30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کے کہ آج کا جمعہ خود اصل پڑھا چکا اقامت شعار ہوچکی ، جمعہ امروز میں انابت کے کوئی معنی نہیں کہ انابت تحصیل نا حاصل کے لئے ہوتی ہے نہ تحصیل حاصل کے واسطے نہ نائب ومنیب ایك امر میں جمع ہوسکیں اور آیندہ جمعہ کے لئے اذن جمعہ امروز کا اذن نہیں تو شق ثانی ہی متعین ہوئی اور جمعہ میں غیر امامِ جمعہ کی امامت بے اذن امامِ جمعہ باطل ہےسراجیہ میں بعد عبارت
عــــہ : بقی ان لووجد واماما معینا ماذونا ح (م)
(یہ احتمال باقی رہ گیا کہ عام لوگ کسی مقررہ اذن والے شخص کوپائیں ۔ ت)
مذکور ہ ہے :
لوصلی احد بغیر اذن الخطیب لایجوز الا اذا اقتدی بہ من لہ ولایۃا لجمعۃ [1]۔
اگر بغیر اذنِ خطیب نماز پڑھائی تو جائز نہیں ، البتہ اس صورت میں جائز ہوگی جب اس کی اقتداء کسی ایسے شخص نے کی جو ولایت جمعہ رکھتا تھا۔ (ت)
دُرمختار میں ہے :
واقرہ شیخ الاسلام [2]
( اسے شیخ الاسلام نے ثابت رکھا ۔ ت)
خانیہ وہندیہ و ردالمحتار میں ہے :
رجل خطب یوم الجمعۃ بغیر اذن الامام والامام حاضر لایجوز ذلك الاان یکون لامام امرہ بذلك [3]۔
کسی شخص نے اذنِ امام کے بغیر خطبہ دیا حالانکہ امام موجود تھا تویہ جائز نہیں مگر اس صورت میں جب امام نے اسے اس کا حکم دیا ہو۔ (ت)
نہ اس مسجد میں آج کے جمعہ کو امام کی ضرو ت ، نہ معدودے چند عامہ ناس ہیں ورنہ جمعہ سے بڑھ کر عیدین کبھی کسی شخص کو فوت نہ ہوں جبکہ اپنے ساتھ ایك ہی پاسکے کہ انھیں نماز مل جانی ضرورت قرار پائے اور ان میں ایك کا دوسرے کو امامِ عید مقرر کرلینا قائم مقام امامتِ سلطانِ اسلام ٹھہرے اور تمام مسائل کہ فوتِ جمعہ وہ عیدین پر مبتنی ہیں باطل ہوجائیں وھذا الا یقول بہ عاقل فضلا عن فاضل ( یہ بات تو کوئی معمولی عقل والا بھی نہیں کہہ سکتا چہ جائیکہ کوئی فاضل کہے ۔ ت) تو حق یہ ہے کہ اس مسجد میں درکنار کسی دوسری مسجد میں بھی جہاں جمعہ نہ ہوتا ہو خواہ مکان یا میدان میں کسی جگہ یہ لوگ جمعہ پڑھ سکتے بلکہ اپنی ظہر تنہا تنہا پڑھیں ، تنویرالابصار و درمختار میں ہے :
کرہ تحریما لمعذور ومسبحون ومسافر اداء ظھر بجماعۃ فی مصر قبل الجمعۃ وبعدھا لتقلیل الجماعۃ وصورۃ المعارضۃ [4]۔
جمعہ سے پہلے اور اس کے بعد شہر میں معذور ، قیدی اور مسافر کا جماعت کے ساتھ ظہر ادا کرنا مکروہ تحریمی ہے کیونکہ اس میں قلت جماعت اور صورت تعارض لازم آتی ہے ۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
قولہ لمعذور وکذا غیرہ بالا ولٰی [5] اھ فانت تعلم انھم انما احوجہم الی اداء الظھر انھم لا یقدرون علی اقامۃ الجمعۃ فارشدوا الی صلٰوتھا فرادی کما لایخفی علی من رزق العقل سلیم والفھم المستقیم واﷲ تعالٰی اعلم۔
قولہ معذور ، غیر معذور کا بطریق اولٰی یہی حکم ہے اھ در آب جانتے ہیں کہ یہ لوگ اداء ظہر کے زیادہ محتاج ہیں کیونکہ وہ اقامتِ جمعہ پر قادر ہی نہیں لہذا علماء نے تنہا نماز ظہر ادا کرنے کی تلقین کی ، جیسا کہ ہر شخص پر مخفی نہیں جسے اﷲ تعالٰی نے اعقل سلیم اور فہم مستقیم عطا فرمایا ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم (ت)
مسئلہ ١٣٠٢ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مسجد میں دو امام درمیان میں پردہ ڈال کر جمعہ پڑھانا جائز ہوگا یا نہیں ؟
(۲) ایك مسجد میں دو دفعہ جمعہ پڑھنا جائز ہوگا یانہیں ؟ بینوا توجروا
الجواب : عدمِ جواز بمعنی گناہ تو جمیع فرائض میں ہے صورتِ سوال سے ظاہر کہ دیدہ ودانستہ دو جماعتیں بالقصد اس طرح کیں اور کسی فرض کی دوجماعتیں ایك مسجد ایك وقت میں بالقصد قائم کرنا ہر گز جائز نہیں ، دونوں فریق یالاقل دونوں میں سے ایك ضرور گنہگار ہوگا کہ جماعت فرائض کی ایسی تفریق صراحۃً بدعت سئیہ شنیعہ ہے ، اگر دونوں امام میں صرف ایك صالح امامت بلا کراہت ہے ، مثلًا دُوسرا فاسق معلن یا بد مذہب ہے جب تو کراہت صرف اس دوسرے پر ہے ، اور اگر دونوں صالح تو جس کی نیت پہلے بندھ گئی اس پر الزام نہیں دوسرے پر ہے ، اور معًا باندھیں تو دونوں پر ۔ خلاصہ و ہندیہ میں ہے :
قوم جلوس فی المسجد الداخل وقوم فی المسجد الخارج اقام المؤذن فقام امام من اھل الخارج وأمھم وقام امام من اھل الداخل فأمھم من یسبق بالشروع فھو والمقتدون بہ لاکراھۃ فی حقھم۔ [6]
[1] فتاوٰی سراجیہ باب الجمعہ مطبوعہ منشی نولکشور لکھنؤ بھارت ص ۱۷
[2] درمختار باب الجمعہ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ۱ / ۱۱۰
[3] فتاوٰی ہندیۃ الباب السادس عشر فی صلٰوۃ الجمعۃ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۴۵
[4] درمختار الباب السادس عشر فی صلٰوۃ الجمعۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ۱ / ۱۱۲
[5] ردالمحتار ، باب الجمعۃ ، مطبوعہ مصطفی البابی مصر ، ۱ / ۶۰۴
[6] فتاوٰی ہندیۃ الباب الخامس فی الامامت فصل ثانی مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ١ / ٨٤
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع