دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 8 | فتاوی رضویہ جلد ۸

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۸

ابو داؤد میں سند صحیح کے ساتھ حدیث ہے ، حاکم نے تخریج کرکے کہا کہ بخاری و مسلم کے شرائط پر ہے ______ کہ حضرت ابن عمر   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  کے بارے میں ہے کہ جب مکہ میں تھے جمعہ ادا فرمایا تو آگے بڑھے دو رکعات ادا کیں پھر آگے بڑھے تو چار رکعت ادا کیں ( اور اسی میں ہے) فرمایا رسالت مآب   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   اسی طرح کیا کرتے تھے۔ یہ مختصر ہے اور اس پر تمام گفتگو فتح میں ہے ، امام طحطاوی شرح معانی الآثار میں ابو عبدالرحمان السلمی کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداﷲ ( ابن مسعود   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  ) ہمارے ہاں تشریف لائے توآپ نے جمعہ کے بعد چار رکعات ادا کیں ، اس کے بعد حضرت علی   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  تشریف لائے اور آپ کا طریقہ تھا کہ جمعہ بعد پہلے دو رکعات پھر چار رکعات اداکرتے ، ہمیں حضرت علی   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کافعل نہایت ہی پسند آیا

تعالٰی السنۃ بعد صلٰوۃ الجمعۃ ست رکعات اھ وبہ اخذ الطحطاوی واکثر المشائخ نھر عن عیون المذاھب التجنیس [1] اھ فی الجواھر الاخلاطی ھو ما خوذ عن القاضی واخذ بہ اکثر المشائخ وھوا المختار [2] اھ فی مجمع الانھر بہ اخذ الطحطاوی واکثر المشائخ منا وبہ یعمل الیوم [3] اھ فی البحر الرائق فی الذخیرۃ والتجنیس وکثیرمن مشائخنا علی قول ابی یوسف وفی منیۃ المصلی والا فضل عندنا ان یصلی اربعا ثم رکعتین [4]  اھ فی الغنیۃ الافضل ان یصلی اربعا ثم رکعتین للخروج عن الخلاف [5] اھ                           

تو ہم نے اسی کو اختیار کرلیا ، فتح ابوسعود ازہری میں مسکین کے قول کے تحت ہے امام ابویوسف   رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  نے فرمایا : جمعہ کے بعد چھ رکعات ہیں اھ ، اسے طحاوی اور اکثر مشائخ نے مختار کہا ہے۔ نہر نے عیون المذاہب اور تجنیس کے حوالے سے بیان کیا ہے۔ جواہر اخلاطی میں ہے کہ یہ قاضی سے ماخوذ ہے اھ اکثر مشائخ نے اسی پر عمل کیا اور یہی مختار ہے اھ مجمع الانہر میں ہے کہ طحاوی اور اکثر مشائخ نے اسی پر عمل کیا اور آج اسی پر عمل کیا جاتا ہے اھ بحر الرائق میں ہے کہ ذخیرہ اور تجنیس میں ہے کہ مشائخ کی اکثریت امام ابویوسف کے قول پر ہے منیۃ المصلی میں ہے کہ ہمارے نزدیك کے قول پر ہے ۔ منیۃ المصلی میں ہے کہ ہمارے نزدیك افضل یہی ہے کہ پہلے چار اور پھر دو رکعات ادا کی جائیں اھ غنیہ میں ہے کہ اختلاف سے بچنے کے لئے افضل یہی ہے کہ پہلے چار اور پھر دو رکعات ادا کی جائیں اھ (ت)

اور عام لوگوں کو احتیاطی ظہر کی کچھ ضرورت نہیں کما فصلنا فی فتاوٰنا ( جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوٰی میں اسےتفصیلًا بیان کیا ہے ۔ ت) واﷲ تعالٰی اعلم

مسئلہ ١٢٨٢ :      از بٹھورہ کلاں پر گنہ ضلع پیلی بھیت مرسلہ شیخ سالار بخش                    ٢١جمادی الاولٰی ١٣٠٩ھ

کیا فرما تے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بعد نمازجمعہ چار رکعت فرض ظہر مثل نفل یعنی چاروں رکعتوں میں سُورت ملا کر پڑھنا چاہئے یا نہیں ؟ بینوا توجروا

الجواب :

وہ شہر وقصبات جن میں شرائط جمعہ کے اجتماع میں اشباہ واقع ہو یا جمعہ متعدد جگہ ہوتا ہو اور آج کل ہندوستان کے عام بلاد ایسے ہی ہیں ایسی جگہ ہمارے علمائے کرام نے حکم دیا ہے کہ بعد جمعہ چار رکعت فرض احتیاطی اس نیت سے ادا کرے کہ پچھلی وہ ظہر جس کا وقت میں نے پایا اور اب تك ادا نہ کی یہ چار رکعتیں چاروں سنت بعد یہ جمعہ کے بعد پڑھے اور جس پر ظہر کی قضائے عمری نہ ہو وہ چاروں میں سورت بھی ملائے پھر جمعہ کی دو سنتیں ان رکعتوں کے بعد بہ نیت سنت وقت ادا کرے جمعہ پڑھتے وقت نیت صحیح وثابت رکھے جمعہ کو صحیح سمجھ کر خاص فرض جمعہ کی نیت کرے اگر بہ نیت فرض ادا نہ کیا تو جمعہ یقینا نہ ہوگا اور اب یہ چار رکعتیں نری احتیاطی نہ رہیں گی بلکہ ظہر پڑھنی فرض ہوجائے گی ، اور جب یوں نیتِ صحیحہ سے ادا کرچکا تو ان چار رکعتوں میں یہ نیت نہ کرے کہ آج کی ظہر پڑھتا ہوں بلکہ وہی گول نیت رکھے کہ جو پچھلی ظہر میں نے پائی اور ادا نہ کی اسے اداکرتا ہوں خواہ وہ کسی دن کی ہو اس سے زیادہ خیالات پریشان نہ کرے ، یوں پڑھنے میں یہ نفع پائے گا کہ اگر شاید علم الہٰی میں بوجہ فوت بعض شرائط جمعہ صحیح نہ ہوا ہوگا تو یہ رکعتیں آج ہی کی ظہر ہوجائیں گی کہ اس صورت میں یہی ظہر وہ پچھلی ہے جس کا وقت اُسے ملا اور ابھی ذمّہ سے ساقط نہ ہوئی اور اگر جمعہ صحیح واقع ہوا تو آج سے پہلے کی جو ظہر اس کے ذمہ رہی ہوگی (خواہ یوں کہ سرے سے پڑھی ہی نہ تھی یا کسی وجہ سے فاسد ہوگئی ) وہ ادا ہوجائے گی اور اگر کوئی ظہر نہ رہی ہوگی تو یہ رکعتیں نفل ہوجائیں گی ، اسی لحاظ سے جس پر قضائے عمری ظہر کی نہ ہو یہ چاروں رکعتیں بھری پڑھیں کہ اگر نفل ہوئیں اور سُورت نہ ملائی تو واجب چھوٹ کر نماز مکروہ تحریمی ہوگی ، ہاں جس پر قضائے عمری ہے اسے پچھلی دو میں سورت ملانے کی حاجت نہیں کہ اس کے ہرطرح فرض ہی ادا ہوں گے ، جمعہ نہ ہوا تو آج کے اور ہواتو آج سے پہلے کے یہ سب تفصیل واقع کے اعتبار سے ہے نمازی کو نیت میں اس شك وتردد کا حکم نہیں کہ نیت وتردد باہم منافی ہیں اگر یونہی مذبذب نیت کی تو وہ مقصود واحتیاط ہر گز حاصل نہ ہوگا لہذا اسی طرح گول نیت سے بے خیال تردد بجالائے اور واقع کا معاملہ علمِ الہٰی پر چھوڑدے ، پھر ایسی تصحیح نیت نرے جاہلوں کو ذرا دشوار ہے اور ان سے یہ بھی اندیشہ کہ اس کے سبب کہیں یہ نہ جاننے لگیں کہ جمعہ سرے سے خدا کے فرضوں میں ہی نہیں سمجھنے لگیں کہ جمعہ کے دن دوہرے فرض ہیں دو رکعتیں الگ چار الگ اسی لئے علماء نے فرمایا کہ ایسے لوگوں کو ان رکعتوں کا حکم نہ دیا جائے ان کے حق میں یہی بہت ہے کہ بعض روایات پر اُن کی نماز ٹھیك ہوجائے انھیں ایسی احتیاط کی حاجت نہیں ، ہاں خواص یعنی جو لوگ اس طرح کی نیت کرسکتے ہوں اور اُن سے وہ اندیشے نہ ہوں وہ یہ احتیاط بجالائیں تا کہ یقینا فرض خدا ادا ہوجائے اور شبہ و احتمال کی گنجائش نہ رہے ، فقیر اپنے فتاوٰی میں یہ مسئلہ مفصل ومدلل لکھ چکا ہے یہاں صرف دوتین عبارات پر اقتصار ہوتا ہے ، فتاوٰی علمگیری میں ہے :

فی کل موضع وقع الشك فی جواز الجمعۃ لوقوع الشك فی المصرا وغیرہ واقام اھلہ

ہر وہ مقام جہاں پر جمعہ ہونے یا نہ ہونے میں شك کی وجہ سے جوازِ جمعہ میں شك ہوجائے وہاں جمعہ کے بعد

الجمعۃ ینبغی ان یصلوا بعد الجمعۃ اربع رکعات وینووا بھا الظھر حتی لو لم تقع الجمعۃ موقعھا یخرج عن عھدۃ فرض الوقت بیقین کذافی الکافی وھکذافی المحیط ثم اختلفوا فی نیتھا قیل ینوی اٰخرظھر علیہ وھو الاحسن والاحوط ان یقول نویت اٰخرظھر ادرکت وقتہ ولم اصلہ بعد کذا فی القنیۃ وفی فتاوی آھ و ینبغی ان یقرء الفاتحہ والسورۃ فی الاربع التی تصلی بعد الجمعۃ فی دیارنا کذا فی التاتار خانیۃ[6]۔                                             

 



[1]    فتح المعین باب الوتر والنوافل مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱ /  ۲۵۳

[2]    جواہر الاخلاطی فصل فی الجماعت غیر مطبوعہ قلمی نسخہ ص۴۲

[3]    مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر باب الوتر والنوافل مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ١ /  ١٣٠

[4]    بحرالرائق باب الوتر والنوافل مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /  ۴۹

[5]    غنیہ المستمل فصل فی النوافل مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۳۸۹

[6]    فتاوٰی ہندیۃ الباب السادس عشر فی صلٰوۃ الجمعہ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ١ /  ۱۴۵

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن