دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 8 | فتاوی رضویہ جلد ۸

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۸

کچھ لوگ مسجد داخل میں اور کچھ لوگ مسجد خارج میں بیٹھے تھے مؤذن نے تکبیر کہی ، اہلِ خارج میں سے امام نے اور اہل داخل میں سے بھی امام نے جماعت کرائی ، ان میں سے جس نے پہلے شروع کی وہ امام اور اسی کے لوگ مقتدی ہوں گے اور ان کے حق میں کوئی کراہت نہیں ۔ (ت)

ردالمحتار باب ادراك الفریضہ میں ہے :

لوکان مقتد ئابمن یکرہ الاقتداء بہ ثم شرع من لا کراھۃ فیہ ھل یقطع ویقتدی بہ استظھر ط ان الاول لوفاسقا لا یقطع ولو مخالفا وشك فی مراعاتہ یقطع اقول والاظھر العکس لان الثانی فی کراھۃ تنزیھیۃ کالاعمی والاعرابی بخلاف الفاسق [1] الخ                 

اگر کسی نے ایسے شخص کی اقتداء کی جس کی اقتدامکروہ تھی پھر ایسے امام نے جماعت شروع کی جس میں کراہت نہ تھی تو کیا وہ مقتدی قطع کر کے دوسرے کی اقتداء کرئے ، ط نے اس کو ظاہر کہا کہ اول اگر فاسق ہے تو قطع نہ کرے اور اگر مخالف مسلك رکھتا ہے اور اس سے دوسرے مسلك کی رعایت مشکوك ہے تو پھر قطع کرے ، اقول اس کا عکس اظہر ہے کیونکہ دوسرے میں کراہت تنزیہی ہے جیسا کہ نابینا یا اعرابی میں ہے بخلاف فاسق کے الخ۔ (ت)

اور جمعہ میں تو جواز بمعنی صحت ہی نہیں کم سے کم ایك فریق کا جمعہ سرے سے ادا ہی نہ ہوگا ، صحتِ جمعہ کی شرائط سے ایك یہ بھی ہے کہ بادشاہِ اسلام یا اس کامامور اقامت کرے یعنی سلطان خود یا اُس کا ماذون خطبہ پڑھے ، امامت کرے اور جہاں یہ صورت متعذر ہو جیسے ان بلادِ ہندوستان میں کہ ہنوز دارالاسلام ہے وہاں بضرورت نصب عامہ کی اجازت یعنی عام مسلمین جسے امام مقرر کرلیں ۔

فی التویر والدر یشترط لصحتھا السلطان او مامورہ باقامتھا وقالوا یقیمھا امیر البدر ثم الشرطی ثم القاضی ثم من ولاہ قاضی القضاۃ ونصب العامۃ غیر معتبرمع وجود من ذکر امامع عدمھم فیجوز للضرورۃ  [2] اھ ملتقطا  

تنویر اور در میں ہے کہ صحت جمعہ کے لئے سلطان یا اس کی اقامت کے لئے سلطان کا مامور ہونا شرط ہونا ضروری ہے ، فقہا نے فرمایا ہے کہ جمعہ شہر کا امیر ، پھر محاسب پھر قاضی پھر وہ شخص قائم کرسکتا ہے جس کو قاضی القضاۃ نے مقرر کیا ہو ، ان لوگوں کی موجودگی میں عوام کا تقرر معتبر نہیں البتہ جب ان میں سے کوئی نہ ہو تو ضرورت کی وجہ سے جائز ہوگا اھ ملتقطا (ت)

پر ظاہر کہ کسی مسجد کے لئے دوامًا جمعہ علٰی وجہ الاجتماع کہ دونوں امامت جمعہ واحدہ کریں مقرر نہیں ہوتے خصوصًا ہمارے بلاد میں امر اور بھی اظہر کہ نصب عامہ صرف بضرورت اقامت شعار معتبر ، اور یہ ضرورت امام واحد سے مرتفع ، تو ایك جمعہ میں ایك مسجد میں دو امام کا جمع باطل ومتدفع ، پس صورتِ مستفسرہ میں اُن دونوں میں جو اُس مسجد کا امام معین جمعہ نہ تھا اُس کا اور اس کے مقتدیوں کا جمعہ ادا نہ ہوا ، اور اگر دونوں نہ تھے تو کسی کا نہ ہوا ، یہیں سے صورتِ اخیرہ کا جواب بھی ظاہر ، اور اگر بفرض باطل صورت صحت تسلیم بھی ہو جو ہرگز لائق تسلیم نہیں تو اس کے سخت مخالف مقصود شرع وبدعت شنیعہ سیسہ ہونے میں کلام نہیں ، جمعہ میں ایك مذہب قوی یہ ہے کہ شہر بھر میں ایك ہی جگہ ہوسکتا ہے اور بعض نے دوجگہ اجازت دی اور بعض نے بیچ میں نہر فاصل ہونے کی شرط کی ، مفتی بہ جواز تعدد ہے مگر یہ تعدد کہ ایك ہی دن ہی مسجد میں دس بار امامتِ جمعہ ہو کہ جیسے دو۲ ویسی ہی سو ۱۰۰ ، یہ بلاشبہ ابتداع فی الدین ہے واﷲ تعالٰی اعلم 

مسئلہ١٣٠٣ :      از کانپور محلہ جرنیل گنج مسجد حاجی فرحت مرسلہ شیخ محمد سہول   ١٨ محرم الحرام ١٣١٦ھ

ماقولکم ایھا العلماء لکرام ( اے علمائے کرام ! تمھارا قول کیا ہے ۔ ت) اس مسئلہ میں کہ خطبہ یا عیدین کو عربی میں پڑھ کر اُردو ترجمہ کرنا یا صرف اردو میں بطور وعظ کے خطبہ ادا کرنا یا بعض حصہ عربی و بعض اردو میں پڑھنا یا چند اشعار ترغیبًا و ترہیبًا عربی یا غیر عربی میں پڑھنا مع النثراولاجائز ہے یا نہیں ؟ بینوا توجروا

الجواب :

یہ سوال چند امور پر مشتمل :

اوّل : جمعہ یا عیدین کا خطبہ پڑھ کر اُردو ترجمہ کرنا۔ اقول :  وباﷲ التوفیق( میں اﷲ کی توفیق سے کہتا ہوں ۔ ت) قضیئہ نظر فقہی یہ ہے کہ یہ امر عیدین میں بہ نیت خطبہ ہو تو ناپسند اور اس کا ترك احسن اور بعد ختم خطبہ ، نہ بنیت خطبہ بلکہ قصدپند و نصیحت جداگانہ ہو تو جائز وحسن اور جمعہ میں مطلقًا مکروہ ونامستحسن ، دلیل حکم ووجہ فرق یہ کہ زبانِ برکت نشان رسالت سے عہد صحابہ کرام وتابعین عظام وائمہ اعلام تك تمام قرون و طبقات میں جمعہ وعیدین کے خطبے ہمیشہ خالص زبانِ عربی مذکور وماثور اور با آنکہ زمانہ صحابہ میں بحمد اﷲ تعالٰی اسلام صدہا بلاد عجم میں شائع ہوا ، جوامع بنیں ، منابر نصب ہوئے ، باوصف تحقیق حاجت کبھی کسی عجمی زبان میں خطبہ فرمانا یا دونوں زبانیں ملانا مروی نہ ہوا تو خطبے میں دوسری زبان کا خلط سنت متوارثہ کا مخالف ومغیر ہے اور وہ مکروہ ،

کما بیناہ فی فتاوٰنا وذکرنا ثم الفرق بین الکف والترك فتثبت ولاتتخبط۔

جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوٰی میں بیان کیااور وہاں ہم نے کف اور ترك کے درمیان فرق واضح کردیا ہے اس پر ثابت رہو اور انتشار کا شکار نہ ہوں ۔ (ت)

مگر عیدین میں خطبہ بعد نماز ہے تو وہ مستوعد وقت نہیں ہوسکتا نیت قطع اپنا عمل کرے گی اور بعد فراغ خطبہ کہ تمام امور متعلقہ نما ز عید منتہی ہوگئے ، مسلمان کو تذکیر وتفہیم ممنوع نہیں بلکہ مندوب ، اور خود سید عالم   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  سے ثابت ہے ، بخاری و مسلم و دارمی و ابوداؤد ونسائی وابن ماجہ حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی سے راوی :

قال خرجت مع النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یوم فطر اواضحی فصلی ثم خطب ثم اتی النساء فوعظھن وذکرھن وامرھن بالصدقۃ [3]۔

میں حضور اکرم   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے ساتھ عید الفطر یا عید الاضحٰی کے دن نکلا آپ نے نماز پڑھائی پھر خطبہ ارشاد فرمایا اس کے بعد آپ خواتین کے اجتماع میں تشریف لے گئے انھیں وعظ ونصیحت فرمائی اور صدقہ کرنے کا حکم دیا۔ (ت)

 



[1]    ردالمحتار باب ادراک الفریضہ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /  ۵۲۵

[2]    درمختار باب الجمعہ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ۱ /  ۱۱۰۔ ۱۰۹

[3]    صحیح البخاری کتاب العیدین باب خروج الصیبان الی المصلی مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /  ۱۳۳

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن