دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 7 | فتاوی رضویہ جلد ۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۷

تاآنکہ بقعہ سادہ موقوفہ للصلوٰۃ نیزازمحراب حقیقی تہی نتواں بودوہمون ست مقام امام متوارث اززمان امام الانام علیہ وعلٰی آلہٖ افضل الصلوٰۃ والسلام پس جائیکہ قیام امام فی المحراب راسنت گفتہ اند مراد ہمین ست ونہ قیام درمحراب صوری یابازآئے آن کہ اوخوددرزمان سنت بودوجائیکہ               

حضورسرورعالم   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  منبر کے پہلو میں قیام فرماتے کیونکہ اس وقت مسجد میں محراب نہ تھا۔ علامہ شیخ محقق عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہ العزیز جذب القلوب میں فرماتے ہیں یہ محراب جوآج متعارف ہے رسالت مآب   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  کی ظاہری حیات میں نہ تھا اس کی ابتداء ولیدبن عبدالملك اُموی کے دور میں عمربن عبدالعزیز نے کی ، جبکہ وہ مدینہ طیبہ کے گورنر تھے۔

اوراسی میں ہے کہ ولید مسجد کاطول چالیس۴۰ہاتھ اور عرض ایك ۱۶۷سوسڑسٹھ ہاتھ تھا اور عمارت بنانے میں تکلف وتصنع سے انہوں  نے کام لیا اور علامت محراب جوآج کل مساجد میں متعارف ہے اس دور میں نہ تھا۱ھ المختصر

اس پرنورتقریر سے یہ بات آشکارا ہوگئی کہ کوئی بھی مسجد خواہ شتوی ہو یا صیفی جب سے وہ وقف ہوئی ہے وہ محراب حقیقی سے خالی نہیں ہوتی اور یہی وہ مقام ہے جو امام الانام علیہ وعلٰی آلہٖ افضل الصلوٰۃ والسلام کی ظاہری حیات سے امام کی جگہ بنتارہالہٰذا جس جگہ بھی علماء نے امام کے محراب میں کھڑے ہونے کوسنت کہاہے وہاں یہی محراب حقیقی مرادہے نہ کہ محراب صوری میں قیام مراد ہے یا اس کے برابرجو اس وقت  مکروہ گفتند مراددرمحراب صوری استادن ست بوجہیکہ پائے اندرقضائے اوباشد بدلیل و آں اشتباہ حال امام ست برقولے وتشبّہ بہ یہود وشبہ اختلاف مکان برقول اصح ووجہ اطلاق محمد ۔

اقول :   وفی تعلیل الاشتباہ نظرواشتباہ فانہ لایحصل غالبا الااذازداد طول الصف وھو یحصل بدون القیام فی المحراب بل مع عدم المحراب والبناء اصلا وایضا ان اریداطلاع الکل بنظرنفسہ فان النظرلہ حدلایتجاوزہ فکما یعجز عند قیام الامام فی المحراب لبعد ما یعجز ایضا بدونہ علی بعد اخر وان اکتفی بالاطلاع ولوبواسطۃ من معہ فی الصلٰوۃ فلامعنی للاشتباہ بالقیام فی المحراب ولاشك ان الاخیرھوالمعتبر والالم یکن لکل من بعد الصف الاول بدمن الاشتباہ ولالمن فی طرفی الاول علی بعد                          

بھی سنت تھا ، اور جہاں علماء نے محراب میں امام کے قیام کو مکروہ قراردیاہے وہاں محراب صوری میں کھڑا ہونا ہے اس طریقہ پر کہ اس کے پاؤں محراب کے اندرہوں ، اس پردلیل ، ایك قول کے مطابق امام کے حال کامشتبہ ہونا اور ایك قول پریہود کے ساتھ تشابہ ، لیکن اصح قول کے مطابق مکان کامختلف ہوجاناہے اور ایك وجہ امام محمد کے قول کااطلاق ہے۔

اقول : مشتبہ ہونے کی علت میں نظرواشتباہ ہے کیونکہ یہ اکثر طور پرحاصل نہیں ہوتا مگر اس صورت میں جب صف زیادہ لمبی ہو اور یہ اشتباہ قیام فی المحراب کے بغیر بھی حاصل ہوجاتاہے بلکہ اس وقت بھی جب محراب اور عمارت نہ ہو اور یہ بھی معاملہ ہے کہ کیا تمام مقتدیوں کاامام کو اپنی اپنی آنکھوں سے دیکھنا ضروری ہے کیونکہ نظرکی ایك حد ہے جس سے متجاوزنہیں ہوتی ، تو جس طرح محراب کے اندرکھڑے ہونے پرامام کے بُعد کی وجہ سے وہ نظر نہیں آتا اس طرح اس کے بغیر بھی بعد کی وجہ سے ممکن ہے کہ وہ نظرنہ آئے اور اگرمحض اطلاع کافی ہے خواہ وہ بالواسطہ کسی مقتدی کے ذریعے ہو تومحراب میں کھڑے ہونے سے اشتباہ کاپیداہونا کوئی معنی نہیں رکھتا ، اور بلاشبہ آخری بات (وجہ) ہی معتبرہے ورنہ ہروہ شخص جوصف اول کے بعد والی صف میں ہو اسے اشتباہ کے بغیر کوئی چارہ نہیں ، اسی طرح

یمنع النظر الابالتفات عن القبلۃ درردالمحتار ست صرح محمد فی الجامع الصغیر بالکراھۃ ولم یفصل فاختلف المشائخ فی سببھا فقیل کونہ یصیر ممتازاعنھم فی المکان المحراب فی معنی بیت اٰخر وذلك صنیع اھل الکتب واقتصر علیہ فی الھدایۃ و اختارہ الامام السرخسی و قال انہ الاوجہ وقیل اشتباہ حالہ علی من فی یمینہ ویسارہ فعلی الاول یکرہ مطلقا وعلی الثانی لایکرہ عندعدم الاشتباہ وایدالثانی فی الفتح بان امتیاز الامام فی المکان مطلوب وتقدمہ واجب وغایۃ اتفاق الملتین فی ذلك وارتضاہ فی الحلیۃ وایدہ لکن نازعہ فی البحر بان مقتضی ظاھر الروایۃ الکراھۃ مطلقا بان امتیاز الامام المطلوب حاصل بتقدمہ بلاوقوف فی مکان اٰخر ولھذا قال فی الولوالجیۃ وغیرھا اذا لم یضق المسجد

اس کوبھی جو صف اول کے اطراف میں اتنا دور کھڑا ہو کہ نظر سے دیکھ نہ پائے۔ اشتباہ کودور کرنے کے لئے ان کو اپنے قبلہ سے انحراف ضروری ہوگا۔ ردالمحتار میں ہے کہ امام محمد نے جامع صغیرمیں اس محراب میں ہونے پرکراہت کاحکم لگایا ہے اور کوئی تفصیل نہیں دی اس لئے سبب کے بیان میں مشائخ کااختلاف ہوا ، ایك یہ ہے کہ امام ایسی صورت میں ممتاز ہوکریوں ہوجاتاہے جیسے وہ کسی دوسرے کمرے میں ہے اور یہ اہل کتاب کا طریقہ ہے۔ ہدایہ میں اسی پراکتفا کیاگیاہے۔ امام سرخسی نے اسے ہی پسندکیا اور کہا یہی مختار ہے۔ بعض نے کہا کہ امام اپنے دائیں بائیں مقتدیوں پرمشتبہ ہوجاتاہے ، پہلی صورت میں ہرحال میں کراہت ہے اور دوسری صورت میں جب اشتباہ نہ ہوکراہت نہ ہوگی۔ فتح میں یہ کہتے ہوئے دوسری کی تائید کی اور کہا کہ امام کاممتاز مقام پر کھڑاہونا تومطلوب ہے اور اس کامقدم ہونا واجب ہے اوراس میں دونوں فریق متفق ہیں اسے حلیہ میں پسندکیاگیا اور اس کی تائید کی لیکن بحر میں یہ کہتے ہوئے اس سے اختلاف کیا کہ ظاہرروایت کاتقاضا یہی ہے کہ ہرحال میں کراہت ہو اور یہ کہ امام کامطلوبہ امتیازآگے ہونے سے حاصل ہوجاتاہے یہ اس کے دوسرے مقام پرکھڑے ہونے پرموقوف نہیں ہے اسی لئے ولوالجیہ وغیرہ میں ہے کہ جب مقتدیوں پرمسجد

بمن خلف الامام لاینبغی لہ ذلك لانہ یشبہ تباین المکانین١ھ یعنی وحقیقۃ اختلاف المکان تمنع الجواز فشبھۃ الاختلاف توجب الکراھۃ والمحراب وان کان من المسجد فصورتہ ھیأتہ اقتضت شبھۃ الاختلاف١ھ ملخصا قلت ای لان المحراب انما نبی علامۃ لمحل قیام الامام لیکون قیامہ وسط الصف کماھوالسنۃ لالان یقوم فی داخلہ فھو وان کان من بقاع المسجد لکن اشبہ مکانا اٰخر فاورث الکراھۃ ولایخفی حسن ھذا الکلام فافھم لکن تقدم ان التشبہ انما یکرہ فی المذموم وفیما قصد بہ التشبہ لامطلقا ولعل ھذا من المذموم تامل [1]١ھ کلام الشامی

اقول :   ولامحل للترجی بعد ماافادنا قلاعن الولوالجیۃ وغیرھا انہ یشبہ تباین المکانین وحقیقۃ تفسد فشبھتہ تکرہ بل لوعد ھذا دلیلا براسہ لکفی وشفی کما                                                

تنگ نہ ہو توامام کے لئے ایساکرنا جائز نہیں کیونکہ دونوں مقامات کاجداہونالازم آتاہے۱ھ اور حقیقۃ جگہ کااختلاف جوازنمازسے مانع ہے اور جہاں اختلاف کاشبہ ہو وہاں کراہت ہوگی اور اگرمحراب اگرچہ مسجد میں ہی ہے لیکن اس صورت و ہیئت سے شبہ اختلاف پیداہوتاہے۱ھ تلخیصًا

قلت(میں (شامی) کہتاہوں ) محراب کا مقصد یہ ہے کہ وہ قیام امام کی علامت ہوتاکہ اس کاقیام صف کے درمیان ہو یہ مقصد نہیں کہ امام محراب کے اندرکھڑا ہو۔ محراب اگرچہ مسجد کاہی حصہ ہے لیکن ایك دوسرے مقام کے مشابہ ہے لہٰذا اس سے کراہت ہوگی۔ اس کلام کاحسن واضح ہے اسے اچھی طرح محفوظ کرو ، لیکن پیچھے گزرا کہ تشبہ بری بات میں مکروہ ہوتاہے اور اس صورت میں جب تشبہ مقصد ہوہرحال میں مکروہ نہیں اور ممکن ہے یہ مذموم میں سے ہو۔ (کلام شامی ختم ہوا)

اقول : (میں کہتاہوں ) یہ “ شاید “ کہنے کامحل نہیں کیونکہ اس نے ولوالجیہ وغیرہ سے نقل کردیا ہے کہ یہ عمل دوجگہوں کے متخالف ہونے کے مشابہ ہے اور اگرتباین حقیقۃً ہو تو اس سے نمازفاسد ہوجاتی ہے اور اگرتباین کاتشابہ ہوتونماز میں کراہت آئے گی بلکہ اگر اسے لایخفی پیداست کہ ایں شبہہ وتشبہ و اشتباہ ہمہ ہاہمیں درمحراب صوری ست نہ حقیقی اما قیام بمحاذات محراب صوری آنچناں کہ سجدہ درطاق افتد پس فی نفسہ نہ کراہتے دارد لعدم الوجوہ المذکورۃ من الشبھۃ و التشبہ والاشتباہ فیہ نہ فضیلتے لما قدمنا انہ لم یکن فی اصل السنۃ محراب صوری ولامحاذاتہ پس نظربذات خودش نباشد جزمباح ازینجاست کہ ایں راسنت نگفتہ اند و چوں مکروہ ہم نبود دفع توہم را لاباس آورند آرے اگرقیام بمحل محرابِ حقیقی موافق آید کما ھو الغالب لاجرم سنت باشد نہ ازاں روکہ محاذات محراب صوری ست بل ازاں جہت کہ موافات محراب حقیقی ست ازیں تحقیق انیق بحمداﷲ روشن شد کہ اگرامام درمسجد صیفی بمحراب حقیقی ایستد یقینا اصابت سنت یافتہ باشد وہیچ کراہتے برونبود گومحراب صوری را محاذی ہم مباش چنانکہ صیفی در عرض ازیدازشتوی باشد آنگاہ باید کہ از محاذاتِ طاق بجانب زیادت میل کند وبوسط صیفی بایستد       

 



[1]   ردالمحتار باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۷۷

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن