے نکل آئے تو نماز و کلام حرام ہوجاتی ہے یہاں تك کہ خطبہ مکمل ہوجائے ۔ (ت)
شرح نووی میں ہے :
قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ومن مس الحصا فقد لغافیہ النھی عن مس الحصا وغیرہ من انواع العیث فی حال الخطبۃ و فیہ اشارۃ الی اقبال القلب والجوارح علی الخطبۃ [7]۔
[1] فتاوی ہندیہ الباب السادس عشر فی صلٰوۃ الجمعۃ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۴۷
[2] القرآن ٥٩ / ٩
[3] فتاوی ہندیہ الباب السادس عشر فی صلٰوۃ الجمعۃ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۴۷
[4] درمختار باب الجمعۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ١ / ١١٣
[5] ردالمحتار ، باب الجمعۃ ، مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ / ٦٠٦
[6] شرح وقایہ ، باب ا لجمعۃ ، مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ دہلی بھارت ۱ / ۲۴۴
[7] شرح مسلم مع مسلم کتاب الجمعۃ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی ۱ / ۲۸۳
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع