دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 7 | فتاوی رضویہ جلد ۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۷

باجماعت فرض نماز کی ادائیگی کے لئے اذان سنت ہے اور بعض نے اسے واجب کہاہے صحیح یہ ہے کہ یہ سنت مؤکدہ ہے۔ (ت)

پس حصول ثواب نفس جماعت کہاں بلکہ بوجہ ترك سنّت مؤکدہ کے موجب معصیت ہے۔

کماقال العلامۃ الشامی صرح العلامۃ ابن نجیم فی رسالتہ المؤلفۃ فی بیان المعاصی بان کل مکروہ تحریما من الصغائر[1]  وصرح ایضا بانھم شرطوا لاسقاط العدالۃ بالصغیرۃ الادمان [2]علیھا۔

جیسا کہ علامہ شامی نے فرمایا علامہ ابن نجیم نے اپنے اس رسالہ میں جو انہوں نے بیان معاصی میں تحریر کیاہے فرمایا : ہرمکروہ تحریمی صغائر میں سے ہے ، اور یہ بھی صریح کی ہے کہ اہل علم نے صغیرہ کے سبب اسقاط عدالت کے لئے اس پر ہمیشگی کوشرط قراردیاہے۔ (ت)

اور جوجماعت بعد کومع اذان ہوگی وہ بلاکراہت ہوگی کمامر (جیسا کہ گزرا۔ ت) فقط

جواب سوال دویم : کایہ ہے کہ جواب سوال اول سے بخوبی مبرہن ہوگیا کہ شرعًا یہ جماعت مکروہ تحریمہ ہے پس دوسرے شخص کااس معذور کے ساتھ قبل اذان کے بخوف فوت نماز تہجد کے نماز پڑھنا ترك کرنا جماعت کاہے اور ترك جماعت کہ سنت مؤکدہ قریب واجب کے ہے واسطے ادائے صلوٰۃ تہجد کے کہ مستحب ہے درست نہیں اس واسطے کہ ترك سنت معصیت ہے برخلاف امرمندوب کہ وہ معصیت نہیں ، درمختار میں لکھاہے :

ومن المندوبات رکعتا السفر والقدوم منہ                                    سفر پرجانے اور اس سے واپسی پر دو۲ رکعت اور

وصلوۃ اللیل[3]۔

رات کی نماز مندوبات سے ہے۔ (ت)

علامہ شامی تحریر فرماتے ہیں :

قال فی البحر الذی یظھر من کلام اھل المذہب ان الاثم منوط بترك الواجب اوالسنۃ المؤکدۃ علی الصحیح لتصریحھم بان من ترك سنن الصلوات لخمس قیل لایأثم والصحیح انہ یأثم وتصریحھم بالاثم لمن ترك الجماعۃ مع انھا سنۃ مؤکدۃ علی الصحیح[4]۔  فقط                         

بحر میں ہے کہ اہل مذہب کے کلام سے یہ ظاہر ہورہاہے کہ صحیح مذہب پرگناہ تب ہوگا جب ترك واجب یاترك سنت سنت مؤکدہ ہو کیونکہ علماء کی تصریح ہے جو شخص صلوات خمسہ کی سنن ترك کردے ایك قول کے مطابق گنہگار نہ ہوگا اور صحیح یہ ہے کہ گنہگار ہوگا اور اس بات کی بھی تصریح کی ہے کہ جماعت کا ترك گناہ ہے حالانکہ وہ صحیح قول کے مطابق سنت مؤکدہ ہے۔ (ت)

جواب سوال سوم : بہتر یہ ہے کہ بخوف فوت تہجد کے اس قدر قیلولہ نہ کرے کہ جوموجب ترك فضیلت جماعت اولٰی کاہووے ولہٰذا اگر کرے توجائز ہے بشرطیکہ جماعت ترك نہ ہوجائے کہ جماعت ثانیہ ہووے اس لئے کہ ہمارے اساتذہ رحمہم الله تعالی کے نزدیك قول محقق یہی ہے کہ جماعت ثانیہ بلاکراہت درست ہے اور مساوی ہے ثواب میں نفس جماعت اولٰی کے ، اور جماعت اولٰی ، اولٰی ہے ، چنانچہ میرے استاد کامل ومحدث والد ماجد قدس سرہ ، کااثبات جماعت ثانیہ کے بارہ میں ایك رسالہ مبسوط ہے من شاء فلیطلع علیھا (جوشخص تفصیل چاہے اس کا مطالعہ کرے۔ ت) بناء ً علیہ واسطے ادائے نماز تہجد کے کہ اعلٰی درجہ کی مستحب ہے اس قدر قیلولہ کرنا کہ جس سے جماعت اولٰی ترك ہوجائے نہ مطلق جماعت بلاشبہ جائز ہے اس لئے کہ فضیلت جماعت کی مساوی فضیلت تہجد کے نہیں ہے بلکہ کمتر ہے من شاء فلیطالع الاحادیث المرویۃ فی ھذاالباب من الصحاح والحسان (جوشخص تفصیل چاہتا ہے وہ ان احادیث صحیحہ اور حسان کامطالعہ کرے جو اس مسئلہ کے بارے میں مروی ہیں ۔ ت) فقط۔

جواب سوال چہارم : بحالت عذرشرعی کے بھی قبل اذان کے مسجد میں جماعت کرنااشخاص مندرجہ سوال کا درست نہیں مکروہ ہے البتہ بعد اذان کے درست ہے

کما فی الھندیۃ ویکرہ اداء المکتوبۃ بالجماعۃ فی المسجد بغیر اذان واقامۃ[5]۔

جیسا کہ ہندیہ میں ہے مسجد میں اذان واقامت کے بغیر فرض نماز کی جماعت مکروہ ہے۔ (ت)

یہی حکم صورمسؤلہ کا کہ تحریر ہوا والله تعالٰی اعلم بالصواب والیہ المرجع والماب فقط حررہ العبد المفتقر الی الله الغنی محمد قاسم علی عفی عنہ

                  قاسم علی خلف۱۲۹۶مولٰنا محمد عالم علی                                                                                                                                                         الجواب الصحیح و المجیب نجیح                                                                                                                                                                                        بینظیر ۱۳۰۰ھ شگفتہ محمد گل

الجواب :
اللھم ھدایۃ الحق والصواب

(اے الله ! حق اور صواب کی ہدایت عطافرما)

بسم الله الرحمٰن الرحیم٭ الحمدلله الذی یدہ علی الجماعۃ والصلٰوۃ والسلام علی صاحب الشفاعۃ واٰلہٖ وصحبہ اولی البراعۃ وسائر اھل السنۃ والجماعۃ۔

شروع الله کے نام سے جونہایت رحمت والا اور مہربان ہے ، تمام تعریف الله تعالٰی کے لئے جس کامبارك ہاتھ جماعت پرہے اور صلوٰۃ وسلام اس ذات اقدس پر ہو جو صاحب شفاعت ہے اور آپ کی آل اور اصحاب پر جو صاحب فضیلت ہیں ، اور تمام اہل سنت وجماعت پر۔ (ت)

جواب سوال اوّل وچہارم : ہاں فعل مذکور مکروہ ومحظور ہے نہ اس وجہ سے کہ معذور سے جماعت ساقط یااسے بے جماعت ثواب ثابت کہ : اولًا ساقط وجوب ہے نہ جواز بلکہ جماعت افضل اورعزیمت ،

وفی ردالمحتار قولہ من غیر حرج قید لکونھا سنّۃ مؤکدۃ اوواجبۃ فبالحرج یرتفع الاثم ویرخص فی ترکہا ولکنہ یفوتہ الافضل[6] الخ۔

ردالمحتارمیں ہے کہ ماتن کاقول من غیرحرج قید ہے اس بات کی کہ جماعت سنت مؤکدہ یاواجب ہے اور حرج کی وجہ سے گناہ ختم ، اور جماعت کے ترك میں رخصت ہوگی البتہ وہ افضل کو فوت کردے گاالخ(ت)

ثانیًا نہ بے جماعت ثواب مانع جماعت فشتان مابین الحکم والحقیقۃ (حکم اورحقیقت میں نہایت ہی فرق ہے ۔ ت) سورئہ اخلاص ثلث قرآن عظیم کے برابر ہے کیا تین بار اسے پڑھنے والا ختم قرآن سے ممنوع ہوگا(نماز مع) جماعت عشاء قیام نصف شب اور مع جماعت فجر قیام تمام لیل کے مساوی ہے کیا یہ نمازیں جماعت سے پڑھنے والا احیائے لیل سے بازرکھاجائے گا ، شرع میں اس کی نظائر ہزاردوہزار ہیں ۔

 



[1]   ردالمحتار مطلب لمکروہ تجزی من الصفائہ الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۳۳۷

[2]   ردالمحتار مطلب لمکروہ تجزی من الصفائہ الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۳۳۷

[3]   درمختار ،   باب الوتر والنوافل مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ، ۱ / ۹۶

[4]   ردالمحتار مطلب فی السنۃ وتعریفہا مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۷۷

[5]   فتاوٰی ہندیہ الفصل الاول فی صفۃ واحوال المؤذن  مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۵۴

[6]   ردالمحتار مطلب فی تکرار الجماعۃ فی المسجد مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۱۰

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن