30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ووقف شدہ ہو اور ہرلحاظ سے بندوں کے حقوق سے علیحدہ کیاگیاہو اس کی حقیقت میں عمارت کاکوئی دخل نہیں ، خانیہ اور ہندیہ میں ذخیرہ سے وہاں امام صدرالشہید کے واقعات کے حوالے سے ہے کہ ایك آدمی کی کھلی جگہ تھی جس میں کوئی
فیہا امر قوما ان یصلوافیھا ابداوامرھم بالصلٰوۃ مطلقا ونوی الابد صارت الساحۃ مسجدا لومات لایورث عنہ[1] ١ھ مختصرا درآیہ کریمہ اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ [2] وکریمہ وَ لَا تُبَاشِرُوْهُنَّ وَ اَنْتُمْ عٰكِفُوْنَۙ-فِی الْمَسٰجِدِؕ- [3] وحدیث خیر البقاع المساجد شر البقاع الاسواق[4] رواہ الطبرانی وابن حبان والحاکم بسند صحیح عن ابن عمر ومعناہ لمسلم عن ابی ھریرۃ ولاحمد والحاکم عن جبیربن مطعم رضی اﷲ تعالٰی عنم عن النبی صلی اﷲ تعالٰی عنھم عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وحدیث لاصلٰوۃ لجارالمسجد الافی المسجد[5] رواہ الدارقطنی عن جابر وابی ھریرۃ وفی الباب عن امیرالمؤمنین علی وعن ام
تعمیر نہ تھی اس نے لوگوں سے کہا یہاں تم ہمیشہ نماز پڑھاکرویاصرف مطلق نماز کاحکم کیا اور ہمیشگی کی نیت کی تویہ جگہ مسجد قرارپائے گی اب وہ شخص اگرفوت ہوجاتاہے تو اس کے ورثا اس زمین کے مالك نہ ہوں گے۱ھ آیت مبارکہ “ اﷲ کی مساجد وہی تعمیر کرتے ہیں جو اﷲ پرایمان لاتے ہیں “ ۔ آیت کریمہ “ جب تم مساجدمیں معتکف ہوتواپنی بیویوں سے مباشرت نہ کرو “ اور یہ حدیث کہ “ سب سے اعلٰی جگہ مساجد ہیں اور بدترجگہ بازارہیں “ ۔ اسے طبرانی ، ابن حبان اور حاکم نے صحیح سند کے ساتھ حضرت عبداﷲ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم ا سے اور مسلم نے اسی معنی کی روایت حضرت ابوہریرہ سے امام احمد اور حاکم نے حضرت جبیربن مطعم سے اور انہوں نے نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے بیان کیا ہے۔ یہ اور حدیث کہ “ مسجدکے پڑوسی کی نمازمسجد کے علاوہ نہیں “ ۔ اسے دار قطنی نے حضرت جابر اور حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے روایت کیاہے ، اس سلسلہ میں امیرالمومنین
المؤمنین الصدیقۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھم کلھم عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ۔
واکثراحادیث واحکام فقہیہ متعلقہ بمساجد نظراصلی یاکلی بہمیں حقیقت است و اوراصورتے ست کہ عبارت ازبنائے مخصوص بروجہ مخصوص درآیہ کریمہ
وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَ بِیَعٌ وَّ صَلَوٰتٌ وَّ مَسٰجِدُ یُذْكَرُ فِیْهَا اسْمُ اللّٰهِ كَثِیْرًاؕ-[6] وکریمہ وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مَسْجِدًا ضِرَارًا [7] وحدیث ابنوا المساجد واتخذواھا جمّا[8] رواہ البیھقی عن انس وابن ابی شیبۃ عنہ و عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنھم عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وحدیث ماامرت بتشیید المساجد[9] رواہ ابوداؤد عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما بسند صحیح عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔
ومسئلہ نقش ونگار مسجد بآب زروغیرہا مراد ہمیں صورت حضرت علی اور ام المومنین حضرت صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم ا نے نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے روایت کیاہے۔ یہ تمام اوردیگر احادیث اور احکام فقہیہ کاتعلق بنظراصلی یاکلی مسجد کی حقیقت کے ساتھ ہے البتہ مسجد کی ایك صورت ہوتی ہے جوبنائے مخصوص بروجہ مخصوص سے عبارت ہے ، درج ذیل آیات اور احادیث میں یہی صورت مراد ہے “ اگراﷲتعالٰی بعض کو بعض کے ذریعے دفع نہ کرتاتویہود ونصارٰی کی عبادت گاہیں اور مساجد گرادی جاتیں جن میں اﷲ کاذکرکثیرکیاجاتاہے “ وہ لوگ جنہوں نے مسجدضرار کوبنایا ، اور حدیث “ مساجدمُنڈی بناؤ اور ان میں کِنگرے نہ رکھو “ ۔ اسے بیہقی نے حضرت انس اور ابن شیبہ نے ان سے اور حضرت ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم سے انہوں نے نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے روایت کیا ، حدیث “ مجھے مساجد مزیّن کرنے کاحکم نہیں دیاگیا “ اسے ابوداؤد نے حضرت ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم ا سے صحیح سند کے ساتھ نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے بیان کیا۔
مسجد کوسونے کے پانی کے ساتھ نقش ونگار کرنے کاتعلق صورتِ مسجد کے ساتھ ست ہمچناں محراب صورتے دارد وآں طاق معین درجدارقبلہ است وحقیقتش کہ ایں صورت برآں علم باشد موضعے ست ازمسجد برائے قیام امام ملحوظ بدولحاظ یکے آنکہ درعرض مسجد(کہ خط عموداست برخط مار ازمصلی بقبلہ چنانکہ دردیارِ ماجنوبًا شمالًا) واقع دروسط بود لحدیث وسّطوا الامام وسُدّوالخلل[10] رواہ ابوداؤد عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وحکمت درآں تعدیل واعتدال درقرب وبُعد رجال وسماع قرأت واطلاع انتقال وسریان فیوض بہ یمین و شمال ازامام ست دوم آنکہ درجہت قبلہ تاحد تیسر شرعی وعادی ہرچہ تمام تراقرب بقبلہ باشد لحدیث کان بین مصلی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وبین الجدار ممرالشاۃ [11] ، رواہ الائمۃ احمد والشیخان عن سہل بن سعد رضی اﷲ تعالٰی عنہ وحدیث لایزال قوم یتأخرون حتی
ہی ہے۔ اسی طرح محراب کی ایك صورت ہے کہ وہ طاق جوقبلہ کی دیوارمیں ہوتاہے اور اس کی حقیقت جس پریہ صورت علامت ہے وہ جگہ ہے جوقیام امام کے لئے دولحاظ سے ہو ، اس میں ایك لحاظ یہ ہو کہ عرض مسجد میں (کہ گزرنے والے خط پرخط عمود ہوجونمازی سے قبلہ کی طرف گزرنے والے خط پر جیسا کہ ہمارے علاقے میں جنوبًا شمالًا) وسط میں واقع ہے اس حدیث کی وجہ سے کہ “ امام کو درمیان میں کھڑا کرو اور صفوں کے رخنے بند کرو “ اسے ابوداؤد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے اور انہوں نے نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے روایت کیاہے ، اوراس میں حکمت یہ ہے کہ لوگوں کے قرب وبعد میں برابری ہوتاکہ قرأت سننے ، امام کے اوپرنیچے انتقال پراطلاع اور دائیں بائیں لوگوں پرفیضان میں آسانی ہوجائے ، دوسرالحاظ یہ کہ جہت قبلہ میں ہوتاکہ حدشرعی وعادی تمام ترقبلہ سے اقرب ہو اس حدیث کی بناپر کہ نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے مصلّٰی اور دیوار کے درمیان بکری کے گزرنے کی جگہ ہوتی ، اسے امام احمد ، بخاری ومسلم نے حضرت سہل بن سعد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت کیا ،
اور یہ حدیث کہ “ ہمیشہ لوگ پیچھے ہوتے رہیں گے حتّٰی کہ
[1] فتاوٰی ہندیہ باب المسجد ومایتعلی بہ مطبوعنہ نوارنی کتب خانہ پشاور ۲ / ۴۵۵
[2] القرآن ۹ / ۱۸
[3] القرآن ۲ / ۱۸۷
[4] مجمع الزوائدبحوالہ طبرانی عن ابن عمر باب فضل المسجد مطبوعہ دارالکتاب بیروت ۲ / ۶ ، الجامع الصغیر حدیث ۴۰۰۲ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۳ / ۴۷۰ ، کنزالعمال فضائل المسجد مطبوعہ مکتبۃ التراث الاسلامی مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۷ / ۵۲۔ ۶۵۸
[5] سنن الدارقطنی کتاب الصلوٰۃ مطبوعہ نشرالسنۃ ملتان ۱ / ۴۲۰
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع