30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کما فی الطحطاوی عن الحلبی لا بدمن حملہ علی مااذامنع الناس من الصلٰوۃ [1]۔
جیساکہ طحطاوی میں حلبی سے ہے کہ اسے اس صورت پر محمول کرنا ضروری ہے جب وہ لوگوں کو نماز سے منع کرے۔ (ت)
شرح عیون المذاہب پھر مجمع الانہر پھردر مختار پھر فتح العین علامہ ابو السعود ازہری میں ہے :
واللفظ لہ الجمعۃ بالقلعۃ صحیحۃ وان غلق بابھا لان الاذن العام مقرر لاھلھا وغلقہ لمنع عدو اوعادۃ قدیمۃ لا للمصلی[2]
اس کے الفاظ یہ ہیں کہ قلعہ کے اندر جمعہ درست ہے اگر چہ اس کا دروازہ بند ہو کیونکہ اذن عام اہل قلعہ کےلئے ثابت ہے اور اس کا بند ہونا دشمنوں کے عدمِ وخول کے لئے ہے یا عادت قدیمہ ہے نمازی کو روکنے کے لئے نہیں ۔ (ت)
اور یہ روکنا درحقیقت نماز سے رکنا نہیں بلکہ فتنہ سے بندش ہے ،
کما فی الشامی عن الطحطاوی لا یضر منع نحو النساء لخوف الفتنہ [3]انتھی۔
اقول : وتعلیلہ بعدم التکلیف معلول بما فی الشامی عن العلامۃ اسمٰعیل مفتی دمشق الشام تلمیذ المحقق العلائی صاحب الدرالمختار عن العلامۃ عبدا العلی البرجندی شارح النقایۃ ان الاذن العام ان لایمنع احدا ممن تصح منہ الجمعۃ [4] کما لا یخفٰی فافھم۔
جیسا کہ شامی میں طحطاوی سے ہے کہ عوتوں وغیرہ کو روکنا مضر نہیں کیونکہ ان کے آنے میں فتنہ کا ڈر ہے ۔ انتہٰی
اقول : یہ علّت بیان کرنا کہ وہ مکلف نہیں ، اس کا تعلق اس بیان سے ہے جو شامی میں مفتی شام جو اسمٰعیل دمشقی جو محقق علائی صاحبِ درمختار کے شاگرد ہیں سے شارح نقایہ علامہ عبدالعلی برجندی کے حوالے سے کہا کہ اذن عام یہ ہے کہ ہر اس شخص کو نہ روکا جائے جن سے جمعہ کی ادائیگی صحیح ہو جیسا کہ یہ مخفی نہیں ہے۔ (ت)
علماء خود فرماتے ہیں کہ موذیوں کو مساجد سے روکا جائے ۔
کما فی عمدۃ القاری للامام البدر محمود العینی وفی الرسائل الزینیۃ للعلامۃ زین بن نجیم المصری وفی الدرالمختار یمنع منہ ( ای من المسجد) کل موذولو بلسانہ[5]۔
جیسا کہ امام بدر محمود عینی کی عمدۃ القاری ، علامہ زین بن نجیم المصری کے رسائل زینیہ اور درمختار میں ہے کہ (مسجد سے) ہر اذیت دینے والے کو منع کیا جائے اگر چہ وہ زبان سے اذیت دینے والا ہو۔ (ت)
تو یہ روکنا کہ مطابق شرع ہے منافی اذن نہیں ، اور اگر ایسا نہیں بلکہ یہ لوگ محض ظلمًا بلاوجہ یا براہ تعصب روکتے ہیں تو بلاشبہ ان کا جمعہ باطل کہ ایك شخص کی ممانعت بھی اذن عام کی مبطل ،
فقد مرعن الشامی عن اسمٰعیل عن البرجندی ان لا یمنع احدا۔
پہلے شامی نے شیخ اسمٰعیل سے برجندی کے حوالے سے لکھا کہ کسی کو منع نہ کیا جائے ۔ (ت)
جامع الرموز میں ہے :
الاذن العام بالصلٰوۃ بان یفتح باب الجامع اودارلسطان بلا مانع لاحد من
نماز کے لئے اذن عام یہ ہے کہ داخلہ کے لئے بلا رکاوٹ جامع مسجد یا دارِ سلطان کا دروازہ
الدخول فیہ [6] اھ ھذا کلہ مما اخذتہ تفقھا من کلما تھم وارجو ان یکون صوابا ان شاء اﷲ تعالٰی ۔
کھول دیا جائے اھ اور یہ تمام فقہاء کی عبارات سے میں نے سمجھا ہے اور ان شاء اﷲامید ہے کہ یہ صواب ہے۔ (ت)
دس سنتیں ہیں ، چار پہلے چار بعد ہی منصوص علیھن فی المتون قاطبۃ وقد صح بھن الحدیث فی صحیح مسلم ( ان کے چار ہونے پر متون میں قطعًا تصریح ہے اور صحیح مسلم میں ان کے بارے میں صحیح حدیث بھی وارد ہے ۔ ت)اور دو بعد کو اور ، کہ بعد جمعہ چھ سنتیں ہونا ہی حدیثا وفقھا اثبت واحوط (مختارومحتاط حدیث وفقہ کے اعتبار سے ۔ ت) مختار ہے اگر چہ چار کہ ہمارے ائمہ میں متفق علیہ ہیں ان دو سے مؤکد تر ہیں ۔
لحدیث ابوداؤ دبسند صحیح والحاکم وصححہ علی شرط الشیخین عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنھما انہ کان اذاکان بمکۃ فصلی الجمعۃ تقدم فصلی رکعتین ثم تقدم فصلی اربعا( وفیہ) فقال کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یفعل ذلک[7] ھذا مختصر وتمام الکلام علیہ فی الفتح ، والامام الطحطاوی فی شرح معانی الاثار عن ابی عبدالرحمٰن السلمی قال قدم علینا عبد اﷲ (یعنی ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ) فکان یصلی بعد الجمعۃ اربعا فقدم بعدہ علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ فکان اذا صلی الجمعۃ صلی بعدھا رکعتین واربعا فاعجبنا فعل علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ فاخترناہ[8]۔ فی فتح ابوالسعود الازھر تحت قول مسکین قال ابویوسف رحمہ اﷲ
[1] طحطاوی علی الدرالمختار باب الجمعۃ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ١ / ٣٤٤
[2] فتح المعین باب صلٰوۃ الجمعۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ١ / ٣١٦
[3] ردالمحتار باب الجمعۃ مطبوعہ دارالکتب العربیہ مصطفی البابی مصر ١ / ٦٠١
[4] ردالمحتار باب الجمعۃ مطبوعہ دارالکتب العربیہ مصطفی البابی مصر ١ / ٦٠٠
[5] درمختار باب مایفسد الصلٰوۃ الخ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۹۴
[6] جامع الرموز فصل صلٰوۃ الجمعۃ مطبوعہ مکتبہ السلامیہ گنبد قاموس ایران ۱ / ۲۶۵
[7] سنن ابوداؤد باب الصلٰوۃ بعد الجمعۃ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی ١ / ١٦٠
[8] شرح معانی الآثار باب التطوع بعد الجمعۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ١ / ٢٣٣
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع