دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 8 | فتاوی رضویہ جلد ۸

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۸

صحیحین میں حضرت جابر بن عبداﷲ   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا   سے ہے :

ثم خطب الناس بعد فلما فرغ نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نزل فاتی النساء فذکرھن[1]۔

پھر اس کے بعد آپ نے خطبہ دیا ، جب بنی اکرم   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  فارغ ہوئے تو آپ منبر سے نیچے تشریف لائے ، اس کےبعد خواتین کے اجتماع میں تشریف لاکر انھیں نصیحت و تلقین فرمائی۔ (ت)

امام نووی منہاج میں فرماتے ہیں : انما نزل الیھن بعد فراغ خطبۃ العید [2] ( آپ خواتین کے اجتماع میں خطبہ عید سے فراغت کے بعد تشریف لے گئے۔ ت) بخلاف جمعہ کہ اس میں خطبہ قبل نماز ہے اور شروع تذکیر سے اغازِ تکبیر تك اُسی تکبیر تك اُسی کا وقت ہے ولہذا فصل بہ اجنبی ناجائز ، یہاں تك کہ اگر فصل طویل حاصل ہوخطبہ زائل اور اعادہ لازم ، ورنہ نماز باطل ہو ، اور غیر اجنبی سے بھی فصل پسندیدہ نہیں اور اعادہ خطبہ اَوْلٰی۔

فی الدرالمختار لو خطب جنبا ثم اغتسل وصلی جاز [3]  ( ای ولا یعد الغسل فاصلا لانہ من اعمال الصلٰوۃ ولکن الاولی اعادتھا کما لو تطوع بعد ھا کما فی البحر ،  [4]  ش)ولو فصل باجنبی فان طال بان رجع لبیتہ فتغدی

درمختار میں ہے اگر کسی نے جنبی حالت میں خطبہ دیا پھر غسل کیا اور نماز پڑھائی تو جائز ہے ( یعنی غسل کو( خطبہ اور نماز کے درمیان ) فاصل نہ شمار کیا جائے گا کیونکہ وُہ بھی نماز کے اعمال میں سے ہے لیکن اعادہ خطبہ بہتر ہے جیسا کہ اگر خطبہ کے بعد نوافل ادا کئے ، جیسا کہ بحر

او جامع واغتسل استقبل ،  خلاصۃ ای لزوما لبطلان الخطبۃ سراج [5] اھ مزید امن الشامی

میں ہے ش)اور اگر کسی جنبی کا فاصلہ ہوگیا پس اگر وہ طویل تھا مثلًا گھر آیا اور کھانا کھایا باجماع کیا اور غسل کرکے واپس لوٹا تو نئے سرے سے خطبہ دے خلاصہ ، یعنی اب خطبہ دوبارہ دینا لازمی ہے کیونکہ پہلا ختم ہو چکا ہے سراج اھ یہ اضافہ شامی سے ہے ۔ (ت)

اور شك نہیں کہ خطبہ خواندہ کا ترجمہ یااور مواعظ و نصائح جو اس وقت میں واقع ہوں گے انھیں مقاصد ومظامین خطبہ پر مشتمل ہوں گے _________ تو وقت خطبہ میں ایقاع تذکیر بہ نیت تذکیر قطعًا اُسے داخل خطبہ کرے گا اور نیت قطع بے معنی رہے گی کہ عمل وواقع صراحۃً اس کا مکذب ہوگا

کمن نوی ان لا یاکل وھوا کل اولا یشرب وھو شارب بالجملۃ فنیۃ التذکیر فی ھذا الوقت عین نیۃ الخطبۃ لیست الخطبۃ الاھذا ولذ اصرحوا ان الخطیب کلما تکلم بکلام یامرفیہ بمعروف او ینھی عن منکر فانہ یعد من الخطبۃ وان خاطب بہ رجلا معینا لحاجۃ مخصوصۃ کما سیأتی۔                           

جیسے کہ کسی شخص نے نیت کی کہ وہ نہیں کھائے گا یا نہیں پئے گا اور درانحا لیکہ وہ کھا رہا ہے یا پی رہاہے ، الغرض اس موقعہ پر تذکیر کی نیت بعینہٖ نیت خطبہ ہے کیونکہ خطبہ تذکیر ہی ہوتا ہے اسی لئے فقہاء نے تصریح کی ہے کہ خطبہ دینے والا کوئی ایسا کلام کرے جس میں نیکی کا حکم اور برائی سے ممانعت ہو تو اسے خطبہ ہی کہا جائے گا اگر چہ وہ کسی مخصوص حاجت کی وجہ سے کسی سے مخاطب ہو رہا ہو جیسا کہ عنقریب آرہا ہے ۔ (ت)

اور اگر بالفرض قطع ہی مانیے تو خطبہ و نماز میں فصل لازم آئے گا اگر چہ غیر اجنبی سے تو سنت مستمرہ وصل کے خلاف ہوگا بہر حال خالی ازکراہت نہیں ھذا ماظھرلی وباﷲ التوفیق

دوم : صرف اردو خطبہ اس کی کراہت بیان بالا سے اظہر وازہر خصوصًا جبکہ یہ صرف اپنی صرافتہ محضہ پر ہو کہ اب تو اس کا مکروہ و شنیع ہونا صراحۃً منصوص کہ خطبہ میں تلاوتِ قرآن عظیم کا ترك بُرا ہے ۔

فی الھندیۃ فی ذکر سنن الخطبۃ الحاوی عشر قرائۃ القراٰن وتارکھا مسیئی ھکذا فی البحر الرائق ومقدار ما یقرأ فیھا من القراٰن ثلث اٰی ات قصار اواٰی ۃ طویلۃ کذا

فتاوٰی ہندیہ میں سننِ خطبہ کے بیان میں ہے کہ گیارھویں سنت خطبہ میں قرآن پڑھنا ہے اور اس کا ترك گناہ ہے ، اسی طرح بحرالرائق میں ہے اوراس کی تعداد تین چھوٹی آیاتِ یا ایك بڑی آیت ہے

فی الجوھرۃ النیرۃ  [6]۔

جیسا کہ جوہرہ نیرہ میں ہے (ت)

سوم : کچھ عربی کچھ اردو اس کا حال بھی بیان سابق سے واضح ہوچکا مگر جب امام بحالتِ خطبہ کوئی امر منکر دیکھے تو اُس سے نہی کیا ہی چاہئے اور جب وہ عربی سمجھتا یا امام خود عربی میں کلام کرنا نہیں جانتا تو ناچار زبان مقدور و مفہوم کی طرف رجوع ہوگی یہ کلام جو خطبہ میں ہوگا خطبہ ہی ہوگا کہ امر بالمعروف بھی اُس کے مقاصد حسنہ سے ہے

فی الدرالمختار یکرہ تکلمہ فیھا الا لا مر بمعروف لانہ منہا [7]۔

درمختار میں ہے خطبہ میں گفتگو مکروہ ہے البتہ نیکی کا حکم جائز ہے کیونکہ یہ خطبہ کا حصہ ہے ۔ (ت)

یُوں ایك حصہ خطبہ اردو میں ہونا البتہ مکروہ نہیں بلکہ واجب تك ہو سکتا ہے جبکہ ازالہ منکر اسی میں منحصر ہو۔

چہارم : محض اشعار پر قناعت یہ ضرور مکروہ واسائت وخلاف سنت وموجب ترك تلاوت ، اور اگر ایك آیت طویلہ یا تین آیت قصیرہ کو نظم کرکے لائیں تو اول تو غالبًا یہ بلا تغییر نظم قرآن نا متیسر اور بعد تغییر نظم تلاوت نہ رہے گی اگر چہ اقتباس ہو ، اور اگر بَن بھی پڑے تو ادائے سنت تلاوت کے لئے قرآن مجید کو منظوم کرکے پڑھنا ترك قرائت سے اشد واشنع ہے ، قرآن عظیم شعر سے پاك و منزّہ اور اپنے شعر بننے کی



[1]    صحیح البخاری کتاب العیدین باب المشی والرکوب الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /  ۱۳۱

[2]    شرح مسلم للنووی مع مسلم کتاب صلٰوۃ العیدین باب المشی والرکوب الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ١ /  ٢٨٩

[3]    درمختار باب الجمعہ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ۱ /  ۱۱۱

[4]    ردالمحتار باب الجمعہ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /  ۶۰۰

[5]    درمختار باب الجمعہ مطبوعہ مجتبائی دہلی بھارت ١ /  ١١١

[6]    فتاوٰی ہندیہ الباب السادس عشر فی صلٰوۃ الجمعہ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /  ۱۴۷

[7]    درمختار  ، باب الجمعۃ  ، مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ، ١ /  ١١١

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن