دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 7 | فتاوی رضویہ جلد ۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۷

مستقل دلیل بنایاجائے تو یہ کافی وشافی ہے جیسا کہ واضح اور یہ ظاہر بات ہے کہ یہ شبہ ، تشبّہ اور اشتباہ وغیرہ تمام صورتیں محراب صوری میں ہیں ، نہ کہ حقیقی میں ، محراب صوری کی محاذات میں اس طرح کھڑاہونا کہ سجدہ محراب میں ہوفی نفسہٖ مکروہ نہیں کیونکہ وجوہ مذکورہ یعنی شبہ ، تشبّہ اور اشتباہ یہاں نہیں ہیں اور نہ اس میں کوئی فضیلت ہے کیونکہ ہم نے پہلے یہ بیان کردیاہے کہ اصل سنت میں نہ محراب صوری ہے اور نہ اس کی محاذات پس وہ اپنی ذات کے حوالے سے سوائے مباح کے کچھ نہیں ، یہی وجہ ہے کہ اسے سنت نہیں کہاگیا ، چونکہ مکروہ بھی نہیں تو علماء دفع توہم کے لئے لفظ “ لاباس “ لے آئے ہیں ، اگر اس کی محاذات کاقیام محراب حقیقی کے موافق ہوجاتاہے جیسا کہ اکثرہوتا ہے تو اب یہ سنت ہوگا مگر اس کی وجہ محراب ِ صوری کے محاذی ہونانہیں بلکہ محراب حقیقی کے موافق ہونا ہے ، بحمداﷲ اس شفاف تحقیق سے واضح ہوگیاکہ اگرامام مسجد صیفی میں محراب حقیقی میں کھڑاہوتاہے تووہ یقینا سنت کوپانے والاہے اور اس پر ہرگزکوئی کراہت نہ ہوگی اگرچہ وہ محراب صوری کے محاذی نہ ہو ، کیونکہ جب مسجد صیفی عرض میں شتوی سے زیادہ ہوتو اس وقت محراب کی محاذات میں جانب زیادت کی طرف ہو کرصیفی کے درمیان میں  بمحراب حقیقی قیام کردہ باشد وبدستور درشتوی نیزاگرطاق درحاق وسط نبود امام راطاق گزاشتہ بوسط شتوی عدول باید کہ محراب حقیقی بدست آید دروالایت افغانستان ازعلمائے زمان کہ قیام امام رادرمسجد صیفی مکروہ گویند دلیل برآں ازہماں مسئلہ سنیت قیام فی المحراب چون درسوالیکہ نزدفقیرازان ولایت آمدہ بودوانمود ناشی ازاشتباہ معنی محراب است عزیزان او را محراب صوری گماشتند وازحقیقی غفلت کردہ اندودانستہ شد کہ قیام درصوری سنت نیست بلکہ بمعنی حقیقتش خودمکروہ ہے ست وانکہ سنت است بہ مسجد صیفی نیزنقدوقت ست پس کراہت ازکجا امام ابن الہمام درفتح ایں معنی رارنگ ایضاح داد کہ فرمود لولم تبن (ای المحاریب) کانت السنۃ ان یتقدم فی محاذاۃ ذلك المکان لانہ یحاذی وسط الصف وھوالمطلوب اذقیامہ فی غیرمحاذاتہ مکروہ[1]١ھ  واگرچناں باشد کہ صیفی مطلقًا ازصلاحیت اقامت جماعت بدرودزیراکہ آنجا محراب صوری نتواں یافت ومجرد محاذات اگرچہ ازدوربسندہ نیست کما

کھڑا ہوناچاہئے تاکہ محراب حقیقی میں قیام ہوجائے اسی طرح شتوی میں بھی اگرطاق وسط میں نہیں توامام طاق چھوڑ کر شتوی کے وسط میں ہوجائے تاکہ محراب حقیقی کوپایاجاسکے ، افغانستان کے علاقے میں اس وقت کے علماء مسجد صیفی میں امام کے قیام کو مکروہ قراردیتے ہوئے یہی دلیل دیتے ہیں کہ محراب میں کھڑا ہوناسنت ہے کیونکہ اس ملك سے فقیر کے پاس جوسوال آیاہے اس سے واضح ہوتاہے کہ انہیں معنی محراب میں اشتباہ ہے اور انہوں نے محراب صوری مقررکئے ہیں مگرمحراب ِ حقیقی سے غافل ہوگئے ہیں اور معلوم ہوا کہ صوری میں قیام سنت نہیں بلکہ اسے حقیقی سمجھنا بذاتِ خود مکروہ ہے اور جوسنت ہے وہ صیفی مسجد میں بھی درست ہے ، پس یہاں کراہت کہاں ! امام ابن الہمام نے فتح القدیر میں اسے واضح کرتے ہوئے کہا کہ اگروہ بنے ہوئے نہیں (یعنی محاریب) توسنت یہ ہے کہ اس جگہ کے محاذی کھڑاہواجائے کیونکہ وہ وسط صف کے محاذی ہے اور یہی مطلوب ہے کیونکہ محاذات کے علاوہ امام کاقیام مکروہ ہے۱ھ

اوراگر ایسے ہو کہ صیفی اقامت جماعت کی صلاحیت نہ رکھتی کیونکہ وہاں محراب صوری نہیں اور صرف محاذات اگرچہ دور سے ہو محراب کی نشانی نہیں ہے جیسا کہ تونے  علمت وقداعترفوا بہ والالم یحکموا بکراھۃ قیام الامام فی الصیفی مطلقا وایں برخلاف عمل و نیت جملہ امت ست مسجد رابردودرجہ سرما وگرما ازہمیں روبخش میکنند کہ بہرموسم اقامت جماعت بہ مسجد نتوانند اگرایں پارہ از قیام امام معطل ماند لاجرم جماعت رانیز لازم باشد ہم درپارہ شتوی صفہا بستن کہ انفراد امام بدرجہ خود مکروہ ست پس ازصیفی بہرہ نیابند مگربعض قوم دربعض احیان آنگاہ کہ شتوی ہمہ آوردہ شودوایں یقینا مخالف نیت وقصد جملہ بانیان وعمل وتوارث ِ عامہ مومنان ست بازدرہندیہ وبزازیہ وخلاصہ وظہیریہ وخزانۃ المفتین وغیرہا کتب معتمدہ ست قوم جلوس فی المسجد الداخل وقوم فی المسجد الخارج اقام المؤذن فقام امام من اھل الداخل فامھم قال من سبق بالشروع فھو والمقتدون بہ لاکراھۃ فی حقھم[2]  چرابلائے نفی جنس مطلقًا سلب مستغرق نمایندچرا نگویند کہ امام مسجد صیفی ومقتدیانش بہرحال درگردکراہت اندزیراکہ قیام سمجھا اور جیسا کہ انہوں نے اس کا اعتراف کیاہے ورنہ وہ صیفی میں مطلقًا قیام امام کو مکروہ قرارنہ دیتے حالانکہ یہ بات تمام امت کے عمل کے خلاف ہے کیونکہ مسجد کے دودرجے موسم گرما وسرما کے لحاظ سے کئے جاتے ہیں کہ ہرموسم میں ایك جگہ جماعت نہیں کرائی جاسکتی تو اگریہ حصہ قیام امام سے معطل ہو تولازم ہوگا کہ جماعت بھی شتوی حصے میں صفیں بنائے کیونکہ امام کاتنہا ہونابذات خود مکروہ ہے تواس طرح صیفی حصہ سے فائدہ صرف بعض اوقات بعض لوگ اس وقت ہی اٹھاسکیں گے جب شتوی حصہ پُرہوجائے گا ، اور یہ بات تمام بانیان مساجد کی نیت اور عمل اور توارث امت کے خلاف ہے ہندیہ ، بزازیہ ، خلاصہ ، ظہیریہ ، خزانۃ المفتین وغیرہ کتب معتمدہ میں ہے کہ کچھ لوگ مسجد کے اندر اور کچھ مسجد کے صحن میں تھے مؤذن نے اذان کہی اوراہل خارج میں سے امام نے جماعت کرائی اسی طرح اندروالوں میں سے امام نے جماعت کرائی تو جس نے پہل کردی وہ امام ہوگا اور تمام لوگ اس کے مقتدی ہوں گے ان کے حق میں کوئی کراہت نہ ہوگی کیونکہ یہاں لانفی جنس انہوں نے استعمال کیاہے جومطلق سلب کااحاطہ کرتاہے انہوں نے یہ کیوں نہ کہا کہ مسجد صیفی کاامام ، اس کے مقتدی بہرحال کراہت میں مبتلا ہوں گے کیونکہ انہوں نے فی المحراب راترك گفتند بالجملہ ایں خطائے فاحش ست کہ ولایتیان دریں جزوزمان احداث کردہ اند ازیں باخبربا یدبود۔ سخن راندن مانداز استظہار علامہ شامی عاملہ اﷲ باللطفف النامی اقول : انچہ بالاگفتہ ایم غایت توجیہ کلام آں فاضل علام بودوہنوز گل نظرے دمیدن دارد ماثور ومورث چنانکہ دانی ہما ں قیام امام درمحرا ب حقیقی ست وآں مقام اشرف موضع وصدر مسجد ست چنانکہ شنیدی پس ترك اوبے عذرشرعی عدول ازافضل وخلاف متوارث العمل ، وفرع مبسوط دلالت برآں ندردکہ اینجا فی نفسہٖ اصلًا منظور نیست بلکہ غایتش آنست کہ توسط صف سنت عظیمہ مہم ترازآن ست چوں ہردودست وگریبان شود اختیار بہ سنت توسط رودپس انچہ بدل می چسپد کلمات ائمہ رابر اطلاق آنہا داشتن اگرچہ درکمال خمول باشد غیرامام جماعت ثانیہ فی مسجد المحلہ را محراب حقیقی گذاشتن ست ھذا اخرالکلام فی ھذا المقام وقداتضح بہ کل مرام وانکشف بہ جمیع الاوھام والتأمت کلمات الائمۃ الکرام وماتوفیقی الاباﷲ الملك العلام والسلام مع الکرام علی مولٰنا عبد السلام واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم        

محراب میں قیام کوترك کیاہے ، حاصل کلام یہ کہ یہ بہت بڑی غلطی ہے جو اس دور میں ان علاقوں میں پیدہوئی ہے اس سے باخبرہونا چاہئے۔ رہامعاملہ علامہ شامی کے مختار قراردینے کاتو میں کہتاہوں کہ جوکچھ ہم نے بیان کیا اس فاضل علام کے کلام کی غایت توجیہ ہے اور جوکچھ منقول و متوارث ہے وہ امام کامحراب حقیقی میں قیام ہے اور وہ مقام سب سے اعلٰی اور صدرمسجد ہوتاہے جیسا کہ آپ پڑھ چکے لہٰذا اس کاترك بغیرکسی عذر کے افضل سے اعراض اور متوارث عمل کے خلاف ہے اور مبسوط کاجزئیہ اس پردلالت نہیں کرتا کہ یہ مقام فی نفسہٖ مقصودنہیں بلکہ زیادہ سے زیادہ یہ کہ صف کے درمیان کھڑاہونا سنت عظیمہ ہے کیونکہ جب دونوں میں تعارض ہو تووسط میں کھڑا ہونا سنت اور مختارہوگا ، دل لگتی بات یہ ہے کہ ائمہ کے کلام کو اپنے اطلاق پررکھیں اگرچہ یہ کمزور سی بات ہے تاہم اس سے محلہ کی مسجد میں پہلے امام کاحقیقی محراب کوچھوڑنا مراد ہے ، یہ اس مقام میں آخری کلام ہے اور اس سے پورا مقصد واضح ہوگیا اور تمام ائمہ کا کلام موافق ہوگیا وماتوفیقی الاباﷲ الملك العلام والسلام مع الاکرام علٰی مولٰنا عبدالسلام واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔

مسئلہ ۱۰۰۲ :         ازبنگالہ ضلع چاٹگام تھانہ راؤجان موضع پھمرا مرسلہ مولوی اسمٰعیل صاحب        ۱۴شوال ۱۳۲۱ھ

چہ می فرمایند علمائے دین وفضلائے شرع متین                کیافرماتے ہیں علمائے دین اور فضلائے شرع متین اندریں صورت کہ شخصے مصلی ردائے خودرابدیں نوع پوشد کہ اولا وسط ردارابرپشت نہادہ و ہردوسرش راتحت بطین بیروں آوردہ بازجانب چپ رابرمنکب راست وطرف راست رابرمنکب چپ افگند حتی کہ ہردوسرش نیزبطرف پشت و سریں رسندایں صورت درحالت صلوٰۃ شرعًا جائزست یانہ؟   

اس مسئلہ میں کہ نمازی ایك چادر اس طرح پہنتاہے کہ پہلے اس کانصف حصہ اپنی پشت پرڈالتاہے اور اس کے دونوں کونوں کوبغلوں کے نیچے سے باہرلاکر اس کی جانب کودائیں کاندھے اور اس کے دائیں حصے کوبائیں کاندھے پرڈالتاہے حتی کہ اس کے دونوں کونے بھی پشت وسرین تك پہنچ رہے ہوتے ہیں اس حالت میں نمازجائز ہے یانہیں ؟

الجواب :

جائزست فی الصحیحین عن عمربن ابی سلمۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھما قال رأیت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یصلی فی ثوب واحد مشتملا بہ فیبیت ام سلمۃ واضعاطرفیہ علی عاتقیہ[3]۔

 



[1]   فتح القدیر فصل یکرہ المصلی مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۶۰

[2]   خلاصۃ الفتاوٰی الفصل الخامس فی الامامۃ والاقتداء مطبوعہ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱ / ۱۴۵

[3]   صحیح مسلم ،  باب الصلوٰۃ فی ثوب واحد ،  مطبوعہ نورمحمداصح المطابع کراچی ۱ / ۱۹۸

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن