30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یؤخرھم اﷲ عزوجل[1] رواہ مسلم وابوداؤد والنسائی وابن ماجۃ عن ابی سعید رضی اﷲ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وحدیث ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ لایصلین احدکم وبینہ وبین القبلۃ فجوۃ[2] رواہ عبدالرزاق فی مصنّفہ ، پس حکمت دروے توسیع برائے مقتدیاں وپس آیندگاں و عدم تضییق برذاکراں وگزرندگاں وعدم تعطیل پارہ ازقبلہ مسجد باہمال آں وتفاؤل حسن بقرب رحمت ونزدیکی رحمان ست جل وعلی فان احدکم اذاقام فی صلوتہ فانہ یناجی ربہ وان ربہ بینہ وبین القبلۃ[3] کمارواہ الشیخان وغیرھما عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پیداست ، وتعین ایں موضع رابطاق معروف بلکہ بہ ہیچ بناہرگزنیازنیست تاآنکہ اگرمسجد ساحتے سادہ باشد ایں موضع بتعیین وتحدید اوخودمتعین می شود درزبان عرب نیز معنی محراب باصورت طاق جفت نیست عرباں ہرمکان رفیع وصدرِ اﷲتعالٰی انہیں مؤخرفرمادے گا “ ۔ اسے مسلم ، ابوداؤد ، نسائی اور ابن ماجہ نے حضرت ابوسعید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے انہوں نے نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے روایت کیا۔ حضرت ابن سعد کی یہ حدیث کہ “ تم میں ہرگزکوئی نماز اس طرح ادا نہ کرے کہ اس کے اور قبلہ کے درمیان بیکارخالی جگہ رہے “ اسے عبدالرزاق نے مصنّف میں ذکرکیاہے ،
اس میں مقتدیوں اور بعد میں آنے والوں کے لئے وسعت ، ذاکرین اور گزرنے والوں کے لئے عدم تنگی ، مسجد کے قبلہ کی جانب کسی گوشے کامہمل نہ ہونا ، اﷲ تعالٰی کے قربِ رحمت کے لئے نیك فال ہے کیونکہ جب کوئی نماز میں کھڑا ہوتاہے تو وہ اپنے رب سے سرگوشی کررہاہوتاہے اس نمازی اور قبلہ کے درمیان اس کارب ہوتاہے جیسا کہ بخاری و مسلم وغیرہ نے حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اور نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے ذکرکیا ، محراب کوطاق معروف یاکسی اور تعمیر کی حاجت نہیں بلکہ اگرمسجد سادہ میدان ہو تو بھی مسجد کی حدود خودبخود متعین ہوجاتی ہیں اور عربی زبان میں محراب کااطلاق صرف طاق پرہی نہیں ہوتابلکہ ہربلند جگہ ، صدرمجلس اور گھر کی اعلٰی جگہ کو محراب کہا جاتا ہے
مجلس واشرف مواضع بیت رامحراب نامند لانہ ممایتنافس فیہ ویتنازع علیہ فربما ادی الی حرب وقتال وفی الحدیث اتقوا ھذہ المذابح یعنی المحاریب[4] رواہ الطبرانی فی الکبیر والبیہقی فی السنن عن عبداﷲ بن عمروبن العاص رضی اﷲ تعالٰی عنہما عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ، قال المناوی فی التیسرای تجنبوا تحری صدور المجالس یعنی التنافس فیھا [5] ومحراب مسجد حسب تصریح ائمہ لغت وتفسیر ازہمیں معنی ماخوذ ست لانہ صدرالمقام ومقدمہ واشرف موضع فیہ لکونہ مقام الامام اوسط قطعۃ تلی القبلۃ لاجرم محراب رابمطلق مقام فی المسجد تفسیرکردہ انددرمجمع بحارالانوار ست دخل محرابالھم ھو الموضع العالی المشرف وصدر المجلس ایضا ومنہ محراب المسجد وھو صدرہ واشرف موضع فیہ ومنہ[6] ح انس کان یکرہ المحاریب ای لم یکن یحب ان یجلس فی صدرالمجلس ویترفع علی الناس درقاموس فرمود المحراب الغرفۃ وصدر البیت واکرم
کیونکہ اس میں ایك دوسرے پررشك کرتے اور اس حصول میں جھگڑتے ہیں بسااوقات جنگ وقتال تك نوبت جاپہنچتی ہے ، اور حدیث میں ہے ان مذابح یعنی محرابوں سے بچو ، اسے طبرانی نے کبیر اور بیہقی نے سنن میں حضرت عبداﷲ بن عمروبن العاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم ا سے انہوں نے نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کیا ، شیخ مناوی نے تیسیر میں فرمایا یعنی صدور ِ مجالس کی تلاش سے بچویعنی اس میں تنافس سے بچو ، ائمہ لغت وتفسیر کی تفسیر کے مطابق مسجد کامحراب بھی اسی معنی سے ماخوذ ہے کیونکہ یہ صدرمقام اور اعلٰی جگہ ہوتی ہے اس لئے کہ امام کی جگہ قبلہ سے متصل سب سے وسط میں ہے اسی لئے محراب کی تفسیر مسجد میں مطلق مقام سے کی ہے ، مجمع بحارالانوار میں ہے وہ ان کے محراب میں داخل ہوا اور وہ محراب بلندو عالی جگہ ہے ، صدرمجلس کوبھی کہاجاتاہے اسی سے محراب مسجد ہے اور یہ صدر اور اعلٰی جگہ ہے ، اسی پرحدیث دال ہے کہ حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ محاریب کوپسند نہ کرتے یعنی لوگوں پربلند اور صدرمجلس کے طورپربیٹھنا پسند نہ کرتے۔ قاموس میں ہے محراب الماری ، صدرگھر ، گھرکااعلٰی مقام ،
مواضعہ ومقام الامام من المسجد و الموضع ینفرد بہ الملك فیتباعد عن الناس [7] درمختار رازی منتخب صحاح ست المحراب صدر المجلس ومنہ محراب المسجد[8] درصراح ست محاریب پیشگاہ ہائے مجالس ومنہ محراب المسجد[9] درمصباح المنیر ست المحراب صدر المجلس ویقال ھو اشرف المجالس وھوحیث یجلس الملوك والسادات و العظماء ومنہ محراب المصلی [10] درتاج العروس ست المحراب الغرفۃ وموضع العالی نقلہ الھروی فی غریبیہ عن الاصمعی وقال الزجاج المحراب ارفع بیت فی الدار وارفع مکان فی المسجد وقال ابوعبیدۃ المحراب اشرف الاماکن قال ابن الانباری سمی محراب المسجد لانفراد الامام فیہ وبعدہ من القوم[11] وفی لسان العرب المحاریب صدورالمجالس ومنہ محراب المسجد ومنہ محاریب غمدان بالیمن والمحراب القبلۃ ومحراب
مسجد میں امام کی جگہ ، اور اس جگہ کوکہتے ہیں جہاں بادشاہ تنہا بیٹھتاہو تاکہ لوگ دُور رہیں ، مختار رازی منتخب صحاح میں ہے کہ محراب صدرمجلس کو کہاجاتاہے ، اور اسی سے محراب مسجد ہے۔ صراح میں ہے محاریب مجالس کی اگلی جگہ ، اسی سے محراب مسجد ہے۔ مصباح المنیر میں ہے محراب مجلس کے لئے اونچی جگہ کوکہاجاتا ہے وہ اعلٰی جگہ ہے کہ وہاں بادشاہ ، سادات اور بڑے لوگ بیٹھتے ہیں ، اسی سے عیدگاہ کا محراب ہے۔ تاج العروس میں ہے لفظ محراب کو ہروی نے غریب میں اصمعی سے نقل کیا ، اور زجاج نے کہا کہ گھر کاسب سے بلندمقام محراب کہلاتاہے اور مسجد میں بلند جگہ۔ ابوعبیدہ نے کہا محراب بزرگ جگہ ہے۔ ابن الانباری کہتے ہیں کہ محراب کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ اس میں امام اکیلا کھڑاہوتاہے اور لوگوں سے دورہوتاہے۔ لسان العرب میں ہے کہ محاریب سے مراد جائے صدور ہے اسی سے محراب مسجد ہے ، اسی سے محراب مسجد ہے ، اسی سے یمن میں غمدان کے محراب اور محراب قبلہ ہے ،
المسجد ایضا صدورہ واشرف موضع فیہ والمحراب اکرم مجالس الملوك عن ابی حنیفۃ ، وقال ابوعبیدۃ المحراب سیّد المجالس ومقدمھا واشرفھا قال وکذلك ھو من المساجد[12] ھ ملخصًا ۔ درمعالم التنزیل فرمود المحراب اشرف المجالس ومقدمھا وکذلك ھو من المسجد[13] درانوارالتنزیل ست (المحراب) ای الغرفۃ اوالمسجد اواشرف مواضعہ ومقدمھا سمی بہ لانہ محل محاربۃ الشیطان کانھا (ای سیدتنا مریم) وضعت فی اشرف موضع من بیت المقدس[14]
[1] صحیح مسلم با ب تسویۃالصفوف واقامتہا مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۸۲
[2] المصنف لعبدالرزاق نمبر۲۳۰۶ باب کم یکون بین الرجل وبین سترتہ مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۲ / ۱۶
[3] صحیح البخاری حك البزاق بالید من المسجد مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۵۸
[4] السنن الکبرٰی للبیہقی باب فی کیفیۃ بناء المسجد مطبوعہ دارصادر بیروت ۲ / ۴۳۹
[5] فیض القدیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث ۱۵۲ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۱۴۴
[6] مجمع بحارالانوار باب الحاء مع الراء
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع