30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بن عوف فصلاھا بمسجد ھم فسمی مسجد الجمعۃ وھی اول جمعۃ صلاھا صلی اﷲ تعالٰی وسلم ذکرہ ابن اسحٰق [1] اھ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
موقعہ پر جمعہ کے دن قبا سے مدینہ طیبہ کی طرف چلے تو دن خوب بلند ہوچکا تھا محلہ بنوسالم بن عوف میں جمعہ کا وقت ہوگیا تو آپ نے ان کی مسجدمیں جمعہ ادا فرمایا ، اسی وجہ سے اس مسجد کا نام مسجد الجمعہ قرار پاگیا ، یہ پہلا جمعہ تھا جو حضور سرور عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ادا فرمایا ، ابن اسحاق نے اسی طرح ذکر کیا ہے اھ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم (ت)
مسئلہ ١٣٠٠ : از درؤ ضلع نینی تال ڈاکخانہ کچھا مرسلہ عبدالعزیز خاں ٤ رمضان المبارك ١٣١٥ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نماز عیدین یا جمعہ میں آدمیوں کی کثرت سے سجدہ سہو امام کو ترك کرنا جائز ہے یا نہیں ؟
الجواب :
ہاں علمائے کرام نے بحالت جماعت جبکہ سجدہ سہو کے باعث مقتدیوں کے خبط وافتنان کا اندیشہ ہو اس کے ترك کی اجازت دی بلکہ اسی کو اولٰی قراردیا ،
فی الدرالمختار السھو فی صلٰوۃ العید والجمعۃ والمکتوبۃ والتطوع سواء والمختار عند المتاخرین عدمہ فی الاولیین لد فع الفتنۃ کما فی جمعۃ البحر واقرہ لاالمصنف وبہ جزم فی الدر[2]۔
درمختار میں ہے کہ نماز عید ، جموہ اور فرض ونفل نماز میں سہو برابر ہے ، متاخرین کے ہاں عید وجمعہ میں دفع فتنہ کی وجہ سے سجدہ سہو کانہ ہونا مختار ہے جیسا کہ بحر کے باب جمعہ میں ہے ، مصنف نے اسے ثابت رکھا اور در میں اسی کے ساتھ جزم کیا۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
الظاھر ان الجمع الکثیر فیما سواھما کذلك کما بحثہ بعضھم ط وکذا بحثہ الرحمتی وقال خصوصا فی زماننا وفی جمعۃ حاشیۃ
ظاہر یہ ہے کہ ان ( نماز عید وجمعہ) کے علاوہ میں جہاں بھی کثیر اجتماع ہو اس کاحکم بھی یہی ہے جیسا کہ بعض نے بیان کیا ہے ط ، اور اسی طرح رحمتی نے بحث کرتے ہوئے کہا اور کہا کہ خصوصًا ہمارے دور میں (سجدہ سہو نہ کرنا
ابی السعود عن العزمیۃ انہ لیس المراد عدم جوازہ بل الاولی ترکہ لئلا یقع الناس فی فتنۃ اھ قولہ وبہ جزم فی الدر لکنہ قیدہ محشیہا الوافی بما اذا حضر جمع کثیروالا فلاداعی الی الترك ط [3]۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم
چاہے) حاشیہ ابوالسعود کے جمعہ میں عزمیہ سے ہے کہ اس سے مراد یہ نہیں کہ سجدہ سہو جائز نہیں بلکہ اس کا ترك اولٰی ہے تاکہ لوگ فتنہ میں نہ پڑیں ، اھ قولہ ، اس پر در میں جزم ہے لیکن اس کے محشی الوانی ہے اس قید کا اضافہ کیا ہے کہ یہ اس صورت میں ہے جب وہاں کثیر لوگ جمع ہوں ورنہ نہیں کیونکہ اس وقت ترك سجدہ کا داعی نہیں ہوگا ، ط ۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم (ت)
مسئلہ ١٣٠١ : از ریاست رامپو ر محلہ ملا ظریف گھیر منشی عبدالرحمن خاں مرحوم مرسلہ مولوی عبدالرؤف صاحب ١٢ذیقعدہ ١٣١٥ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مسجد میں آج جمعہ کے دن امام صاحب جمعہ مع خطبہ پڑھا کہ فارغ ہوئے ، اب اُس وقت پندرہ سولہ آدمی اسی مسجد میں بعد نمازِ جمعہ آگئے اب یہ آیندگان اسی مسجد میں پھر جمعہ پڑھیں یا ظہر ، برتقدیر ثانی جماعت سے پڑھیں یا منفرد؟ عبدالحی صاحب مرحوم نے اپنے مجموعہ فتاوی میں لکھا ہے کہ وہ لوگ جمعہ پڑھیں گے دوسری مسجد میں افضل لکھا ہے اگر اسی مسجد میں پڑھیں کچھ حرج نہیں کرکے تحریر کیا ہے ، مگر عالمگیری کی عبارت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ دُوسرا جمعہ جائز نہیں بلکہ وہ لوگ فرادی فرادی نماز پڑھیں اس کی تحقیق کیا ہے؟ بینوا توجروا
الجواب :
عالمگیری میں یہ مسئلہ خانیہ سے ماثور ہے اور اسی کی مثل فتاوی ظہیریہ وبحرالرائق و درمختار وغیرہا میں مذکور ،
قال فی البحر قال فی الظھیریۃ جماعۃ فاتتھم الجمعۃ فی المصر فانھم یصلون الظھر بغیر اذان و لااقامۃ ولاجماعۃ [4]۔
بحر میں ہے کہ ظہیریہ میں فرمایا کہ اگر کسی شہر میں سے جماعت فوت ہوگئی تو بغیر اذان ، تکبیر اور جماعت کے ظہر ادا کریں ۔ (ت)
تصویر مسئلہ فوت جمعہ سے ہے اور وہ قول تو حّد پر تو ظاہر ،
وعلیہ یبتنی تعلیل الھدایۃ لمسألۃ
اور ہدایہ میں مسئلہ معذورین کی ان الفاظ میں علّت
المعذورین بقولہ لما فیہ من الاخلال بالجملۃ اذھی جامعۃ الجماعات [5] اھ قال فی الفتح وتبع فی البحر ھذا الوجہ مبنی علی عدم جواز تعدد الجمعۃ فی المصر الواحد [6] الخ زاد فی البحر وھو خلاف المنصوص علیہ روایۃ ودرایۃ [7] اھ اقول : عﷲ فی لھدایۃ بتعلیلین الاول ماذکر والثانی ماعولتم علیہ حیث قال بعدہ والمعذور قد یقتدی بہ غیرہ [8] اھ ولا غر وتعلیل المسأالۃ علی کل من القولین علی ان قول
[1] شرح الزرقانی علی المؤطا باب ماجاء فی الامام ینزل بقریۃ الخ مطبوعہ المکتبۃ التجاریۃ الکبرٰی مصر ١ / ٢٢٠
[2] درمختار باب سجود السہو مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٠٣
[3] ردالمحتار باب سجود السہو مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۵۵۶
[4] بحرالرائق شرح کنز الدقائق مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٢ / ١٥٤
[5] الہدایۃ باب صلٰوۃالجمعۃ ۱ / ۱۵۰
[6] فتح القدیر شرح الہدایۃ باب صلٰوۃ الجمعۃ ٢ / ٣٥
[7] بحرالرائق شرح کنز الداقائق باب صلٰوۃ الجمعۃ ١ / ١٥٤
[8] الہدایۃ باب صلٰوۃ الجمعۃ ۱ / ۱۵۰
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع