دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 7 | فتاوی رضویہ جلد ۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۷

درشرح او عنایہ القاضی ست ذکرالمحراب معانی المشھور منہا الاخیر ولذااقتصر علیہ اخیرافی قولہ کانھا [1] الخ درجلالین ست(المحراب) الغرفۃ وھی اشر المجالس [2]  درتفسیر کبیر ست المحراب الموضع العالی الشریف وقیل المحراب اشرف المجالس                      

مسجد کا محراب بھی اس کی اعلٰی واشرف جگہ ہوتی ہے ، یہ امام ابوحنیفہ سے ہے۔ ابوعبیدۃ کہتے ہیں کہ محراب مجالس کی اعلٰی واشرف جگہ ہوتی ہے اور اسی طرح مساجد کے محراب ہیں ۱ھ تلخیصًا۔ معالم التنزیل میں ہے محراب سے مراد مجالس کی اعلٰی اور مقدم جگہ ہے اور مسجد میں بھی محراب کا معاملہ ایساہی ہے۔ انوارالتنزیل میں ہے (محراب یعنی کمرہ یامسجد یاکمرہ ومسجد کی اعلٰی و اشرف جگہ مراد ہے یہ نام رکھنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ شیطان سے محاربہ کی جگہ ہوتی ہے گویا (سیّدہ مریم علیہا السلام) بیت المقدس کی اعلٰی جگہ پرپیداہوئیں ، اس کی شرح عنایۃ القاضی میں ہے کہ محراب کے متعدد معانی ہیں ان میں سے مشہور آخری ہے اسی لئے ماتن نے اس آخری معنی پر “ کانھاوضعت الخ “ کے الفاظ سے اقتصارکیا۔  جلالین میں ہے (محراب) کمرہ ، یہ مجالس کی اعلٰی جگہ ہوتی ہے۔  تفسیر کبیرمیں ہے محراب سے مراد بلندواعلٰی جگہ ہے ، بعض کے نزدیك مجالس کے لئے

وارفعھا [3] درکشاف ست غرفۃ وقیل اشرف المجالس ومقدمھا [4] این ست معظم عبارات ائمہ فن کہ ازہمان نفس موضع نشان می دہدہ ازصورت طاق وچسپاں ازونشان دہند کہ اوخودحادث ست درمساجد قدیمہ تاسال ہشتاد وہشت ہجری نامے ازاں نبود افضل المساجد مسجد الحرام ہنوزازان خالیست ودرمسجد اکرم سیدعالم   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  نیز نہ بزمان اقدس بودنہ بعہد خلفائے راشدین نہ بعہد امیرمعاویہ وعبداﷲ ابن زبیر  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم   اجمعین بلکہ ولیدبن عبدالملك مروانی زمانہ امارتِ خوداحداث کردہ است و مانا کہ حامل برآں غیرزینت اعلام مقام امام بعلامتے ظاہرہ متبینہ باشد کہ درتوسط صف خاصہ بمساجد کبارحاجت بنظروآزمودن نیفتدوبشب نیزبے روشنی مدرك شودوبرائے مقتدیاں بسجدہ امام درطاق فراخی فراغے ہم نماید چوں کارمشتمل مصالح بودرواج گرفت وزاں بازدرعامہ بلاداسلام معہود شد پس اطلاق محراب برآں نام مُعَیّن برائے مُعَیِّن ست اعنی تسمیۃ الدال باسم المدلول سیدسمہودی عــــہ                                         

اعلٰی وارفع جگہ ہے۔ کشاف میں ہے محراب کامعنی کمرہ ، بعض کے نزدیك مجالس کے لئے اعلٰی واشرف جگہ مراد ہوتی ہے۔

محراب کے بارے میں یہ ہیں تمام ائمہ فن کی عبارات جن سے واضح ہورہاہے کہ اس سے مراد جگہ ہے طاق وغیرہ کی صورت کانام نہیں بلکہ اٹھاسی۸۸ ہجری سے پہلے مساجد قدیمہ میں اس کا وجود نہ ہوتاتھا سب سے افضل مسجد مسجدحرام اس سے اب تك خالی ہے اور نبی اکرم   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  کی ظاہری حیات ، خلفاء راشدین ، امیرمعاویہ اور عبداﷲ بن زبیر   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم   کے دور میں مسجدنبوی میں صورت محراب نہیں تھی بلکہ ولیدبن عبدالملك مروانی نے اپنے دورامارت میں محراب بنایا اور یہ تسلیم ہے کہ زینت کے علاوہ امام کی جگہ پرعلامت کے طورپر محراب کاہونا بہترہے خصوصا بڑی مساجد میں تاکہ ہردفعہ غوروفکرنہ کرناپڑے اور رات کو بغیرروشنی کے امام کو پایاجاسکے اور امام کے محراب میں سجدہ کی وجہ سے مقتدیوں کووسعت بھی مل جاتی ہے توجب محراب میں یہ مصالح تھے تو اس کارواج ہوگیا اور تمام بلاد اسلامیہ میں یہ معروف ہواتو یہ یہاں مدلول کانام دال کودیاگیاہے۔ سیّدسمہودی قدس سرہ ، نے

عــــہ بتصریحات ھؤلاء الکبراء رحمھم اﷲ

اکابر  رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی   کی ان تصریحات سے یہ بات(باقی برصفحہ آئندہ)

قدس سرہ درخلاصہ الوفا در فصل ہشتم باب چہارم فرماید یحٰیی عن عبدالمھیمن بن عباس عن ابیہ مات عثمٰن ولیس فی المسجد شرفات ولامحراب فاول من احدث المحراب والشرفات عمربن عبدالعزیز[5]  ہمدر فصل دوم ازاں فرمودِ لم یکن للمسجد محراب فی عھدہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ولافی عھدالخلفاء بعدہ حتی اتخذعمربن عبدالعزیزفی امارۃ الولید[6]  امام عسقلانی درفتح الباری شرح صحیح بخاری آورد قال الکرمانی من حیث انہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کان یقوم بجنب المنبرای ولم یکن لمسجدہ محراب[7]  امام عینی درعمدۃ القاری شرح بخاری فرمود                                    

خلاصۃ الوفا کے باب چہارم کی آٹھویں فصل میں فرمایا یحیٰی نے عبدالمہیمن بن عباس انہوں نے اپنے والد سے بیان کیاکہ حضرت عثمان   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  شہید ہوئے تومسجد میں کنگرے اور محراب نہ تھے سب سے پہلے محراب اور کنگرے بنانے والے حضرت عمربن عبدالعزیز   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  ہیں ، اسی کی دوسری فصل میں ہے کہ رسالت مآب   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  کی ظاہری حیات اور خلفائے راشدین کے دور میں محراب نہ تھا حتی کہ امارتِ ولیدبن عبدالملك میں عمربن عبدالعزیز نے بنوایا۔ امام عسقلانی فتح الباری شرح البخاری میں فرماتے ہیں کہ امام کرمانی نے لکھا ہے کہ نبی اکرم   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  منبر کی ایك جانب کھڑے ہوتے یعنی اس وقت مسجد میں محراب نہ تھا۔ امام عینی نے عمدۃ القاری شرح البخاری میں فرمایا

 

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)

تعالٰی ظھران ماوقع فی الفتح مسألۃ القیام فی الطاق انہ نبی فی المساجد المحاریب من لدن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم[8]١ھ سہو فلیتنبہ ۱۲منہ غفرلہ(م)

واضح ہوگئی کہ فتح القدیر میں امام کے محراب میں کھڑاہونے کے بیان میں جوکہاگیاکہ یہ محراب مساجد میں رسالت مآب   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  کی ظاہری حیات سے ہیں سہووبھول ہے۱ھ اس پرمتنبہ رہناچاہئے ۱۲منہ غفرلہ (ت)

انہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کان یقوم بجنب المنبر لانہ لم یکن لمسجدہ محراب[9]علامہ شیخ محقق محدث دہلوی قدس سرہ العزیز در جزب القلوب شریف فرماید درزمان آں سرور   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  علامت محراب کہ الآن درمساجد متعارف ست نبودابتدائے آں ازوقت عمربن عبدالعزیزست دروقتیکہ امیرمدینہ منورہ بودازجانب ولیدبن عبدالملك اموی [10] ۱ھ ہمدرآن ست طول مسجد درزمان ولیددوئیست ذراع بودوعرض آں یکصدوشصت ہفت ذراع ووی درتکلف وتصنّع عمارت باقصی الغایۃ کوشیدوعلامت محراب کہ الآن درمساجد متعارف ست اوساخت وپیش ازاں نبود [11] ۱ھ مختصرًا ازیں تقریر منیر مستنیر شد کہ ہیچ مسجد شتوی خواہ صیفی



[1]   $&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن