30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہم اس عمل سے حضوراکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی ظاہری حیات میں بچاکرتے تھے(ت)
کما بیّناہ فی فتاوینا (جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوٰی میں اسے بیان کیاہے۔ ت) یہ حکم منفرد مقتدی کے لئے تھا ، رہا امام اس کے لئے ہمارے امام اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا ہے کہ در میں کھڑے ہونامکروہ ہے ، تاتارخانیہ و ردالمحتار میں امام سے ہے :
انی اکرہ للامام ان یقوم بین الساریتین[1]۔
میں امام کے ستونوں کے درمیان کھڑاہونے کومکروہ سمجھتاہوں ۔ (ت)
اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ عمل خلاف امت ہے کما فی المعراج وغیرہ (جیسا کہ معراج وغیرہ میں ہے۔ ت) اور دوسرے یہ کہ امام ومقتدی کادرجہ بدل گیا اگرامام ایك درجہ میں تنہا ہے اور مقتدی دوسرے درجے میں ہے تویہ مکروہ ہے کمانص علیہ القھستانی فی شرح النقایۃ (جیسا کہ قہستانی نے شرح نقایہ میں اس پرنص وارد کی ہے۔ ت) در کاآس پاس کے دروں سے آگے نکلاہونا اس سے کراہت کادفع نہیں ہوسکتا البتہ امام درکے باہرکھڑا ہو اورسجدہ درکے اندرکرے تووہ کراہت جاتی رہے گی کہ اب امام ومقتدی ایك ہی درجہ میں ہیں لان العبرۃ للقدم [2] کما نصواعلیہ (کیونکہ اعتبار قدم کاہے جیسا کہ اس پرفقہا نے تصریح کی ہے۔ ت) مگر اب غالب مساجد میں ایك اور کراہت پیش آئے گی وہ یہ ہے کہ اگلے درجے کی کرسی صحن سے بلند ہوتی ہے توکھڑا ہوانیچے اور سجدہ بلندی پرکیایہ بلندی اگردوخشت بخارا یعنی ۱۲ انگل یعنی پاؤگز کی قدرہوئی جب تونماز ہی نہ ہوگی کما نص علیہ فی الدر المختار (جیسا کہ درمختارمیں اس پرنص وارد کی گئی ہے۔ ت)اور اگر اس سے کم ہوئی جب بھی کراہت سے خالی نہیں ، لہٰذا اس کاعلاج یہ ہے کہ در کی کرسی اس قدر جس میں امام سجدہ کرسکے زمین کاٹ کر صحن کے برابر کردی جائے اب امام در کے باہر کھڑا ہو اور اس کٹی ہوئی زمین میں سجدہ کرے سب کراہتیں جاتی رہیں اور وہ جو چوکی رکھ دیتے ہیں یالکڑی وغیرہ کاچبوترہ بنادیتے ہیں اس سے اگرچہ دو۲کراہتیں جاتی رہیں کہ اب نہ امام درمیں ہے نہ اس کاسجدہ پاؤں کی جگہ سے بلند ہے مگرتیسری کراہت اور عارض ہوئی کہ امام کومقتدیوں سے بببلندجگہ بقدرامتیاز کھڑاہونا بھی مکروہ ہے کما فی الدرالمختار وھو الاصح المختار (جیسا کہ در مختار میں ہے اور یہ اصح و مختارہے۔ ت) اور مشابہت یہود ہے ، اور حدیث میں فرمایا :
لاتشبھوا بالیھود [3]وقد قالوا انھم یقیمون امامھم علٰی دکان ممتازا عمن خلفہ۔
یہودکے ساتھ مشابہت نہ کرو ، اور منقول ہےکہ یہود اپنے ائمہ کو بلند جگہ کھڑاکرتے تھے تاکہ وہ مقتدیوں سے ممتازہو جائے۔ (ت) توچارہ کاروہی ہے جواُوپربتایاگیا۔ واﷲ تعالٰی اعلم
___________________
تیجان الصواب فی قیام الامام فی المحراب ۱۳۲۰ھ
(محراب میں قیام امام سے متعلق درستگی کے تاج)
(محراب کے معنی اور امام کے محراب میں کھڑا ہونے پرنفیس بحث)
مسئلہ ۱۰۰۰ : ازجبل پور قریب مسجد کوتوالی مرسلہ مولٰنا مولوی شاہ محمد عبدالسلام صاحب قادری برکاتی ۶جمادی الاخری ۱۳۲۰ھ
اما بعد مایقول سیدنا وسندنا ومولٰنا ومرشدنا والذخرلیومنا وغدنا و وسیلتنا وبرکتنا فی الدنیا والدین ، اٰیۃ من اٰیات اﷲ رب العٰلمین ، نعمۃ اﷲ علی المسلمین ، اعلم العلماء المتبحرین افضل الفضلاء المتصدرین ، تاج المحققین سراج المدققین ، مالك ازمۃ الفتاوی و المفتین ، ذوالمقامات الفاخرۃ والکمالات الزاھرہ الباھرۃ ، صاحب الحجۃ القاھرۃ ، مجدد المائۃ الحاضرۃ ، العلامۃ الاجل الابجل ، حلال عقدۃ مالاینحل ، بحرالعلوم ، کاشف السر المکتوم ، صدرالشریعۃ ، محی السنۃ ، المحدّث
حمدوصلوٰۃ کے بعد ، کیافرماتے ہیں ہمارے سربراہ وآقا ، مرشد ، ہمارے آج اور کل کے لئے ذخیرہ ، دنیاوآخرت میں ہمارے وسیلہ ، اﷲ رب العالمین کی نشانیوں میں سے ایك نشانی ، مسلمانوں پر اﷲ کی نعمت ، متبحرعلماء سے زیادہ صاحب علم فضلاء سے افضل ، تاج المحققین ، سراج المدققین ، فتاوٰی اور اصحاب فتاوٰی کے شیخ ، صاحب مقامات کاملہ اور کمالات زاہرہ و باہرہ ، صاحب حجت قاہرہ ، مجددمائۃ حاضرہ ، علامہ اجل وابجل ، نہ کھلنے والے عقدوں کوکھولنے والے ، علوم کے سمندر ، مخفی رازوں کے واضح کرنے والے ، صدرالشریعۃ ، سنت کوزندہ کرنے والے ، عظیم محدث و
الفقیہ العدیم النظیر النحریر لازالت لوامع افکارہ توضح غوامض المشکلات وانواراسرارہ تحل المعضلات فی ھذالمرام۔
سوال اوّل : امام راتب اگرمحراب راگزاشتہ درمسجد یادرصحن بأزائے وسط قیام نماید آیا ایں ترك مقام معین ومقام درغیرمحراب مکروہ باشد یانہ برتقدیراول انچہ درکتاب مستطاب ردالمحتار درباب الامامۃ مذکورست والظاھر ان ھذا فی الامام الراتب لجماعۃ کثیرۃ لئلا یلزم عدم قیامہ فی الوسط فلولم یلزم ذلك لایکرہ[4] فما لمراد منہ وبرتقدیر ثانی آنچہ درہماں کتاب درمکروہات الصلوٰۃ مسطوراست ومقتضاہ ان الامام لوترك المحراب وقام فی غیرہ یکرہ ولوکان قیامہ وسط الصف لانہ خلاف عمل الامۃ وھوظاھر فی الامام الراتب دون غیرہ والمنفرد[5] الخ فمالمستفاد عنہ ازعبارت اولٰی مفہوم می شود کہ ترك محراب سبب کراہت نیست بلکہ لزوم عدم قیام فی الوسط باعث کراہت است پس اگرامام راتب ہم ترك محراب نمودہ درغیرمحراب بمحاذات وسط صف فقیہ ، جن کی مثالیں نہیں ، آپ کے افکار عالیہ ہمیشہ نہایت ہی مشکل پیچیدگیوں کوواضح کرتے رہیں ، اور آپ کے اسرار کے نور اس مقصد کی مشکلات روشن کرتے رہیں ۔
سوال اول : مقررہ امام اگرمحراب چھوڑکرمسجد یاصحن مسجد محراب کے مقابل درمیان میں کھڑاہوا توکیامقام مقررہ کاچھوڑنامکروہ ہے یانہیں ؟ اگرمکروہ ہے توردالمحتارکے باب الامامت کی اس عبارت کہ “ ظاہریہ ہے کہ یہ اس امام مقرر کے لئے ہے جوجماعت کثیرہ کاہو ، تاکہ اس کاوسط میں کھڑانہ ہونالازم آئے ، اور اگر ایسی صورت نہیں توکراہت نہیں “ کاکیامعنی ہوگا؟ اور مکروہ نہیں تو اس کتاب کے باب مکروہات نمازمیں تحریرہے “ اور اس کاتقاضایہ ہے کہ اگرامام نے محراب چھوڑدیا اور دوسری جگہ کھڑاہوگیا تومکروہ ہے اگرچہ اس کاقیام صف کے درمیان میں ہی کیوں نہ ہو کیونکہ اس کایہ عمل امت کے عمل کے خلاف ہے اور یہ بات مقررہ امام میں واضح ہے مگرغیرمقرر امام اور منفرد میں نہیں “ تواس کا مفہوم کیاہوگا؟ پہلی عبارت سے یہ سمجھ آرہاہے کہ ترك محراب کراہت کاسبب نہیں بلکہ وسط میں کھڑانہ ہونا سبب کراہت ہے لہٰذا اگرمقررامام بھی محراب ترك کردے اور کسی اورمقام پر اس کے
[1] ردالمحتار باب مکروہات الصلوٰۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۷۸
[2] درمختار باب مایفسد الصلوٰۃ الخ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۹۲
[3] جامع الترمذی باب ماجاء فی کراہیۃ اشارۃ الید فی السلام مطبوعہ امین کمپنی دہلی ۲ / ۹۴
[4] ردالمحتار مطلب فی کراہۃ قیام الامام فی غیرالمحراب مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱ / ۵۶۸
[5] ردالمحتار مطلب اذاتردد الحکم بین سنۃ وبدعت مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی $&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع